تازہ ترین
outline

موجودہ حکومت نے ابتدائی پانچ ماہ کےدوران کتنا قرض لیا ،اعدادوشمار جان کر آپ کے طوطے اڑ جائیں

انتخابی مہم کے دوران اور اس سے پہلے تحریک انصاف قوم کو بتاتی رہی ہے کہ پیپلز پارٹی اور پھر مسلم لیگ (ن)کی حکومتوں نے ملک کو قرضوں میں جکڑکر رکھ دیا ہے مگر نئے پاکستان میں ملکی وقار گروی رکھ کر قرضے نہیں لیئے جائیں گے بلکہ خودانحصاری کی پالیسی اپنائی جائے گی۔

مگر نئے پاکستان کی نئی حکومت نے ابتدائی پانچ ماہ کے دوران کتنا قرض لیا ؟اعدادوشمار سن کر آپ کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے

پاکستان اسٹیٹ بنک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق قرضے لینے میں تحریک انصاف کی حکومت نے سب کو پیچھے چھوڑ کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ کے دوران اندرونی اور بیرونی قرضوں میں مجموعی طور پر 2.24ٹریلین یعنی 22کھرب40ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

یہ کتنی بڑی رقم ہے اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ 2013ء میں پاکستان کے قرضوں کا مجموعی حجم 14.4ٹریلین روپے تھا۔مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے پانچ سال کے دوران 9.4ٹریلین روپے کا قرض لیا جس کا بیشتر حصہ پہلے سے واجب الادا قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں خرچ ہوا ۔

حالیہ حکومت نے ابتدائی پانچ ماہ کے دوران 2.24ٹریلین کا قرضہ لیا ہے یعنی اگر ’’ترقی و خوشحالی ‘‘کا یہ سفر اسی رفتار سے جاری رہا اور موجودہ حکمران پاکستان پر مسلط رہے تو ایک سال بعد قرضوں کے حجم میں 5.36ٹریلین کا اضافہ ہو جائے گا اور شومئی قسمت پانچ سال میں لیئے گئے قرضوں کا حجم 26.88ٹریلین تک پہنچنے کی توقع ہے ۔یعنی قیام پاکستان سے 2018ء تک تمام حکومتوں نے 71سال میں 23.8ٹریلین روپے قرض لیا مگر نئے پاکستان کے ابتدائی پانچ سال کے دوران لیئے گئے قرضوں کا بوجھ 26.88ٹریلین روپے ہوگا ۔گویا
ابتداء عشق ہے روتا ہے کیا ،آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*