outline

ڈاکٹر فرخ سلیم کے بعد لنکا ڈھانے والوں کی فوج ۔رضوان رضی

ہم قومی سطح پر انتہائی حساس معاملات پر ایک سرکس کے تماشائی ہیں۔شائد اس عبوری دور سے گذر رہے ہیں جس کے دوران جنگل کے انتخابات میں شیر ہار گیا تھا اور لومڑی کی سازش کے باعث معاملات بندر کے ہاتھ میں چلے گئے تھے۔ انسانی روئیوں کی ایک الگ سائنس ہے، انسانوں رویوں پر جامعات کے شعبے بنے ہوئے ہیں، جن میں ان رویوں پر دن رات تحقیق جاری رہتی ہے اور انسانیت کو ان رویوں کے نئے جہتوں سے متعارف کروایا جاتا ہے۔ انہی رویوں کے تجزئیے کے دوران ایک نتیجہ یہ بھی اخذ کیاگیا کہ آپ کا ہمراز اگر آپ کا مخالف بن جائے تو وہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے، وہ آپ کے گندے کپڑے سر بازار دھونے کی ستم ظریقی کرتا ہے۔ شائد اسی لئے دنیا کی تقریبا تمام تہذیبوں میں غداری کی سزا موت ٹھہرائی گئی اور انسانیت کے ترقی کر جانے کے باوجود غدار کی موت یہی ہے۔خشوگی کاقتل اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ لیکن ہمارے حکومتی سرکس میں منظر نامہ ہی کچھ اور ہے، ڈاکٹر فرخ سلیم صاحب جو گذشتہ پانچ سال عرق ریزی سے ، ہزار کروڑ والی اصطلاحات کے ذریعے ، کھربوں ڈالر کی کرپشن برآمد کر چکے ہیں، اور قوم کو اتنی کرپشن کا منترا سنا چکے جتنا ستر سالوں کا پاکستان کا کل بجٹ نہیں بنتا، اور حکمران پارٹی اس پر دھمالیں بھی ڈال چکی، ان کو ایک ٹویٹ کے ذریعے نوکری پر رکھا ھیا تھا اور جب اس نوکری کے تقرر نامے کے اجرا میں تاخیر پر انہوں نے غم و غصے کا اظہار کیا تو دوسری ٹویٹ کے ذریعے ان کی چھٹی کروا دی گئی۔ اب وہ گھر کے بھیدی بن کر لنکا ڈھا رہے ہیں، لنکا پر ایسے تاک تاک کر حملے کر رہے ہیں کہ غنیم سے ان کے حملوں کا کوئی جواب نہیں بن پارہا۔ فرماتے ہیں کہ عمران خان کے دورہ جمہوریہ چین کے دوران جس واحد چینی کمپنی سے ملاقات کروائی گئی، وہ جناب رزاق داود کی کمپنی کی ڈیسکون کی یہی سرپرست کمپنی تھی۔ڈیسکون بھی کسی ادارے کا نقاب ہے اور پاکستان میں چینی کمپنی کا ساجھے دار کوئی اور ہے، کیوں کہ نواز شریف کے ناقابل معافی جرائم میں سے ایک جرم یہ بھی تھا کہ انہوں نے مہمند ڈیم کے ٹھیکے میں سے فرنٹئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کا نام نکلوا دیا تھا۔ اسی لئے انسانی روئیے ایک سائنس ہیں جن میں ایک طرف لالچ ،حرص اور ہل من مزید کی خواہش ہوتی ہے تو دوسری طرف کام نکل جانے کے بعد طوطا چشمی بھی ایک دیگر انسانی وصف ہے۔ اب فکر اس امر کی کرنی چاہیے کہ حکومت سے تو ایک ڈاکٹر فرخ سلیم نہیں سنبھالا جا رہا تو پھر ان ساڑھے سات سو افراد کا کیا بنے گا جو نئی انصافی حکومت میں اپنے تقرر ناموں کے منتظر بیٹھے ہیں؟ جب ان کی امیدوں پر پانی پھرے گاتو پھر کون سا سونامی آئے گا؟ لیکن کوئی بات نہیں، یہاں حکومت کا مزاج ذرا مختلف ہے، اور وہ مزاج یہ ہے کہ اس سال اس نے زکوۃ دے دی ہے ، تو اب یہ اگلی زکوۃ تو اگلے سال ہی دے گا ناں، تو پھر اگلے سال تک اس کا فون سننا بند، جب اگلا رمضان آئے گا تو اس کو فون کر یاد دلادیں گے ۔ اللہ اللہ خیر سلا

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*