outline
ilyas-ghumn-interview

مولانا الیاس گھمن کا سوشل میڈیا پر لگائے گئے الزامات کے جواب میں ’’آؤٹ لائن ‘‘ کو تہلکہ خیز انٹرویو

سرگودھا(انٹرویو: محمد بلال غوری)
مولانا الیاس گھمن کسی تعارف کے محتاج نہیں۔حرکت المجاہدین کے سابقہ کمانڈرعالمی اتحاد اہلسنت والجماعت کے رہنماء،شعلہ بیاں خطیب اور مقرر ہیں۔سرگودھا میں بچوں اور بچیوں کے دینی مدارس چلاتے ہیں ۔انہوں نے 5اپریل2012ء کو مفتی زین العابدین کی صاحبزادی سمیعہ زین العابدین سے شادی کی۔یہ خاتون پہلے سے شادی شدہ تھیں ۔چند برس بعد ہی علیحدگی ہوگئی اور سمیعہ زین العابدین نے اپنے سابقہ شوہر پر انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیئے ۔یہ بھی کہا کہ مولانا نے ان کی بیٹی جو پچھلے گھر سے تھی ،اس سے دست درازی کی کوشش کی۔سوشل میڈیا پر بے پرکی اڑائی جا رہی تھیں ،ایسی صورتحال میں ہم نے مناسب سمجھا کہ مولانا الیاس گھمن سے براہ ارست رابطہ کر کے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی جائے۔اس انٹرویو میں مولانا الیاس گھمن نے نہ صرف اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا جواب دیا ہے بلکہ چند ناقابل تردید شواہد اور ثبوت بھی پیش کیئے ہیں۔ملاحظہ کیجئے:

42 تبصرے

  1. Allah talah in logon ko ebrat ka nishan bnay jo humara ulama e kiram ka khilaf propegandha krta hen or ilzamaat lagat hen…
    Allah hazrat ghuman sb ka ilmo ,amal,umar or taqwa men mazeed barkaten ata frmay….

  2. یہ کوئی ایسی آتینٹک بحث نہیں تھی جس سے ثابت ہو کہ واقعی یہ مولانا بے گناہ ہے..اگر اپ واقعی میں مخلص ہو کہ حقیقت کیا ہے تو اس عورت یعنی ان کی جو بیوی تھی جنہوں نے الزامات لگائے ہیں تو ان کو اس مولانا کے سامنے بیٹھا کہ یہ سب پوچھا جاتا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا لیکن میرے خیال سے اپ بھی مخلص نہیں ہو اور یک طرفی سے کام لے رہے ہو

    1. agr ulumaa k mahafil b urtoon c bhar jaen,to phir zamany ma koi kher nahi. aur haan sahab g itne dalayel aur shawahed k bawajood agr apko yaqeen nahi ata,,,to ALLAH hi apko yaqeen delayen.

  3. اگر مولانا صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں تو ان کو اپنی سابق بیوی کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کرنا چاہیے۔

  4. پس ثابت ہوا کہ مردوں کے معاشرے مرد کی آواز پھیلانے والے تو بہت ہیں مگر عورت کی خاموشی کو زبان دینے والا کوئی نہیں ۔۔۔
    آپ نے جب انٹرویو کیا تو کیا آپ کے ذہن میں یہ سوال کیوں نہیں اٹھے
    ٭ آپ کی ایکس وائف آپ پر یہ الزام کیوں لگارہی ہے جب اس الزام کی زد میں اس کی اپنی بیٹی کی زندگی بھی برباد ہونے کا سو فیصد امکان موجود ہے ؟
    اگر آپ کہتے ہیں کہ اس لئے کہ آپ نے چوتھی شادی کی تھی اس وجہ سے وہ ایسا الزام لگاتی ہے تو
    کیا کوئی ماں ایسے ایسے شخص کو چوتھی شادی سے منع کرنے کیلئے ایسا سنگین الزام کیوں لگائے گی جس الزام کے تحت اس کی اپنے بچوں کی زندگی خراب ہونے کا خطرہ ہو، ایسی بیوی جس کو پہلے سے پتہ ہو کہ اس کے خاوند کی دوبیویاں پہلے سے موجود ہیں ، وہ چوتھی شادی پر اس قدر ناراض کیسے ہوسکتی ہے َ ایسی بیوی جو سابقہ خاوند کے ساتھ زندگی کے جذباتی ماہ و سال پہلے سے گذار چکی ہو وہ کیوں خاوند کو چوتھی شادی پر اس قسم کا رد عمل دے سکتی ہے ؟ ایک ایسی بیوی جو خود یہ شرط لگاتی ہو کہ وہ خاوند سے دور دوسرے شہر میں اپنے گھر میں رہے گی ، اسے کیا پرابلم ہوسکتی ہے کہ اس کا خاوند ایک اور شادی رچھائے ؟
    مولانا صاحب کہہ رہے ہیں کہ اگر ان کے بیچ پہلے سے کچھ چل رہا ہوتا تو خاتون کے بیٹے کی شادی کارڈ پر اس کانام داعی اور متمنی شرکت کے حوالہ سے درج نہ ہوتا۔۔۔۔
    اس کا جواب تو کئی جگہ دیا جاچکا ہے کہ خاتون کےاہل خانہ نے جو کارڈ چھپوائے تھے اس میں سرے اس کا نام درج ہی نہیں تھا ، مولانا صاحب نے تو بعد میں نئے کارڈ اپنے دوستوں کو بلانے کیلئے چھپوائے تاکہ شادی کے موقع پر اس سے کوئی یہ سوال نہ کرے کہ مولانا صاحب آپ مہمان ہیں یا میزبان ؟
    مولانا صاحب لائنسنس کی تاریخ چیک کراتے ہیں ، اس کا بھی جواب آچکا ہے کہ لائنسنس بنواتے وقت خاتون کے پاس وہی پرانا شناختی کارڈ تھا جس پر مولانا کا نام بحیثیت خاوند درج ہے ۔۔۔۔
    اب آتے ہیں مولانا صاحب کے اصل مسئلہ پر لب کشائی کی طرف۔۔۔۔۔
    خاتون نے خط میں لکھا ہے کہ اسے بعد میں بیٹی نے روتے ہوئے بتایا کہ جب آپ دوسرے کمرے مین سونے کیلئے گئے تو یہ آدھی رات کو تو دروازہ کھٹکھٹا کر اندر آیا میری قابل اعتراض حالت میں میرے بدن سے کپڑا ہٹا کر تصاویر لیں ، اور کہا کہ کسی کو بھی بتایا تو یہ تصویریں نیٹ پر ڈال لوں گا۔۔۔ لڑکی نے مقدور پر مزاحمت بھی کی مگر آپ کے جال میں پھنس گئی ، آپ کی بیوی کو خاتون نے گواہ نہیں بنایا بلکہ شریک ملزم ٹھہرا ہے ، یہ عدالت کا کام ہے کہ مظلوم ماں بیٹی کو بلائے اور ساری داستان ان سے سنے ۔۔۔۔معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا کہ مولانا صاحب بنانے کی کوشش کررہے ہیں

    1. مولانا نے تو صاف صاف کہا ہے کہ جو ڈرامہ ہو رہا ہے اس میں ان کی ’’ایکس وائف‘‘ کا ہاتھ نہیں ۔ دوسری بات سُن لو کہ میں مولانا کو ایک لمبے عرصے سے جانتا ہوں، اور ان کا موبائل فون بھی میں دیکھ چکا ہوں، اور ایک نہیں، کئی موبائل فون ہیں۔ اب پوچھو ان خاتون سے یا خاتون زادیوں سے ذرہ کہ موبائل کون سا تھا؟ میں خدا کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ مولانا کے موبائل میں تو ان کی اپنی سگی بیٹیوں کی تصاویر نہیں ہوتیں، چہ جائے کہ کسی سوتیلی کی ہو۔
      نہ ہی ان کے موبائل میں لڑکیوں کے ’’نمبر بھرے ‘‘ ہوتے ہیں۔ ان کا اکائونٹ جن کے زیر نگرانی ہے ، ان میں میں بھی ہوں۔ اگلی سنو، مزاہمت شزاہمت سب ڈرامے ہیں، ان سے پوچھو کہ کس تاریخ کو یہ واقعہ ہوا تھا۔ چیلنج ہے جناب۔ جس دن اتنا بڑا حادثہ ہو ، بندے کو وہ وقت اور گھڑی بھی یاد رہتی ہے۔ بلائو کسی عدالت میں اگر وہ سچی ہیں اور کریں کیس۔ اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے اور نہ ہی ان میں اتنی ہمت ہے کہ کسی کا سامنا کریں۔ پردے کا خیال رکھیں گے، لیکن کیوں نہیں کیا کیس؟ طلاق کے ۶ مہیینے بعد یاد آرہا ہے کہ ’’الے میں پتوا تو لوں‘‘ ۔ یہاں ’’عورت مظلوم‘‘ والے ڈرامے کا سہارا نہیں چلے گا۔ اگر مرد کے بچے (یا بچی) ہو تو اس مفتی ریحان کو بھی لے آئو جس کا کوئی وجود ہی نہیں اور کرو عدالت میں کیس۔ لیکن صحیح کہا گیا ہے کہ ’’جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے ‘‘۔

    2. میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں۔لیکن سارے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے،یہ لوگ بس اس کو صاف کرنے کے چکر میں لگے ہیں وہ سکتا ہے کہ کچھ لیا دیا بھی گیا ہو۔

    3. سوفیصد درست کہا۔ انصاف ہونا چاہیے۔ جو صاحبان اختیار ہیں وہ کوشش کریں کہ لوگوں کو تحفظ کا احساس دلا کر سامنے لائیں۔اس کی طاقت جائے گی تب انصاف ہو گا۔ یہاں تو لوگ اس کو مضبوط کر رہے ہیں۔ یہ کوئی اللہ کا بندہ جو صاحب اختیار ہو اور انصاف پسند ہو وہی کر سکتا ہے۔ بین الاقوامی این جی اوز بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ علما دیوبند اور دیگر مسالک کے علما بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ علما دیوبند تو موصوف کو اپنے مسلک کی علامت خیال کرتے ہیں اور دیگر مسالک کے لوگوں کو معلوم ہے کہ کل کلاں کو ان کے کسی مناظر اسلام پر بھی ایسا کٹھن وقت آ سکتا ہے۔ مشترکہ مفادات میں سب ایک ہیں۔

    4. دراصل مولوی کے بارے میں جوکچھ کہاگیاہے اس سے قبل وہ ایساکم نہیں تھا وہ بہت رکیک الزامات تھے جو سمعیہ زین العابدین نے عائدکئے تھے اس وجہ سے یہ انٹرویو زیادتی نہیں ہوگی بلکہ ان کاموقف بھی سامنے لایاگیاہے

    5. maolana sab ne to clear kardea k ye us k ex wife
      ka nahe hai to is se saf zaher hai k kisy our ne maolan a aur uske ex beve ky famil y ke badnamy ke lye kya hai

  5. آپ اس متاثرہ خاتون اور اس کے خاندان کو چھوڑ کر مولانا صاحب کا یکطرفہ انٹرویو کرکے ان کو سچا اور متاثرہ فریق کو جھوٹا ثابت کرنے کی دانستہ یا نادانستہ کوشش کر رہے ہیں جوکہ بہت بڑا ظلم اور ناانصافی ہے۔ آپ جیسے صحافی کو تو مظلوم کا طرفدار ہونا چاہئے تھا ۔

  6. مىرى تو غورى صاحب سے ىه گزارش ھے که اس خاتون کا بھی اور اور انکى بىثى کاانڑوىوبھى جلد اپلوڈ کریں. تاکه فرىقىن کی جانب بات سامنے اسکے.

  7. Mujhey Yaqeen hai keh Molvi Jhota hai. Aur yeh interview bhi uss nay paisay day kar record kar waya ho ga. Iss Mulk ko sab say ziyada khatra in jaisey molviyon say hai. Pakistan Main Islam ka libada aur lain tu Pakistani yon ko koai bhi bewaqoof bana sakta hai. Mujhey ek NGO k saath kam karney ka moka mila woh NGO HIV/AIDS k barey main logon main shaour ki koshish kar rahi thi hum nay kuch madrasoon k blood test keye they wahan pay AIDS k marizoon ki percentage sub say ziyada thi. yeh hain he munafiq

  8. اس ملا پر اس سے قبل بھی اس نوعیت کے سنگین الزامات لگ چکے ہیں۔
    ہمیشہ یہ اپنی مناظرانہ شاطرانہ چرب زبانی کی بنیاد پرآئیں بائیں شائیں کرکے جان چھڑا لیتا ہے۔
    آثار یہی بتاتے ہیں کہ ملا دو نمبر ہے۔ بار بار الزام لگنا ہی اس بات کی دلیل ہیکہ دال کالی ہے۔

    1. سلیم کے تبصرے کے جواب میں یہ کہوں گا، کہ اس سے پہلے الیاس گھمن پر اس نوعیت کے الزامات کب لگے ہیں، ذرا ہمیں بھی بتائیں، کوئی لنک وغیرہ اگر ہو تو شئر کیجئے۔ ۔

  9. رہا اس متاثرہ خاتون کا عدالت جانا تو وہ ایک باپردہ مذہبی خاتون ہیں۔
    ہمارا عدالتی نظام ایسا ہیکہ یہاں شریف مرد بھی اس سے پناہ مانگتے ہیں۔
    عورت تو پھر عورت ہے۔
    یہ ملا اور ایسے دیگر بھیڑیئے اسی ناقص نظام کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
    رہا معاملے کا سوشل میڈیا پر پھیلاؤ تو اسکی ذمہ دار وہ خاتون نہیں ہیں۔
    انہوں نے ملا کے کرتوت کے بعد وہ خطوط میڈیا کو نہیں مفتیان کرام کو
    اپنے قضیہ نکاح کی شرعی حیثیت جاننے کے لیئے لکھے تھے۔

    1. آپ کی بات سے سوفیصد اتفاق کرتاہوں لیکن سوال یہاں یہ ہے کہ کیا ایسی مذہبی خاتون کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ ایک شخص کے بارے میں غیرمحرم مردوں کو بتاتی پھرے؟؟؟ اورکیا مفتی زین العابدین کے بیٹے اس قدرکمزور ہوگئے کہ وہ ایک عام مولوی سے اپنی بہن اوربھانجی سے متعلق استفسار نہ کرسکیں؟؟

  10. ye meri apni ray hai ki maulana par lagaya gya sala iljam islam dusman ka khel hai wajah itna bada iljam sabut ke sath bat likhi gyi hai fir bhi kisne likhi hai samne kiyun nahi aata jitne logon ke nam hai sabko samne kiyun nahi lakar faisla karte bhai thoda to akal rakho bahit bada aur bahit hi ghinawna iljam hai ispar to maulana ki bibi ko hi aana tha bade bade muftiyon ke sath wo bhi gair mukallid ulma se barelvi olima se siya ke olima se barahe rast milkar maulana ke upar kesh karsakti thi jo ki sirf is bina par uska har koi sath deta ki maulana sabhi ke aankho men khatak rahe hain samjdar ke liye isara kafi hai

  11. کوئی بھی با حیا عورت اپنی اور خاص کر اپنی سگی بیٹی کی ذات پر اتنے شرم ناک الزامات نہیں لگا سکتی ،مولانا صاحب یہاں بیٹھ کر ہمیں رام لیلا کی کہانیاں نہ سنایئں،اگر وہ عورت جھوٹ بول رہی ہے تو اس پر ہرجانے کا کیس کریں۔۔

  12. الله سے ڈرنا چاہئے اور مظلوم کی آواز کو اپنے مسلک کے خاطر نہیں دبانا چاہئے ، نیز یہ شخص پہلے بھی اس طرح کے بعض کارناموں میں ملوث ہے، تو اس کے متعلق آپ کیا کہیں گے ؟ متکلم اسلام کا لقب کیا دیا گیا کہ اس نے اہل کلام کے لادین کاموں کو اپنایا .!

  13. اللہ بہتر جانتا ھے کہ کون سچا ھے بہرحال کسی ایک طرے کی سن کر رائے قائم کرنا کسی صورت مناسب نہیں لہذا خاتون کو سننا بھی ضروری ھو گا۔ تب بات صاف ھو گی ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مفتی صاحب کا بہت نام ھے ۔لیکن خاتون بھی کسی عام گھر سے نہیں ھیں ان کے والد دیوبند کے اکابرین میں سے ھیں اور اپنی اولاد کی بہتر تربیت کی ھو گی۔ بات اتنی آسان بھی نہیں کہ خاتون کو بالکل نہ سنا جائے۔

  14. یہ جھوٹ بول رہا ہے شخص اسکی زبان لڑھک رہی ہے جھوٹا کہیں کا جو 2015 کی بجائے 2018 کہہ رہا ہے دوبارہ سنیں ویڈیو کے دس منٹ اور دس سیکنڈ کے بعد یہ کیا فرما رہا ہے ؟ اسکا دماغ کہیں اور ہے اور یہ بالکل جھوٹ بول رہا ہے یہاں لوگوں کو ایک نہیں ملتی اور موصوف نے چار شادیاں رچا رکھی ہیں جنسی درندہ کہیں کا

  15. الیاس گمن سے چند سوال؟ حقیقت رب تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔
    آپ پرکسی لیبرل اور سکولر عورت نے الزام نہیں لگایا بلکہ آپ ہی کے مسلک دیوبند کے عالم زین العابدین کی بیٹی نے الزام لگایا ہے، اگر یہ خط ان کی بیٹی کا ہی پھر تو آپ ایک عالم دین کی بیٹی پر الزام لگا رہے ہیں۔
    مولانا صاحب آپ کو شرم نہیں آ ری اس ویڈیو میں آپ زین العابدین کی بیٹی کی ڈراونگ لائسنس دکھا رہے ہیں جس میں ان کی واضع تصویر نظر آ رہی ہے اور آپ اپنے مسلک کے مولانا زین العابدین کی بیٹی کی تصویر دکھا رہے ہیں کیا اپنی باقی روجات کی تصویر شناختی کارڈ والی دکھانا گزارا کریں گے؟
    پھر آپ کہہ رہے ہو کہ میری ان کی صاحبزادی زین العابدین کی بیٹی سے طلاق کی وجہ یہ تھی کہ وہ ان کی تیسری بیوی تھی اور انہیں آپ کے چوتھے نکاح پر اعتراض ہوا اور پھر بات بھڑتی گئی اور طلاق تک پہنچیی تو جب انہوں نے آپ سے نکاح کیا آپ نے یہ بھی کہا کہ ان کی عمر پانچ سال آپ سے بڑی ہے تو تب وہ عورت جن کی عمر آپ سے پانچ سال بڑی ہے وہ نکاح کے وقت آپکے پہلے 2 نکاح کے بارے اعترض نہیں کرتی تو آپ کی چوتھی شادی پر کیوں اعتراض کرے۔
    آپ یہ الزامات الزامات جو لگے ہیں تو آپ آئی بی سی اردو ویب سایٹ کو عدالت میں گھسیٹیں کیونکہ جس نے یہ خبر نشر کی ہے اس نے آپ کے جوابات کیلئے بھی اپکو موبائل نمبر اور ویب سائٹ سے رابطہ کرنے کا کہا ہے اور اگر آپ سے وہ ویب سائٹ رابطہ نہیں کرتی تو اس ویب
    سایٹ آئی بی سی کو عدالت میں گھسیٹ سکتے ہیں۔
    ایک بات اور کوئی ماں اپنی بیٹیوں کی عزت ایسے نہیں اچھالے گی۔
    رب العالمیں ہماری اور آپ سب کو عزت اور جان و مال کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔
    اگر آپ بے گناہ ہیں تو میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ پاک کو بے گنا ثابت کرے۔

  16. گھمن صاحب کے انٹرویو کے بعد متاثرہ خاتون کا موقف ہی سچ تک پہنچنے میں مدد دے سکتا ہے

  17. بلال غوری،اس مولوی سے عقیدت کامارا لگتا ہے۔عوامی رائے (کمنٹس ) اورغیرجانب دار ذرائع سے سوشل میڈیا پرجوخبریں پھیلی ہیں اس سے ثابت ہوتا ہےیہ مولوی بدبخت جھوٹا ہے ،اپنی سوتیلی
    بیٹی کی عزت تارتار کی اوراب اسلام کوبدنام کررہاہے۔اللہ تعالی اس بدبخت پراپنا عذاب نازل فرمائیں۔آمین

  18. بہت افسوس ناک الزام ہے۔ خواتین بہت وقت علما سے انصاف کی امید میں صرف کر چکیں۔ علما نے نہ انصاف دینا تھا نہ دیا۔ ان کی برابر کی ٹکر ہوتی اگر مفتی زین العابدین صاحب زندہ ہوتے۔ اب تو دارالعلوم دیوبند تک نے علم غیب کا دعوٰی کرتے ہوئے گھمن صاحب کو ان الزامات سے بری قرار دے دیا ہے۔ اصولی طور پر یہ معاملہ بین الاقوامی این جی اوز کا تھا۔ ان کو بیچ میں لانا چاہیے تھا تاکہ مولوی صاحب کی طاقت کا توڑ ہو سکتا۔ جب طاقت کا توڑ ہو گیا تو ہوسکتا ہے کہ مزید شہادتیں سامنے آ جائیں۔ بہرحال علما نے اس کیس میں کچھ نہیں کرنا تھا اور نہ ہی وہ کرنا چاہیں گے۔ عدالت میں ثابت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ وقت گزر چکا۔ تاہم اگر مولوی صاحب کی طاقت واپس لے لی جائے تو ایسا بدکردار شخص (اگر خواتین درست کہ رہی ہیں تو) یہاں تک ہی محدود نہیں رہا ہو گا۔ اس کے خلاف ایسی شہادتیں سامنے آ سکتی ہیں جو کہ اب تک خاموش ہیں۔ یہی ایک طریقہ ہے انصاف حاصل کرنے کامگر مذہبی تقدس اور مسلکی علما سے مرعوب خواتین علما کے پاس گئیں جو خود فریق ہیں۔ بہت سے لوگ مسلکی تعصب سے مرعوب ہو کر اس شخص کو اپنے مذہب کی علامت کے طور پر لیتے ہیں اور اس کو مزید طاقت دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ اس شخص کو ٹیکس چوری کی مد میں ایف بی آر والے اٹھائیں اور ساتھ ہی اس کی طاقت کے مراکز بند کریں۔ پھر مظلوم لوگ خود ہی نکل آئیں گے۔ مگر یہ سب ممکن تبھی ہے جب خواتین جو پورے پاکستان تو کیا پوری دنیا میں بدنام ہو چکی ہیں وہ ہمت کریں۔ جو بیوی شریک جرم ہوتی ہے بقول ان کے وہ وعدہ معاف گواہ بن سکتی ہے اگر اس مولوی کی طاقت توڑ دی جائے یا اس کا ضمیر جاگ جائے۔بہرحال کسی فاحشہ عورت کے لیے بھی اپنی ہی بیٹی پر ایسا الزام لگانا مشکل ہوتا ہے یہ تو مفتی زین العابدین صاحب کی بیٹی تھی۔

    1. انصاف کافیصلہ ویسے یہ ہے کہ دونوں نے بے احتیاطی سے کام لیاہے ۔۔خاتون کوبھی اپنے خاندان کی ساکھ اورشرعی تعلیمات پر عمل کرکے سوشل میڈیا پرنہیں آناچاہئے تھا اورمولوی صاحب کوبھی اس بارے میں لب کشائی کی ضرورت نہ تھی ۔دونوں اپنے بڑوں اور جاننے والوں کو بٹھاکر افہام تفھیم سے معاملہ حل کراتے یوں سربازاررسوائی نہ ہوتی ۔یہاں توبھانت بھانت کی بولیاں ہوتی ہیں میڈیا تومعاملات سلجھانے کے بجائے الجھاتاہے کہ اس کاکاروباراسی سے وابستہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ صدمے تم ہمیں دیتے نہ یوں فریاد ہم کرتے ۔۔۔نہ کھلتے رازسربستہ نہ یہ رسوائیاں ہوتی ۔۔۔۔۔

  19. مجھے انتہائی افسوس ہو رہا ہے کہ اس طرح کی باتوں کو اتنا اچھال اچھال کر پیش کیا جا رہا ہے جس سے جہاں علماء کا مقام کم ہو رہا ہے وہاں عورت اور
    اس کی بیٹیوں کی بھی تذلیل ہو رہی ہے

  20. افسوس بلال غوری تمھاری صحافت پر کہ مدعیہ کا مؤقف تو آپ نے پیش ھی نھیں کیا صرف ملزم کی رام کھانی سنانی تھی یاملزم کو دودھ کا دھلا ثابت کرنا تھا بخدا آپ اس مظلوم عورت کی کھانی اس کی زبانی سنیں تو پھر پتہ چلے گا یہ مولوی کتنا بڑا بھیڑیا ھے کہ 80لاکھ کا مکان یہ اس مظوم عورت کابیچ کے کھاگیا ھے اور یہ جو 1لاکھ والا کاغذ دکھارھا ھے یہ اسی مکان کی رقم میں سے دے رھا ھے جبکہ اب بھی اس نے انکے دسیوں لاکھ دینے ھیں اس بات کی تصدیق آپ ان کے ھمسایوں سے بھی کرسکتے ھیں

  21. مولوی الیاس گھمن ایک بے عمل فراڈیا ،بے باک،زبا دراز اور گستاخ آدمی ہے۔ داڑھی کو خضاب لگانا۔مسلم علماء کرام پر طعن و تشینع کرنا،دوسروں کی کتابوں سے کاپی پیسٹ کرکے اپنی کتاب بنانا اس کا شیوہ ہے۔موجودہ مسئلہ میں کثیر مولویوں نے اس کے صحیح ہونے کی تصدیق کی۔ایک مولوی نے بیان دیا کہ میری بیوی گھمن کی بیوی کی سہیلی تھی ،اس نے گھمن کی بیوی کو فون کرکے پوچھا تو اس کی تصدیق ہوئی۔ ایک مولوی کہتا ہے کہ اس عورت کا خط میرے پاس بھی آیا تھا۔ان سب باتوں کو باوجود مولوی کی کالی کرتوت پر پردہ ڈالنا فقط مسلک پرستی ہے حق پرستی نہیں۔گھمن کا بیان لینے کا کیا فائدہ وہ تو کبھی بھی نہیں کہے گا میں نے ایسا کیا ہے بلکہ ٹوٹی پھوٹی دلیلیں دے کر لوگوں کو گمراہ کرے گا جیسا کہ پہلے بھی کرتا رہا ہے۔یہ کہنا کہ مظلوم عورت سامنے آئے یا الیاس گھمن کے سامنے بیٹھے ،ایسا کرنے سے بھی کچھ نہیں ہوگا۔دیوبندی مولویوں کی اکثریت ہمیشہ کی طر ح اپنے مولوی کا فضول دفاع کررہی ہے۔

  22. سچ پوچھیۓ تو اس کہانی میں صرف الیاس گھمن اور ان کی سبقہ اہلیہ ہی نہیں بلکہ مفتی صاحب مرحوم کی صاحبزادی کے بقول دیگر مدرسہ میں پڑھنے والی طالبات کے ساتھ بھی زیادتی کے یہ واقعات ہوۓ اگر ایسا ہوا ہوتا یا ہے تو ابھی تک کوی ایسا دعوے دار سامنے نہیں آیا جنہوں نے موالانا گھمن پر کسی قسم کا الزام لگایا ہو ۔ علاوہ ازیں مدرسے کی دیگر معلمات ، طالبات ، اور انکے ادارے کے دیگر معلمین رفقاۓ کار کیا سبھی بیک وقت اتنے بے ضمیر ہو گۓ کہ انہوں نے ایسی مسلسل بد کرداریوں پر بے شرمی کی چپ سادھے رکھی ۔ ۔اور کیا عجیب بات نہیں کہ کہ ایک الیاس گھمن کی آڑ میں پوری ڈھٹای کے ساتھ تمام علما کو ہی جانبدار اور حق کے متعلق مداہنت کا مرتکب قرار دیا جارہا ہے ۔ ۔ سچ تو یہ ہے کہ یہاں معاملہ یہ ہے کہ فریقین اس معاملے کو کسی ڈراؤنے خواب کی طرح فراموش کرنے کی کوشش میں ہیں اور “نام نہاد سو کالڈ صحافی یا مفتی اس سے اپنے اوراق اور نامہ اعمال مزید سیاہ کرنے پر تلے ہوۓ ہیں (چور نالوں پنڈ کاہلی۔ ۔ ۔ کے مصداق ۔ ۔ ۔کبھی جن باتوں پر اپنے بیگانے پردہ ڈالتے تھے اب سبھی منظر عام پر لانے کو قابل فخر گردانتے ہیں ۔ ۔ ۔ اس معاملے کو اس کے منطقی انجام تک مفتی صاحب کی صاحبزادی ہی لاسکتی ہیں جب وہ خاموش ہیں تو پھر شور کیسا ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*