تازہ ترین
outline

یورپ کی پہلی خاتون پائلٹ جو 81سال قبل پراسرار طور پر غائب ہو گئی ،اسے ڈھونڈ نکالنے کا دعویٰ 

یورپی خاتون پائلٹ جو81 سال قبل غائب ہوئی تھیں ان کا سراغ مل گیاہے اورایک سائنسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1940 میں پیسیفک آئی لینڈ سے ملنے والی ہڈیاں ممکنہ طور پر مشہور خاتون پائلٹ ایمیلیا ایئرہارٹ کی ہیں

برطانوی میڈیا کے مطابق ایئر ہارٹ، ان کا جہاز اور ان کا نیویگیٹر 1937 میں بحرالکاہل پر سے پرواز کرتے ہوئے غائب ہو گئے تھے۔ ان کے غائب ہونے کے حوالے سے کئی نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔تاہم فورینزک اینتھروپولوجی جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں دعوی کیا گیا ہے کہ جزیرے سے ملنے والی ہڈیاں ایمیلیا ایئرہارٹ کی ہیں۔تحقیق میں دعوی کیا گیا ہے کہ ہڈیاں ایمیلیا سے 99 فیصد مل گئی ہیں

ایمیلیا ایئر ہارٹ اینڈ مکومورورو بونز نامی تحقیق پہلے فلوریڈا یونیورسٹی نے شائع کی تھی اور ٹینیسی یونیورسٹی کے پروفیسر رچرڈ جینز نے یہ تحقیق کی تھی۔اس تحقیق میں پروفیسر رچرڈ نے 1941 میں کی گئی تحقیق کو چیلنج کیا ہے کہ ہوائی سے 2900 کلومیٹر کے فاصلے پر پیسیفک کے جزیرے نکومورورو سے ملنے والی ہڈیاں کسی مرد کی نہیں بلکہ ایک خاتون کی ہیں

خیال کیا جاتا ہے کہ ایمیلیا جب اپنے جہاز اور نیویگیٹر کے ہمراہ پرواز کے دوران غائب ہوئی تھیں تو وہ اس وقت نکومورورو جزیرے کے قریب تھیں۔ وہ جہاز پر دنیا کا چکر لگانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ایک برطانوی مہم جو ٹیم جو ایک جزیرے پر 1940 میں آبادی کے آثار ڈھونڈ رہی تھی کہ انھیں ایک انسانی کھوپڑی، خاتون کا جوتا، بحریہ کا ایک آلہ اور شراب کی بوتل ملی۔کہا جاتا ہے کہ جزیرے سے ملنے والا بحری آلہ ایمیلیا کے نیویگیٹر فریڈ نونن حریہ استعمال کیا کرتے تھے

اس جدید رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جزیرے سے ملنے والی ہڈیاں عام یورپی خاتون کی ہڈیوں سے بڑی تھیں۔ واضح رہے کہ ایمیلیا کا قد عام یورپی خواتین سے زیادہ تھا۔ڈاکٹر جینز کا کہنا ہے کہ جب تک حتمی ثبوت نہیں دیا جاتا کہ یہ ہڈیاں ایمیلیا کی نہیں ہیں تب تک ان ہڈیوں کو ایمیلیا ہی کی سمجھنی چاہییں۔یاد رہے کہ ایمیلیا ایئرہارٹ پہلی خاتون پائلٹ تھیں جنھوں نے بحر اوقیانوس پر سے پرواز کی

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*