outline

سینئر صحافی رضوان رضی کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

لاہور سے اٹھائے گئے سینئر صحافی رضوان رضی جن کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے مقدمہ درج کیا تھا عدالت نے ان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیدیا ہے

ایف آئی اے نے رضوان رضی کو اتوار کے روز ضلع کچہری لاہور میں ڈیوٹی جج کے روبرو پیش کیا تو ان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مقدمہ بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی ہے جس میں کوئی مدعی ہے ناں شکایت کنندہ -وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل ایک باعزت شہری ،استاد اور صحافی ہیں لہذا ان کے خلاف مقدمہ خارج کیا جائے

جوڈیشل مجسٹریٹ اسد سجاد نے دلائل سننے کے بعد مقدمے میں لگائی گئی دفعہ 123 ختم کردی جو ناقابل ضمانت ہے اور ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرتے ہوئے سینئر صحافی رضوان رضی کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیدیا

قبل ازیں اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ہفتہ کی صبح لاہور کے معروف صحافی رضوان رضی کو نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا ہے مگر بعد ازاں ایف آئی اے نے انہیں اپنی تحویل میں لینے کا اعتراف کرلیا

رضوان رضی جو “رضی داد“ کے نام سے مشہور ہیں کیونکہ ریڈیو پر “دادپوتا شو“ کرتے ہیں ،ان کے ٹوئٹر ہینڈل سے صبح نوبجے قریب ٹویٹ کی گئی “میں داد جی کا بیٹا لکھ رہا ہوں ۔ابھی صبح سویرے میرے باپ کو کچھ لوگ مارتے ہوئے گاڑی میں ڈال کر لے گئے ہیں“

کچھ دیر بعد ایک اور ٹویٹ میں بتایا گیا “کچھ لوگوں سے بات کرنے کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ میرے والد صاحب کو پہلے کالی گاڑی میں لیکر گئے اور تھوڑی دور جا کر ایک رینجرز کی گاڑی میں بٹھا دیا گارڈ کہتا ہے کہ اس نے حرکت صبح آٹھ بجے سے نوٹس کی مسلسل جب وہ ڈیوٹی پر آیا “

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*