تازہ ترین
outline

کسی نے مذاکرات پر آمادہ نہیں کیا،طالبان ترجمان نے پاکستان کو جھنڈی کرادی

افغان طالبان کے امریکہ سے مذاکرات سے متعلق پاکستان کا ریاستی موقف یہ رہا ہے کہ پاکستان نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے مگر اب طالبان ترجمان نے ایک انٹرویو کے دوران اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کسی ملک نے کردار نہیں کیا اور یہ فیصلہ طالبان نے خود کیا

نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کی پیشکش میں امریکہ نے پہل کی – امریکی حکام کی جانب سے طالبان کو مذاکرات کے محرکات سے آگاہ کیا گیا جس کے بعد طالبان نے فیصلہ کیا اور کسی ملک نے اس سلسلے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا،اس میں ہمیشہ ہماری پیش قدمی اور پالیسی کا عمل دخل تھا

اس سوال پر کہ اگر طالبان برسر اقتدار آئے تو پاکستان کیساتھ ان کے تعلقات کیسے ہونگے ؟طالبان ترجمان نے کہا کہ وہ پاکستان سے ’ برادر ملک اور پڑوسی کے تحت ‘ باہمی مفادات پر مبنی جامع تعلقات کے قیام کے لیے رسائی حاصل کریں گے جیسے وہ دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کریں گے۔

طالبان کے برسراقتدار آنے پر افغانستان کا آئین کیسا ہوگا ؟آس سوال پر ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان کا کوئی تدوین شدہ منشور نہیں لیکن ہمارے واضح مقاصد میں افغانستان میں قبضے کا خاتمہ، اسلامی حکومت کا نفاذ، امن و امان کا قیام، افغانستان کی تعمیرِ نو اور انتظامی امور کی فراہمی شامل ہیں اور افغانستان کا آئین شریعت کے عین مطابق ہوگا

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*