outline

اُلوتو خواہ مخواہ بدنام ہیں-بلال غوری کا ناقابل اشاعت کالم

ماہرین حیوانیات کا خیال ہے کہ دنیا بھر میں الوؤں کی 250اقسام ہیں اور اب تک ان کی عادات و صفات پر بہت تحقیق کی گئی ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں پائے جا رہے انواع و اقسام کے الوؤں اور ان کے پٹھوں پر ریسرچ کا فقدان دکھائی دیتا ہے حالانکہ ہماری دھرتی اُلواِزم کے حوالے سے بہت زرخیز اور ماحول نہایت سازگار واقع ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں ایک سے بڑھ کر ایک الو موجود ہے۔مغربی معاشرے میں اُلوکو عقل ودانش کا استعارہ سمجھا جاتا ہے مگر مشرقی سماج میں اسے حماقت و بے وقوفی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں اُلو ہی نہیں الو کے پٹھوں کو بھی پرلے درجے کا احمق سمجھا جاتا ہے۔میں نے ایک بارشفیق الرحمان کی کتاب ”تزک ِ نادری“ میں کسی الو شناس کا تذکرہ پڑھا تھا جو الوؤں کی بولی جانتا تھا،تب سے میرے دل میں یہ حسرت پیدا ہوئی کہ موقع میسر آئے تو کیوں نہ کسی روز اُلو سے آف دا ریکارڈ گپ شپ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ اُلو ہمارے ملک کے حالات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔اگرچہ مستنصر حسین تاررڑ نے ”الو ہمارے بھائی ہیں“ لکھ کررشتہ داری نکالنے کی کوشش کی مگراُلواتنے نادان بھی نہیں کہ ہم جیسے بردہ فروشوں کو سچ مُچ کا بھائی سمجھنے لگ پڑیں۔

چند روز قبل ایک الو سے سرراہ ملاقات ہوگئی تو میں نے جھٹ سے پوچھا ”بھائی،صاحب آپ اُلو ہیں یا اُلو کے پٹھے؟“

”تم انسانوں کی سمجھ میں اتنی سی بات کیوں نہیں آتی کہ جس طرح ہر سیاستدان کا بیٹا سیاستدان،ہر صحافی کا بیٹا صحافی اور ہر جج کا بیٹا جج نہیں ہوتا اسی طرح ہر اُلو کا بیٹا الو کا پٹھا نہیں ہوتا“

اُلو نے تلملاتے ہوئے جواب دیا تومیں نے اس سے غیررسمی انٹرویو کرنے کی اجازت چاہی۔ اس نے نام ظاہر نہ کرنے اور مثبت رپورٹنگ کرنے کی شرط پر آمادگی ظاہر کر دی تو میں نے بات کا آغاز کرتے ہوئے پوچھا،سر!کیا آپ یہ بتانا پسند کریں گے کہ اُلو اور کاٹھ کے اُلو میں کیا فرق ہوتا ہے؟اُلو نے فلسفیانہ اندا ز میں جواب دیتے ہوئے کہا،یہ تقسیم تم انسانوں کے ہاں ہے،اُلو مساوات کے قائل ہیں،ہمارے ہاں کسی کو برتری یا فوقیت حاصل نہیں۔اُلوؤں کے جھنڈ کو پارلیمنٹ کہتے ہیں،تم لوگوں نے ہماری اصطلاح چراکر اپنے ایوان کا نام تو پارلیمنٹ رکھ لیا مگر ہماری جمہوری اقدار مستعار نہیں لیں۔ہمارے ہاں پارلیمنٹ سب سے سپریم ادارہ ہوا کرتا تھا مگر تمہارے ہاں تو پارلیمنٹ غریب کی وہ جورو ہے جس پر سب حق جتلاتے اور بھاؤ کھاتے ہیں۔کیا یہ سچ نہیں کہ تمہاری قسمت کے فیصلے پارلیمنٹ میں نہیں کہیں اور ہوتے ہیں؟میں نے قطع کلامی کی جسارت کرتے ہوئے کہا،بھائی صاحب! آپ تو اپنا اُلو سیدھا کرنے لگ پڑے،برا نہ مانیں تو میرے سوال کا جواب دیدیں میں نے یہ پوچھا تھا کہ اُلو اور کاٹھ کے اُلو میں کیا فرق ہے؟

اُلونے اپنی دھن میں بات جاری رکھتے ہوئے اُلٹا سوال داغ دیا۔”کبھی ابراہم لنکن کا نام سنا ہے“میں نے کہا،ہاں امریکہ کا صدر؟

ابراہم لنکن نے کہا تھا،سب لوگوں کو کچھ وقت کے لیئے بیوقوف بنایا جا سکتا ہے اورکچھ لوگوں کو ہمیشہ کے لیئے بیوقوف بنایا جا سکتا ہے مگر سب کو ہمیشہ کے لیئے بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔تم لوگ کاٹھ کے اُلو ہو کیونکہ 72سال سے مسلسل اُلو بنتے آرہے ہو اور ابھی تک یہ نہیں جان سکے کہ کون اُلو کے پٹھے تمہیں کٹھ پتلیوں کی طرح نچا رہے ہیں۔

میں نے اُلو کو بزدلی کا طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیا پہیلیوں میں بات کر رہے ہو،سیدھی طرح بتاؤ تم کہنا کیا چاہتے ہو؟اُلو نے پلٹ کر وار کرتے ہوئے کہا،میں تو کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر سب کہہ دوں گا مگر تم لکھنے کی ہمت نہیں کرپاؤ گے۔میں نے اس شاطر اُلو کو دل ہی دل میں اُلو کا پٹھا کہا اور پھر بات بدل کر پوچھا،اگر بُرا نہ مانوتو یہ بتاؤ کہ تم لوگ ویران اور اجاڑ جگہ پر ڈیرے کیوں ڈالتے ہو؟کیا یہ بات سچ ہے کہ جس معاشرے میں الوؤں کا بسیرا ہو وہ معاشرے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں؟

میرے سوال پر اُلو نے اس قدر زوردار قہقہہ لگایا جیسے میں نے کوئی لطیفہ سنا دیا ہو۔جی بھر کر ہنسنے کے بعد اس نے خود پر سنجیدگی طاری کرتے ہوئے کہا، الوؤں کے بسیرا کرنے سے انسانی آبادیاں ویران نہیں ہوتیں بلکہ ہم رہنے کے لئے انتخاب ہی انہی مقامات کا کرتے ہیں جو امتیازی سلوک اور احتساب کی آڑ میں انتقامی کارروائیوں کے نتیجے میں تباہ و برباد ہو چکے ہوتے ہیں۔پہلے ہم بھی اندھیروں کے بجائے روشنیوں اور ویران وبیابان مقامات کے بجائے آبادعلاقوں میں رہنے کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ہمارے ہاں بھی نظم و ضبط اور سلیقہ ہوا کرتا تھا،ایک مثالی پارلیمانی نظام تھا،اظہار رائے کی آزادی تھی،آزاد اور غیر جانبدار مگر اپنی حدود و قیود کی پابند عدلیہ تھی لیکن پھر کیا ہوا کہ بعض لوگوں کی ضد،انا اور ہٹ دھرمی کے نتیجے میں سب کچھ تباہ ہوتا چلا گیا،ہم زوال اور بربادی کے دہانے پر جا پہنچے، اب یہ عالم ہے کہ اندھیرے ہمارا مقدر ہو چلے ہیں اویہ نوبت آگئی ہے کہ تم جیسے احمق انسان ہمیں بے وقوف سمجھتے ہیں۔ہماری یہ حالت کیسے ہوئی،میں اپنے معاشرے کی ایک حکایت بیان کرکے بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔

کبوتروں کا ایک جوڑا دانہ پانی ڈھونڈتے بھٹک گیا اور کسی ویرانے میں جا پہنچا جہاں سوکھے درختوں پر بیٹھے الوبول رہے تھے۔کبوتر نے کبوتری سے کہا ”لگتا ہے ان الوؤں کے بسیرا کرنے سے یہ علاقہ اجڑ گیا“قریب بیٹھے الوؤں کا ایک جوڑا پاس آیا اور انہیں رات اپنے پاس بسر کرنے کی پیشکش کی۔کبوتروں کے جوڑے نے فوراً حامی بھر لی۔شب بسری کے بعد صبح جب کبوتر نے رخصت ہونا چاہا تو الو نے کبوتری کا دامن تھام کر کبوتر سے پوچھا ”اسے کہاں لے چلے،یہ تو میری منکوحہ ہے“ تکرار بڑھی تو اُلو نے کہا چلو عدالت جا کر فیصلہ کروا لیتے ہیں۔کبوتر نے کہا،”مائی لارڈ! آپ خود ہی بتائیں بھلاکوئی کبوتری الو کی بیوی کیسے ہو سکتی ہے؟“جج صاحب کو چائے کی پیالی پر دھمکایا جا چکا تھا اس لیئے عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کبوتری کو اُلو کی بیوی تسلیم کرتے ہوئے کبوتر کے خلاف فیصلہ سنا دیا۔کبوتر بہت مایوس اور بیحد حیران تھا کہ یہ کیسا انصاف ہے۔مگر عدالت سے باہر آتے ہی اُلو نے کہا”کبوتر بھائی! یہ تمہاری ہی بیوی ہے،لے جاؤ اسے۔میں تو تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ ملک اُلوؤں کے بسیرا کرنے سے نہیں،ایسے غیر منصفانہ فیصلوں سے برباد ہوتے ہیں۔ہم پر تو ناحق تہمت ہے۔“

یہ حکایت بیان کرنے کے بعد اُلو نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا،اب بتاؤ،کیا یہ سچ نہیں کہ اُلو تو خواہ مخواہ بدنام ہیں؟ورنہ تمہاری تباہی و بربادی کے اسباب کچھ اور ہیں۔اس سے پہلے کہ اندھیرے اور تاریکیاں تمہارا مقدر ہو جائیں،ہمارے عبرتناک انجام سے سبق سیکھو اور سُدھر جاؤ۔

5 تبصرے

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*