تازہ ترین
outline

روحانیت سے ہی بیڑاپار ہوسکتا ہے-بلال غوری

مرعوبیت کا شکارمغرب زدہ دانشوروں کی باتوں میں آکر ہمارا معاشرہ برسہابرس سے سائنسی ترقی اور مادی خوشحالی کی بھول بھلیوں میں بھٹک رہا تھا اور جانے کب تک ہم سائنس و ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے پر کڑھتے رہتے مگر بھلا ہوکپتان کا جس نے کیف و مستی میں زندگی کی سب سے بڑی حقیقت منکشف کرکے قوم کو احساس کمتری سے نجات دلادی۔لوگ خواہ مخواہ فرزانوں کو سر چڑھاتے اور فلسفیوں کے گیت گاتے ہیں حالانکہ یہ لوگ زندگی کی ڈور سلجھانے کی کوشش میں مزید اُلجھاتے چلے جاتے ہیں۔اسی طرح مادہ پرستی کے قائل اور ٹیکنالوجی کی طرف مائل لوگ سائنسدانوں کی مالا جپتے اور قصیدے پڑھتے ہیں حالانکہسچ یہ ہے کہ ان سائنسدانوں نے اپنی ایجادات سے کائنات کا توازن درہم برہم کیا ہے۔میری دانست میں تعریف و توصیف اور داد کے مستحق تو کپتان جیسے وہ دیوانے ہیں جو ترنگ میں آئیں تو تمام اندیشے دور اور سب غم کافور کر دیتے ہیں۔اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں،چند روزپہلے تک یہ حقیقت کسے معلوم تھی کہ سوہاوہ کے پہاڑ کو ترقی کا پہاڑ کیوں کہا جاتا ہے؟70سال پہلے اس تاریخی پہاڑ پر چلہ کاٹنے والے بابا نورالدین سے کون واقف تھا؟ابنِ عربی جیسے تاریخی کردار کی حقیقی خدمات کے بارے میں کسے علم تھا؟کسے معلوم تھا کہ روحانیت دراصل سپر سائنس ہے۔باالفاظ دیگر یہ مادی سائنس روحانیت کی پراسرار دنیا کے سامنے کیا بیچتی ہے۔
وہ مخالفین جو روحانیات کو سپر سائنس قرار دینے پر سیخ پا ہیں،ان کا مسئلہ روحانیات نہیں کپتان ہے۔انہیں یہ خوف لاحق ہے کہ اگر کپتان روحانی طاقتیں بروئے کار لاتے ہوئے اس ملک کے پیچیدہ ترین مسائل اور مشکلات حل کرنے میں کامیاب ہوگیا تو ان کی سیاسی دکانداری ختم ہوجائے گی۔ورنہ اسی ملک میں جنرل (ر)پرویز مشرف نے صوفی اِزم کی بات کی اور اس سے پہلے بھی ہر دور میں اس نہج پر سوچ و بچار ہوتا رہا ہے۔مافوق الفطرت مظاہر میں انسان کی دلچسپی کوئی نئی بات نہیں۔چند برس ہوتے ہیں اسلام آباد میں پاکستان کی ایک بہت بڑی یونیورسٹی کے ہیومینٹیز ڈیپارٹمنٹ میں ایک ورکشاپ منعقد کی گئی جس کا عنوان تھا”جنات اور کالا جادو“۔اس ورکشاپ میں طلبہ و طالبات کی بے پناہ دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آڈیٹوریم میں بلا مبالغہ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی اور لوگ کھڑے ہونے کی جگہ ڈھونڈتے رہ گئے۔ورکشاپ میں جنات اور کالے جادو سے متعلق ماہرانہ رائے دینے کے لیئے جس مقرر کو مدعو کیا گیا تھا اس کا نام تھا راجہ ضیا الحق۔نام کی مناسبت سے مجھے یاد آیا کہ مرد مومن مرد حق،ضیا الحق کے دورِ اقتدار میں بھی روحانیت پر مبنی سپر سائنس سے استفادہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ضیا الحق کے دور میں سنجیدگی سے یہ کوشش کی جاتی رہی کہ جنات کو بجلی پیدا کرنے کا ٹاسک دیدیا جائے مگر باوجوہ اس منصوبے کو عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا،اسی طرح 1970ء میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ایک اہم عہدیدار نے یہ تجویز دی کہ جوہری پلانٹس میں ایٹمی ایندھن اور پیٹرولیم کے بجائے جنات کی طاقت اور توانائی کو بطور ایندھن استعمال کیا جائے۔

میجر جنرل ابوبکر عثمان مٹھا جو جنرل یحیٰ خان کے دورمیں جی ایچ کیو میں بطور کوارٹر ماسٹر جنرل تعینات رہے،انہوں نے اپنی خودنوشت ”بمبئی سے جی ایچ کیوتک“میں فیلڈ مارشل ایوب خان اور آرمی چیف جنرل موسیٰ خان کے ایک پہنچے ہوئے پیر کا ذکر کیا ہے جو خود بھی فوج میں جونیئر افسر تھے۔ان سے متعلق یہ بات مشہور تھی کہ موصوف کے قبضے میں کوئی روحانی طاقت ہے،وہ پانی پر کچھ پڑھ کر پھونکتے ہیں،کسی بھی قسم کا مرض ہو،اس پڑھے ہوئے پانی کو لگانے سے شفا مل جاتی ہے۔ابوبکر عثمان مٹھاکے مطابق جنرل ایوب خان اور جنرل موسیٰ خان جیسے لوگ بھی اس ”پیر“کی کرامت پر اعتقاد رکھتے تھے ان کے علاوہ بہت سے سینئر فوجی افسر بھی پیر صاحب کے آستانے پر حاضری دیا کرتے تھے۔ایک بار جنرل مٹھا نے ان پیر صاحب کا لاہور سے تبادلہ کرنا چاہا تو انہیں بتایا گیا کہ انہیں کمانڈر انچیف کے حکم پر یہاں پوسٹ کیا گیا ہے۔مٹھا نے ان پیر صاحب کی دیگر ”کرامات“کا ذکر بھی کیا ہے لیکن بہتر معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ذکر کرنے سے گریز کیا جائے۔

اسی طرح افواج پاکستان کے چوتھے سپہ سالار جنرل موسیٰ خان نے اپنی کتاب Jawan to Generalمیں روحانیت سے متعلق ایک ذاتی واردات بیان کی ہے۔جب جنرل موسیٰ ڈپٹی چیف آف اسٹاف تعینات ہوئے اور کراچی پہنچے تو وزیرخزانہ چوہدری محمد علی نے ان سے درخواست کی کہ آپ میرے گھر منتقل ہوجائیں اور مجھے اپنی سرکاری رہائشگاہ دیدیں کیونکہ وہ دل کے مریض ہیں اور اس گھر میں انہیں پریشانی ہوتی ہے۔چنانچہ جنرل موسیٰ ہوشانگ روڈ پر واقع سرکاری بنگلے میں منتقل ہوگئے۔جنرل موسیٰ لکھتے ہیں کہ اس گھر پر جنات کا سایہ تھا اس لیئے چوہدری محمد علی نے یہ گھر چھوڑا۔بہر حال،جنرل موسیٰ نے جنات کو بھگانے کے لیئے مشہد سے ایک روحانی شخصیت الحاج سید ابوالحسن حافظ کی خدمات حاصل کیں۔قدرت اللہ شہاب نے بھی اپنی کتاب ”شہاب نامہ“میں اس نوعیت کی روحانی وارداتوں کا ذکر کیا ہے۔سیاسی شخصیات کی پیر پرستی سے تو آپ واقف ہی ہونگے اور اس موضوع پر میں نے ایک کالم میں تفصیل بیان کی تھی جس کا عنوان تھا”سیاست کے پیرِکامل“۔بتانے کا مقصد محض یہ تھا کہ روحانیت ایک حقیقت ہے اور ماضی میں بھی اس سے استفادہ کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے مگر کپتان کا کمال یہ ہے کہ اس نے روحانیت کو اس کا صیح مقام عطا کرتے ہوئے سپر سائنس کا تصور دیا ہے۔روحانیت کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کی حقیقت وہی پا سکتا ہے جواس میں ڈوب جانے کا حوصلہ رکھتا ہو۔بے یقینی اور تشکیک میں مبتلا وہ لوگ جو ساحل پر کھڑے ہو کر روحانیت کو سمجھنا چاہتے ہیں،وہ کشف و کرامات کی اس دنیا کو کبھی نہیں جان سکتے۔کپتان کا اعجاز یہ ہے کہ اسے روحانیت جہیز میں ملی ہے،لہٰذا کپتان سے بہتر کون بتا سکتا ہے کہ روحانیت کیا ہے اور کیا نہیں؟اب اگر آپ روحانیت کے تلفظ اور ادائیگی کو بنیاد بنا کر بال کی کھال اتارنا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی۔میرا خیال ہے کہ ملکی حالات جس قدر خراب ہو چکے ہیں،معیشت تباہی و بربادی کے جس دہانے پر کھڑی ہے اور ہمارا معاشرہ سماجی واخلاقی برائیوں کے جس گڑھے میں گر چکا ہے،اس سے باہر نکالنا اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا اب کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔اگر ہم محض سائنس وٹیکنالوجی کا سہارا لیں گے،اقتصادی اصولوں کی روشنی میں معیشت کو سنوارنے کی کوشش کریں گے یا مادی قوانین کے مطابق اس صورتحال سے نکلنے کی تگ و دو کرتے رہیں گے تو کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ کیوں نہ مذاق اُڑانے کے بجائے اس بار سنجیدگی کے ساتھ روحانیت سے مستفید ہونے کی کوشش کی جائے کیونکہ روحانیت کی سپر سائنس سے ہی کوئی انہونی،کوئی معجزہ یا کرامت ہو سکتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*