تازہ ترین
outline
Mian asif

پالش برائے خدمت- میاں محمد آصف

آج کل لفظ”پالش‘‘بہت زیادہ سننے کو مل رہا ہے اور منفی ذہن کے حامل افراداسے اپنی سوچ کے مطابق ڈھال چکے ہیں۔کسی فرد کی جائز تعریف و توصیف بھی کی جارہی ہو تو ’’پالشیاء‘‘ کہہ کر طنز و استہزا کے تیر چلائے جاتے ہیں۔بندہ ناچیز کو بھی حلقہ ء یاراں سے اسی نوع کے القابات سے نوازا جاتا رہا ہے۔پہلے تو خاموشی اختیار رکھی مگر جب پیارے ناقدین کی جانب سے تنقید بڑھتے دیکھی تو ہمیں بھی جواب دینا آگیا۔ارے صاحب! ہم پالش ثواب سمجھ کر کرتے ہیں ۔بے لوث پیار ملے پھر پالش تو بنتی ہے۔ ناقدین نے اپنی خو بدلی تو ہم نے بھی انداز بدل لیااور اپنے چاہنے والوں کے لیئے امپورٹڈ ”پالش” کا استعمال شروع کردیا ۔امپورٹڈ ”پالش” دیکھتے ہی پیارے ناقدین بھنا گئے توہمیں یہ سوچ کر اطمینان ہوا کہ ہم ” پالش ” ٹھیک کر رہے ہیں ،اسی لیئے تو پیارے ناقدین حاسدین کا روپ دھارتے جا رہے ہیں۔ حالانکہ یہ ناقدین اپنے تئیں محنتی اور دفتری کام کاج میں مہارت رکھتے ہیں، بھلا پھر انہیں جلنے اور کڑھنے کی کیا ضرورت؟رقابت کے غم میں دبلے تو وہ ہوں جو کام چور ہیں یاجن کا انحصار محض ” آنیوں جانیوں”پر ہی ہوتا ہےیا پھر وہ جو ہماری طرح کبھی کبھار کام سیکھنے کے چکر میں کمپیوٹر پر ”چڑھ” کر جعلی عکس ڈالنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں ۔ورنہ جلنے کی کیا ضرورت ،جس دئے میں جان ہو گی وہ دیا رہ جائے گا۔ خیر نیت اور سوچ تھی کہ ”پالش” ثواب کا ذریعہ ہے ،اپنے بڑوں کی تعظیم و تکریم کا طریقہ ہے تو اس پر شرمندہ کیوں ہوا جائے؟بدنیتی نہ تھی ،ارادے نیک تھے تو دل میں جگہ کیسے نہ بنتی ،ہاں البتہ بڑوں کے پیار کا اندازہ چند روز قبل زیادہ ہوا ۔کئی روز سے ہونے والے درد کی شدت محسوس کی تو اپنی حیثیت کے مطابق ڈاکٹر صاحب سے رابطہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے پیٹ میں انفیکشن کا کہہ کر آپریشن کا اشارہ دے دیا۔پریشانی انتہاکو جا پہنچی کہ بچے ہیں ،بیوی ہے ڈاکٹر صاحب نے آپریشن کا بول دیا ہے۔ آپریشن تو بڑا جھنجھٹ ہوتا ہے، ذرا سی غلطی پر زندگی بھی جا سکتی ہے۔ اور آئی پھر ” پالش ” ہی کام آئی۔حقیقی ٹیچر، استاد محترم ڈائریکٹر نیوز ٹوئنٹی فور نیوز میاں طاہر صاحب اپنے شاگرد کی بیماری سنتے ہی پریشان ہوگئے اور یوں لگا جیسے ان کی ذاتی پریشانی ہو۔ اتنے میں ایک اور فرشتہ صفت شخصیت یعنی باس آ گئے اور مجھے دیکھتے ہی بولے ” کدھر؟ ڈیوٹی مارننگ ہوگئی؟ ” (یہ باس درد دل رکھنے والی شخصیت محسن نقوی صاحب ہیں جو پانچ چینلز کے مالک ہیں مگر پھر بھی تکبر سے پاک ہیں۔ اسٹاف کے ہر ممبر کی خبر گیری فرض سمجھتے ہیں) عرض کی باس ڈیوٹی ایوننگ ہی ہے ”برکت” کیلئے ابھی (صبح ساڑھے دس بجے) آیا ہوں ۔اتنے میں پیارے میاں صاحب (میرے منہ بولے بڑے بھائی میاں طاہر صاحب) نے باس کو بتایا کہ ”اپنے منڈے دی طبیعت ٹھیک نئیں”۔ باس بھی سنتے ہی پریشان ہوگئے ۔بولے “او ہو، میں کچھ کرتا ہوں”۔ پھر کچھ نہیں، سب کچھ ہی کردیا اور وہ بھی منٹوں منٹی۔۔ ملائی کال سینئر ترین پروفیسر وائس چانسلر میڈیکل کالج کو، اور کچھ ہی ٹائم بعد آفس کے ساتھ والے پرائیویٹ اسپتال بلا لیا۔ اپنا منڈا (یعنی میں) پروٹوکول کیساتھ ڈاکٹر صاحب تک پہنچا۔ ڈاکٹر صاحب نے کافی تسلی سے چیک کیا اور بولے سرجری والا کام ہے آپریشن کب کریں؟ عرض کی ڈاکٹر صاحب جب آپ مناسب سمجھیں۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا دو تین دن نکال سکتے ہیں اگر زیادہ درد نہیں؟ چونکہ انتہائی درد نہیں تھا اس لئے بول دیا ڈاکٹر صاحب چار دن بھی رک سکتا ہوں۔ آپریشن کے لیئے چار دن بعد کا ٹائم لے کر باس (محسن نقوی صاحب) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عرض کی باس ڈاکٹر صاحب نے اچھے سے چیک کیا ہے اور ہفتہ کا دن آپریشن کیلئے دیا ہے ۔”اپنے منڈے ” کی شکل ہی ایسی ہے کہ باس نے دیکھا اور ہوگئے پھر فکر مند۔مجھے بولے ”او ہیلو ” پریشان نہیں ہونا۔باس نے ایک نہیں تین بار یہی الفاظ کہے۔اندازہ ہوا کہ پریشان میں نہیں، باس ہیں۔باس نے ملائی پھر کال محترم سرجن صاحب کو ۔جانے کیا بات ہوئی ، علم نہیں۔مگر نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے ہی روز میرے جاگنے سے قبل آفس کے اسپیشل نمبر سےبارہ فون کالز آچکی تھیں۔موبائل دیکھتے ہی کہا اللہ خیر ،آفس کے اسپیشل نمبر سے بارہ کالز اور ہم سوتے ہی رہ گئے ۔واپس کال ملائی تو آواز آئی’’میاں صاحب کل تہاڈا آپریشن اے، مسئلہ تو نہیں اوکے کر دیں؟ ‘‘ درد تو کم تھا مگر ٹینشن بہت، فوری جواب دیا’’اوکے ڈن کریں چودھری صاحب‘‘ پھر محترم ڈاکٹر صاحب سے تفصیل معلوم کرنے کے لیئے رابطہ کیا توڈاکٹر صاحب نے پوچھا’’محسن نقوی صاحب آپ کے کیا لگتے ہیں؟‘‘بے ساختہ منہ سے نکلا،’’ابا جی لگتے ہیں‘‘ ڈاکٹر صاحب نے پوچھا، آپ بھی نقوی ہیں؟ میں نے کہا “ڈاکٹر صاحب ہم نقوی تو نہیں آرائیں ہیں”۔ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ “چلیں جو بھی ہیں لیکن محسن نقوی صاحب آپ کیلئے بہت فکر مند ہیں”۔ فوری طور پر دل سے یہ بات نکلی’’ڈاکٹر صاحب وہ مجھ سے زیادہ فکر مند ہیں تو ابا جی ہی ہوئے ناں‘‘۔ڈاکٹر صاحب مسکرائے اور فون بندکر دیا۔ اگلے ہی روز ”پروٹوکول ” سے ہم آپریشن تھیٹر پہنچے۔سرجن صاحب کوالیفائیڈ میڈیکل ٹیم کے ہمراہ آپریشن تھیٹر آئے اور ایک اسسٹنٹ ڈاکٹر مجھ سے مخاطب ہوئیں۔” اپنا منڈا ” بڑے مزے سے ہلکی پھلکی گفتگو کر رہا تھا ۔محترم سرجن اور ان کی ٹیم نے لوکل اینس تھیزیا (نیم بے ہوشی) دیا اور اپنی کارروائی شروع کر دی ۔”اپنا منڈا” گفتگوکا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھا کہ تقریباً چالیس منٹس گزر گئے تو ڈاکٹر صاحب سے استفسار کیا ’’سر! سرجری اسٹارٹ کرنے سے پہلے بتائیں گے ناں؟‘‘ محترم سرجن صاحب نے ہنستے ہوئے جواب دیا ’’آپ کا کام تو تمام ہو چکا ،اب تو پٹی کر رہے ہیں‘‘مطلب آپریشن ہوا اور مریض کو پتہ بھی نہیں چلا۔ہے ناں ’’پالش ‘‘ کا کمال صرف چھ دن میں ہی چھیاسٹھ دن کی فٹنس محسوس کرنے لگا۔ آپریشن کے چودہ گھنٹے بعد وہی سرجن صاحب نیا پینٹ کوٹ پہنے ،گلدستہ لئے میرے کمرے میں آئے ساتھ میں پھر ڈاکٹرز کی پوری ٹیم تھی۔ آتے ہی حکم دیا کہ ”منڈے ” کو بیڈ سے اتارو اور تھوڑا چلاؤ۔ سرجن صاحب کے الفاظ سنتے ہی ”منڈے ” کے پسینے شروع، پاؤں زمین تک پہنچتے ہی بے ہوشی کے قریب جا پہنچا۔

خیر۔۔! محترم سرجن صاحب کا حکم تھا ،چند قدم دوستوں کے سہارے چلا تو گیا مگر واپسی ویل چیئر کےبغیر نہ ہوپائی۔ اللہ پاک نے ہمیشہ کی طرح اپنا خاص کرم فرمایا اور ”اپنا منڈا” الحمداللہ پہلے کی طرح گھر کی رونق (صاحبزادی) سے خوش گپیوں میں مصروف ہے۔ اس دن سے دماغ میں بس ایک ہی خیال چھایا ہے اور زبان سے یہی الفاظ نکل رہے ہیں’’واہ میریا سونیا ربّا!چھوٹی سی مشکل کیا آئی؟تین فرشتے بھیج دیئے؟سمجھ نہیں آرہا کہ کیسے شکریہ ادا کروں اپنے محسنوں کا ۔اتنا پیار دینے پر تہہ دل سے شکریہ جناب باس سی ای او سٹی نیوز نیٹ ورک محسن نقوی صاحب،جناب ڈی این ٹوئنٹی فور نیوز میاں طاہر صاحب،جناب وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل صاحب ۔

سر! جانتا ہوں اتنی بڑی شفقت پر الفاظ ناکافی ہیں۔مگر کیا کروں؟ ایک فقیر کے پاس صرف الفاظ ہی ہوتے ہیں۔

بلاگر سینئرصحافی اور  ٹوئنٹی فور نیوز میں سینئر اسائنمنٹ ایڈیٹر ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*