outline

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک آگئی ،اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی جمع

متحدہ اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو عہدے سے ہٹانے کے لیئے تحریک عدم اعتماد جمع کروادی ہے اور اس کے ساتھ ہی سینیٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی دیدی گئی ہے

چند روز قبل اپوزیشن کی 9 سیاسی جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو عہدے سے ہٹانے کے لیئے عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا

منگل کی صبح تحریک عدم اعتماد کی قرارداد کو سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کروانے کے لیے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کا ایک اجلاس سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجا ظفر الحق کی صدارت میں ہوا ، جس میں تحریک عدم اعتماد کے لیے حکمت عملی وضع کی گئی اور طریقہ کار پر غور کیا گیا

اس اجلاس کے بعد تحریک عدم اعتماد کی قرارداد اپوزیشن اراکین نے سیکریٹری سینیٹ کے آفس میں جمع کرائی-سینیٹر شیریں رحمان کے مطابق چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی قرارداد پر 44 ارکان نے دستخظ کیے ہیں۔

اپوزیشن سینیٹرز کے اجلاس میں پیپلزپارٹی کی شیری رحمٰن، مسلم لیگ (ن) کے پرویز رشید، مصدق ملک، آصف کرمانی سمیت سسی پلیجو، یوسف بادینی، ڈاکٹر اشوک کمار، مشاہد اللہ خان، ستارہ ایاز و دیگر شریک ہوئے۔

اس کے علاوہ پیپلزپارٹی سے ناراض سمجھے جانے والے سینیٹر خانزادہ خان بھی اس اجلاس میں شریک ہوئے تاہم اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے سینیٹر سراج الحق اور مشتاق احمد نے شرکت نہیں کی۔

چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے 53 ووٹوں کی اکثریت درکار ہے، اس وقت پی پی پی، مسلم لیگ (ن)، نیشنل پارٹی اور جمعیت علما اسلام (جے یو آئی ف) کے 46 ارکان ہیں جبکہ 29 آزاد امیدوار ہیں۔

اس کے علاوہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے 2 اراکین ہیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور پی ایم ایل فنکشنل کا ایک، ایک رکن ہے۔

تاہم حکمران جماعت پی ٹی آئی کے 14 اراکین، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے 5 اور جماعت اسلامی (جے آئی) کے 2 سینیٹرز ہیں۔

واضح رہے کہ رہبر کمیٹی کا اگلا اجلاس 11 جولائی کو ہوگا اور اسی روز نئے چئیرمین سینیٹ کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*