outline

اَن کہی کتھا-امرجلیل

اُڑی اُڑی سی رنگت، بال بکھرے ہوئے، لباس بے ترتیب۔ وہ مجھے نہ بوڑھا لگ رہا تھا اور نہ جوان۔ وہ اپنے اثاثے اور بے نامی املاک ظاہر کرنے آیا تھا۔ میری میز کے سامنے کھڑا تھا۔ اُس وقت میں ایک مالدار سے معلومات حاصل کر رہا تھا ۔ مخبروں نے مجھے خبر دی تھی کہ وہ شخص جس گاڑی میں بیٹھ کر آیا تھا، اس گاڑی کی قیمت پانچ کروڑ روپے تھی۔ ایسی گاڑی میں سفر کرنے والوں کی موت اگر گاڑی میں واقع ہونا لکھی ہو تو وہ کسی کی چلائی ہوئی گولی سے نہیں مرتے۔ ان کی گاڑی بلٹ پروف اور بم پروف ہوتی ہے۔ وہ دل کا دورہ پڑنے سے گاڑی میں مر جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ سائنسدان ہارٹ اٹیک پروف گاڑی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

مالدار نے تسبیح کے دانے پھراتے ہوئے کہا ’’میرے پاس دس بارہ بلٹ اور بم پروف گاڑیاں ہیں۔ غیر ملکی مہمانوں کے قافلے میں سرکار کو ادھار دی ہوئی میری گاڑیاں ہوتی ہیں۔ میرے سیاسی دوست جلسے جلوسوں میں میری بم پروف گاڑیوں میں بیٹھ کرجاتے ہیں‘‘۔

مالدار بولتے بولتے اچانک چپ ہو گیا۔ اس نے پلٹ کر اُڑی اُڑی سی رنگت والے شخص کی طرف دیکھا پھر پانسہ پلٹ کرمجھ سے گویا ہوا۔ کہا ’’ملک میں غربت اس قدر پھیل گئی ہے کہ فقیر اب دفتروں میں بھی گھس آتے ہیں!‘‘ تب میں نے مالدار سے کہا ’’سر، یہ شخص فقیر نہیں ہے۔ آپ کی طرح مالدار ہے۔ اپنے اثاثے ظاہر کرنے آیا ہے‘‘۔

یہ ’’مالدار ہے؟‘‘ اڑی اڑی سی رنگت والے شخص کو دیکھتے ہوئے مالدار نے کہا ’’حرام کی کمائی سے اثاثے بنانے والوں پر اللہ کی پھٹکار برستی ہے‘‘۔ میں ہکا بکا رہ گیا۔ اڑی اڑی سی رنگت والے شخص سے میں نے بیٹھنے کو کہا وہ قریب پڑی ہوئی کرسی پر بیٹھ گیا۔ مالدار اپنے ملکی اور غیر ملکی اثاثوں کی دستاویز لانے کے بجائے اپنے اثاثوں کی تصویریں لے آیا تھا۔ میں نے پوچھا ’’آپ کا ذریعہ آمدنی کیا ہے‘‘۔

مالدار نے تسبیح کے دانے پھراتے ہوئے مجھ سے پوچھا ’’مسلمان ہو؟‘‘۔

میں نے کہا ’’جی ہاں، میں مسلمان ہوں‘‘۔

اس نے پوچھا ’’اللہ کی رحمتوں پر یقین رکھتے ہو؟‘‘

میں نے کہا ’’جی ہاں‘‘۔

مالدار نے کہا ’’پھر تو تم یہ بھی جانتے ہو گے کہ اللہ جب دیتا ہے، چھپڑ پھاڑ کے دیتا ہے‘‘۔

وہ کرسی سے اٹھا۔ جانے سے پہلے اس نے کہا ’’اپنے افسرانِ اعلیٰ سے کہہ دو کہ میرے اثاثوں کے بارے میں، مجھ سے نہیں، میرے اللہ سے رجوع کریں۔ میرے پاس جو کچھ ہے، اس کا دیا ہوا ہے‘‘۔

’’اللہ کا پتا تو دیتے جائیے‘‘۔ میں نے کہا ’’آپ کے بارے میں کس پتے پر ہم اللہ سے رجوع کریں گے؟‘‘۔ مالدار کمال رعنائی سے چلتے ہوئے میرے کمرے سے نکل گیا۔ دونوں ہاتھوں میں سر پکڑ کر کافی دیر تک میں چپ چاپ بیٹھا رہا۔ کچھ دیر کے بعد میں نے اڑی اڑی سی رنگت والے شخص سے پوچھا ’’تم اپنے اثاثوں کی تصویریں لے آئے ہو یا دستاویز؟‘‘

اڑی اڑی سی رنگت والے شخص نے پہلی مرتبہ زبان کھولی، اس نے کہا ’’میں اپنے اثاثے اپنے ساتھ لے آیا ہوں‘‘۔

اس شخص کا حلیہ کچھ ایسا تھا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اسے تم اور تو کہہ کر مخاطب کیا۔ میں نے کچھ کچھ تعجب سے پوچھا ’’کہاں ہیں تمہارے اثاثے؟‘‘

اپنے سر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے کہا ’’میرے اثاثے میرے سر میں ہیں‘‘۔

اسکے ایک جملہ سے میرا شک یقین میں بدل گیا۔ وہ اپنے حلیے سے پھٹیچر تو لگ ہی رہا تھا، وہ کھسکا ہوا بھی تھا۔ مجذوب تھا۔ مجھے اس پر ترس آیا۔ ازراہ ہمدردی میں نے اس سے کہا ’’دیکھو بھائی۔ اثاثے وہ ہوتے ہیں جو زمین پر ہوتے ہیں، دکھائی دیتے ہیں، ان کی مالیت ہوتی ہے، ان کی قیمت ہوتی ہے، بیچے اور خریدے جاتے ہیں، سر میں پڑے ہوئے خواب اور خیالات نہ تو بک سکتے ہیں اور نہ خریدے جا سکتے ہیں‘‘۔

’’نہیں نہیں۔ آپ غلط سمجھ رہے ہیں‘‘۔

اس نے مسکراتے ہوئے کہا ’’میں خوابوں اور خیالوں کی بات نہیں کررہا۔ میں اپنے ناول اور افسانوں کی بات کررہا ہوں جو کہ میں نے ابھی لکھے نہیں ہیں۔ اور جو ناول اور افسانے شائع ہو چکے ہیں وہ میں نے انٹیلکچوئل پراپرٹی بیورو کے ہاں رجسٹر کروا دئیے ہیں‘‘۔

میں نے کہا ’’تو پھر تم سی بی آر میں کیا کرنے آئے ہو؟‘‘

’’میں اپنے اثاثے ظاہر کرنے آیا ہوں‘‘۔ اس نے کہا ’’میں جانتا ہوں کہ بائیس کروڑ آبادی والے ملک میں ایک سال میں ناول اور افسانوں کی ایک ہزار سے زیادہ کتابیں شائع نہیں ہوتیں۔ وہ بھی کوڑیوں کے بھائو بکتی ہیں ‘‘۔

’’دیکھو بھائی۔ اثاثے ظاہر کرنے کی آج آخری تاریخ ہے۔ تم ہمارا اور قوم کا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہو‘‘۔ میں نے ذرا سخت لہجے میں کہا ’’کتابوں کے حوالے سے ہم صرف پبلشرز اور بک سیلرز پر نظر رکھتے ہیں، ادیبوں پر نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ملک کے ادیب کنگال ہوتے ہیں‘‘۔

’’وقت بدلنے والا ہے‘‘۔ آنکھوں میں عجیب چمک کے ساتھ اس نے کہا ’’وہ وقت دور نہیں جب بائیس کروڑ آبادی والے پاکستان میں ایک سال میں بیس کروڑ کتابیں شائع ہوںگی، کتابیں بکیں گی۔ تب میری انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی مالیت زرداری اور نواز شریف کے اثاثوں سے زیادہ ہوگی‘‘۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*