تازہ ترین
outline

خود بکھر گیا۔۔رشتے سمیٹتے سمیٹتے

سر کے بال کافی سفید ہو چکے تھے ،داڑھی میں بھی چاندی اتر آئی تھی42سال میں دنیا کے کئی رنگ دیکھ چکا تھا مگر احمد کے دل و دماغ سے دریا کنارے صدیوں سے آباد گاؤں،اس کی گلیاں ،خصوصا بڑا بازار اور سادہ دل لوگ کبھی نہ نکل پائے۔رات کو آنکھیں بند کرتے ہی سارا منظر اس کے سامنے اللہ دین کے چراغ سے برآمد ہونے والے جن کی طرح حاضر ہو جاتاکافی دیر وہ اس سحر میں مبتلا رہتا ناجانے کب آنکھ لگ جاتی صبح بیدار ہوتا تو تکیہ آنسوؤں سے بھیگا ہوتا۔احمد کی ابتدا سے ہی تربیت اس کے ماموں اور خالہ نے اپنے ذمہ لی تھی وہ دونوں بہن بھائی احمد کی دیکھ بھال اور محبت میں اس قدر محو ہو گئے کہ کب ان کی جوانیاں ڈھل کر بڑھاپے کی دہلیز پہ جا پہنچیں، انہیں خبر ہی نہ ہوئی احمد کے والد جو کہ ایک انتہائی شفیق اور ملنسار انسان تھے ہر شخص کے دکھ درد میں نہ صرف شریک ہوتے بلکہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر امداد بھی کرتے۔دونوں بھائی ہنسی خوشی روکھی سوکھی کھا کر گزارا کر رہے تھے اچانک زندگی میں تبدیلی اس وقت آئی جب احمد کے والد کی پہلی بیوی جس میں سے ایک بیٹا تھا وفات پا گئیں چھوٹی عمر کا بچہ اور احمد کے والد کا غم گھر میں ویرانی کے ڈیرے،ایسے عالم میں احمد کی والدہ جو کہ انتہائی صابرہ خاتون تھی سے احمد کے والد کا نکاح کردیا گیا انہوں نے اس بچہ کی دیکھ بھال اور تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی وقت ایک دفعہ پھر اس گھر میں خوشیوں کی بہار لے کر آیااحمد کا والد جب گھر آتا ان دونوں ماں بیٹے کو ہنستے مسکراتے پاتا تو اپنے تمام غم بھول جاتا ۔احمد کی پیدائش ہوئی تو احمد کی امی نے اپنی چھوٹی بہن کو دل کی بات کہی کہ مجھے یہ فکر ہے کہ احمد کی دیکھ بھال میں مگن ہو کر میں کہیں علی کی دیکھ بھال میں کوتاہی نہ برت بیٹھوں اس کی بہن جو پہلے ہی احمد کے چاند سے مکھڑے پر فدا ہو چکی تھی فورا گھر آئی اپنے بھائی سے مشورے کے بعد احمدکی پرورش کی ذمہ داری سنبھال لی ۔احمد کے ننھیال چونکہ گاؤں میں رہتے تھے اور والدین دریا کے دوسرے پار اپنے کھیتوں میں آباد تھے۔کبھی کبھار جب احمد کی خالہ ، ماموں یا نانی کا دریا پار کھیتوں میں آنا ہوتاتو کچھ دیر کے لیئے احمد کی امی اپنے فرزند کو سینے سے لگا کر اپنے پیارے کی جدائی کا سارا درد بھول جاتی۔احمد کی ابتدائی تعلیم کاآغاز ا پنی نانی اور خالہ کی آغوش ،ماموں کی خوبصورت تلاوت قرآن سن کر ہوا پھر باقاعدہ تعلیم کے لیئے ماموں نے اپنے ہی استاد جن سے قرآن حفظ کیا تھا کے حوالے کر دیاوہ نا صرف پورے گاؤں کے استاد تھے بلکہ ایک مکمل راہنماء اور زمانہ شناس انسان تھے انہوں نے احمد کو تیسری جماعت تک قرآن کے ساتھ ساتھ عربی اور فارسی میں بھی کافی راہنمائی دی اس وقت مسجد کے ساتھ منسلک ودود سکول ہوا کرتے تھے جن میں تیسری جماعت تک قرآن مکمل کروانے کا بندوبست ہوتا تھا۔احمد ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ ننھیا ل کی آنکھوں کا تارا بھی تھا سب اس سے بے حد محبت کرتے تھے عصر کی نماز کے بعد شام تک گاؤں کے بچے دریا کنارے کھیلتے اور چاندنی راتوں میں رات گئے تک مشہور کھیل (واہنجوں)کھیلا جاتا جس میں تمام عمر کے افراد حصہ لیتے یہ سب اتنا لگاؤ والا عمل ہوتا کہ ہر کوئی جہاں بھی گیا ہوتا شام کو واپس آکر اس کھیل میں شریک ہوتا۔احمد پانچویں جماعت میں پڑھ رہا تھا ایک رات وہ کھیل کر واپس آیا تو اس کی امی اور ابو گیلے کپڑوں کو آگ کے قریب خشک کر رہے تھے، نانی اماں اور خالہ کی آنکھیں نم تھیں جو انہوں نے احمد کے آتے ہی اپنے دوپٹوں سے صاف کیں اور خالہ نے مصنوعی انداز سے احمدکو ڈانٹنا شروع کر دیا کہ یہ کونسا وقت ہے گھر آنے کا ہم سب کتنے پریشان ہیں جاؤ جا کر منہ ہاتھ دھو لو کھانا تیار ہے،احمد کے لیئے یہ سب عجیب سا تھا کیونکہ اس نے آج تک ایسا منظر نہیں دیکھا تھا تھوڑا سہما ہوا تھا مگر ماموں کی آواز آتے ہی اس کا چہرہ کھل اٹھا وہ اندر کمرے میں نماز پڑھ کے فارغ ہوئے تو انہوں نے آواز دی احمد میرے پاس آؤ یار آج کون جیتا اکثر احمد کھیل کے بعد واپس آکر ماموں کو جیت ہار کے قصے سناتا اور ماموں اسے بڑا آدمی بننے کے گر سکھاتے مگر آج ماموں احمد کو اپنے سینے سے لگائے خاموش اپنے درد کو آنکھوں کے راستے بہا رہے تھے۔صبح جمعہ تھا اور سکول سے چھٹی ہونے کی وجہ سے احمد گھر پر تھا رشتے دار مرد و خواتین صحن میں جمع تھے اور سب علی اور احمد کے دادھیال کو لعن تعن کر رہے تھے۔دراصل ہوا کچھ یوں کہ تایا کی بیٹی سے علی کی شادی کا پروگرام بنایا جارہا تھا سب ٹھیک چل رہا تھا صبح بارات جانی تھی ناجانے رات کو ایسا کیا ہوا کہ علی غصے سے آگ بگولہ تھا داد جی کو وہ پہلے ہی اعتماد میں لے چکا تھا،سب زیورات،جمع پونجی اس نے سنبھال لی تھی،دکان اور کھیت پہلے ہی اس کے کنٹرول میں تھے اچانک باہر سے آیا اورابو سے تکرار شروع کر دی یہ تکرار اتنی شدت پکڑ گئی کہ علی کے چند سسرالی علی کے دادا کے ہمراہ آگئے آتے ہی علی کے والد کو سمجھانا شروع کر دیاکہ شادی کے اس موقع کو خوشی سے گزرنے دیا جائے آپ بڑے ہو آپ ہی چلے جاؤ تاکہ اس بچے کی شادی دھوم دھام سے ہو جائے اس کی ماں پہلے ہی اس دنیا میں نہیں اسے مذید پریشان نہ کیا جائے۔یہ الفاظ سنتے ہی ان دونوں میاں بیوی کی تو جیسے سانسیں ہی رک گئیں انہیں یوں لگ رہا تھا جیسے آسمان سے تارے طوفانی بارش کی مانندٹوٹ ٹوٹ کر ان کے سروں پر برس رہے ہوں ،مت پوچھ کیسے گزری وہ رات ہم پہ۔برساتی تھی اطراف سے پتھر تیری یادیں،کے مصداق وہ دونوں میاں بیوی بھرے مجمے میں تنہا کھڑے تھے ان کی ساری امیدیں ،امنگیں دم توڑ چکی تھیں ۔باپ سر جھکائے آگے آگے چل رہا تھا اور ماں اپنے تین سالہ بیٹے کو سینے سے لگائے رک رک کر پیچھے مڑ مڑ کر دیکھ رہی تھی اور اپنے خاوند کو شاید یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ کچھ دیر رک جاؤ میرا دل کہتا ہے کہ میرا علی بھاگتا ہوا پیچھے آئے گا اور ہمیں واپس گھر لے جائے گا کیونکہ اسے شاید پتا نہیں کہ میں ننگے پاؤں ہوں مگر یہ الفاظ حلق سے باہر نہیں نکل رہے تھے،تمام راستے دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے بات کیے بغیر دریا پار کرتے ہوئے احمد کے ننھیال پہنچ چکے تھے۔سب کچھ ایسے ہاتھ سے نکل گیا جیسے 1947میں مہاجرین تن تنہا اجڑے دیار کی داستاں بن گئے تھے۔اپنی خوداری کا بھرم قائم رکھنے کے لیئے دن رات محنت کی اور نظام زندگی میں پھر سے بہار آگئی،دوسری جانب احمد کو بہترین تعلیم کے لیئے لاہور بھیج دیا گیا اور ننھیال نے اپنی پوری توجہ احمد پر مرکوز کر لی۔احمد ایف اے کا امتحان دے چکا توکچھ دن چھٹیاں گزارنے گاؤں گیا ،پہلے بھی وہ اپنی امی ابو اور بہن بھائیوں کے ساتھ وقت گزارنے کی بجائے ننھیال میں رہنے کو ترجیع دیتا تھا اور ننھیال والے بھی اسے دادھیال کے ہاں بھیجنے سے ذرا گریز ہی کرتے۔دریا میں اس بار سیلاب نے کٹاؤ کرنا شروع کر دیااور دیکھتے ہی دیکھتے سات ہزار سے زیادہ گھروں پر مشتمل آبادی کو دو دن میں نقشہ ہستی سے مٹا دیاوہ ایسا منظر تھا جو آج بھی احمد یاد کر کے اپنی ہچکیاں نہیں روک پاتا،بھوکھے پیاسے لوگ اپنے اپنے فردا کی فکر میں مارے مارے پھر رہے تھے کوئی کسی کا پرسان حال نہ تھا،اماں کی تلاش میں کوئی کہیں بسا تو کوئی کہیں،احمد بھی اپنے ننھیال کے ساتھ دریا کے پار اپنے کھیتوں میں جا بسا جہاں اس کے والدین پہلے ہی آباد تھے اس برباد ماحول میں ایک بات خوشی کی تھی کہ اب احمد اپنے پورے خاندان کے ساتھ ایک ہی چھت کے نیچے رہ رہا تھا،احمدنے اپنی آنکھوں سے اجڑے ہوئے چمن میں پھر بہار آتے

man portrait

دیکھی،لوگوں نے ایک بار پھر دریا کا پانی اترنے کے بعد زمین کا پیٹ پھاڑ کر اپنے مقدر کا اناج حاصل کر لیا،جھاڑے کے موسم میں مرنے والے پرندوں کے ٹوٹے پروں اور بکھرے پنجروں کے باوجودبہار آتے ہی گنگنانے اور چہچہانے کی رسم کو زندہ رکھتے ہوئے وہ سب شاد و آباد تھے جو تھوڑا عرصہ پہلے اپنے چمن کو اپنی آنکھوں کے سامنے اجڑتا ہوا دیکھ چکے تھے ۔احمد کا رزلٹ آچکا تھا وہ واپس لاہور آگیا،بی اے کی کلاسز شروع ہو چکی تھیں ،ایک دن اس کو والد نے بلوایا اور اپنے ساتھ کھیتوں میں لے گئے سارے راستے پڑھائی کا پوچھتے رہے ساتھ ساتھ بڑے بھائی کا احترام کرنے اور اس کے بچوں کو پیار کرنے کی نصیحتیں اور چھوٹے بھائیوں کا خیال رکھنے کے احکامات دیتے رہے،احمد کے لیئے یہ سب عجیب تھا کیونکہ آج سے پہلے کبھی اس کے والد نے اسے اس طرح کوئی نصیحت نہیں کی تھی کچھ دیر بعد ہنسی مذاق میں باتیں کی پھر پوچھا یار مجہیں یاد آیا اپنی امی سے کہو تمہاری شادی کی کوئی فکر کرے،کہیں لاہور میں تو نہیں کروانے کا پروگرام؟ احمد اپنے والد کی باتیں سنتا رہا جب واپس آنے لگے تو والد نے پھر ایک مرتبہ احمد سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ دیکھو بیٹا علی جیسا بھی ہے تمہارا بھائی ہے اس کا احترام ایسے ہی کرنا جیسے میرا کرتے ہو،مجھے اس سے کوئی رنج نہیں تم بھی دل میں نہ رکھنا ،بیٹا میں تمہاری طرح پڑھا لکھا تو نہیں پر اتنا معلوم ہے کہ معاف کرنے والا بڑا ہوتا ہے اور میری خواہش ہے کہ تمہارے چچا کی ایک ہی بیٹی ہے اس سے شادی کرنا تاکہ ہم بھائیوں میں جو غلط فہمیاں ہیں وہ ختم ہو جائیں۔احمد اب اچھے نمبروں سے بی اے کر چکا تھا اور یونیورسٹی میں داخلہ لے چکا تھا اچانک ایک شام کو فون پر اطلاع ملی کہ کھیت میں سے چارہ کاٹتے ہوئے احمد کے ابو کو سانپ نے کاٹ لیا ،احمد پر تو جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو، انتہائی پریشانی کی حالت میں گاؤں پہنچا والد اس وقت زندگی اور موت کی کشمکش میں تھے قریب بلا کر کان میں آہستہ سے کہا وعدے تو یاد ہیں؟ یہ سنتے ہی احمد کے ذہن میں وہ دن اور ابو کا ساتھ ،تمام باتیں اور نصحتیں گھومنے لگیں وہ چارپائی پر سر رکھے زمین پر بیٹھا خوابوں کی دنیا میں چلا گیا،اسے کیا خبر تھی کہ اس کے باپ کی آخری سانسیں رکی ہی اس کو وعدے یاد کروانے کی لیئے تھیں،اس کے والد خالق حقیقی سے جا ملے اس وقت اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا،اچانک ماموں نے
احمد کو کندھے پر ہاتھ رکھ کرکھڑا کیا ،اپنے سینے سے لگاتے ہوئے قریب مسجد میں نماز عصر کے لیئے ساتھ لے گئے،نماز کے بعد احمد خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔تدفین کے دوسرے روز احمد کو ایک مرتبہ پھر انتہائی تکلیف سے گزرنا پڑاجب وہ اپنے باپ کی رسم قل کا اہتمام کرنے میں مصروف تھا اور اس کا بڑا بھائی علی جائیداد کے بٹوارے کا نہ صرف مطالبہ کر رہا تھا بلکہ پنچائیت بلوا کر ان کے سامنے اپنا تقاضا کر رہا تھا۔جب احمد کو بلوایا گیا تو اس نے اتنا کہا کہ اگر مناسب ہو تو کل تک اس بات کو مؤخر کر دیا جائے مگر وہ بضد تھا کہ ابھی فیصلہ کیا جائے۔بہت سے لوگ احمد کوکہہ رہے تھے کہ علی نے پہلے چھوڑا ہی کیا ہے جو اب حصہ مانگ رہا ہے مگر احمد کو والد کی نصیحت یاد تھے اس نے اپنے بڑے بھائی کو ہاتھ سے پکڑا گلے لگایا اور کہا بھائی جان جہاں سے حصہ چاہیے لے لیں اس طرح وہ بٹوارہ کر کے گھر آگیا۔اس کا وہ تعلیمی سال تو انہی پریشانیوں میں گزر گیا ،اس نے پڑھائی کے ساتھ ساتھ ٹیوشن بھی پڑھانا شروع کر دیا اس طرح اس نے اپنی تعلیم تو مکمل کر لی پر اس کا ذہن ہر وقت اپنے گھریلو معاملات میں الجھا رہا۔اس دوران اس کی ملاقات سمیرا سے ہو گئی وہ نہ صرف اس کی عزت کرتی بلکہ دل ہی دل میں اس سے پیار بھی کرتی ،احمد بھی اس کی بے حدعزت کرتا وقت کے ساتھ ساتھ ان کی محبت بڑھتی چلی گئی دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا ،احمد کے سامنے اب اگر کوئی مشکل تھی تو صرف یہ کہ اپنے ماموں کو کس طرح راضی کرے ،یہ پیار محبت اور وعدے وعید کا سلسلہ کم وبیش چار سال تک جارہی رہا ایک دن احمد نے اپنے سب سے بہترین بھائی جیسے دوست کو تمام واقعہ سنایا وہ دوست چونکہ اس سے بے حد لگاؤ رکھتا تھا اس نے سب اپنے ذمہ لے کراحمد کو خاموش رہنے کا کہا۔ایک دن احمد اپنے فلیٹ پر تنہا بیٹھا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی اس نے دروازہ کھولا تو سامنے سمیرہ تھی ،اندر آتے ہی وہ احمد سے لپٹ کر رونے لگی احمد کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھااس نے اسے خاموش کروایا اور سارا معاملہ اس سے پوچھا،اس نے کہا میں تم سے سچی محبت کرتی ہوں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنی خواہش پوری کرنے کے لیئے میں تمہیں اپنے باپ سے کیے ہوئے وعدے سے دور کر دوں مجھے تمہارے دوست نے سب بتا دیا ہے اگر تم مجھ سے سچی محبت کرتے ہو تو وہی کرو جو تم نے اپنے مرے ہوئے باپ کے ساتھ وعدہ کیا تھا ،آج نجانے کیوں احمد کو سمیرہ دنیا کی سب سے بڑی اور قیمتی چیز دکھائی دے رہی تھی اور احمد کا دوست تو اس کے لیئے فرشتہ صفت انسان ثابت ہوا۔احمد کی شادی اس کی کزن سے ہو گئی اور چند ماہ بعد سمیرہ کی بھی شادی ہو گئی، احمد اپنی بیوی سے بے حد محبت کرتا بعض دفعہ وہ ایسی باتیں کر جاتی جو احمد کو ناگوار گزرتیں مگر احمد ہنس کر ٹال دیتا اور دل میں کہتاکہ پاگل تم میرے باپ کی وصیت ہو اور تجھ پر میں نے اپنی محبت قربان کی ہے،بس ایسے ہی ان کی زندگی گزرنے لگی،دوسری طرف بڑا بھائی جس نے اپنے بچوں کی شادیاں کرنی تھی اب چھوٹے بھائیوں کے قریب آچکا تھا،ان کی مدد اور تعاون لینے کے بعد چھوٹی سی بات کا بتنگڑ بنا کر پھر ایک دفعہ بھائیوں کو چھوڑ چکا تھا بلکہ اس حد تک چلا گیا کہ اپنے بھائی کو شریکے کے سامنے بے عزت کر کے گھر سے اٹھا دیا،احمد یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کے بھائی کے دل میں کوئی درد نہیں آج بھی اس کو باپ کا درجہ دیتا ہے،احمد پڑھا لکھا ہونے کے ساتھ انسان دوست شخص بھی ہے اس کی خواہش ہے کہ میرے باپ سے جڑے تمام رشتے قائم و دائم رہیں مگر اسے محسوس ہونے لگا ہے کہ سب رشتے نبھانا مشکل ہی نہی ناممکن بھی ہے،اب وہ ٹوٹ چکا تھا ،دریا کنارے بیٹھا میلوں دور پھیلی ریت میں سے اپنا گاؤں تلاش کر رہا تھا ان سچے لوگوں کو تلاش کر رہا تھا جو کانٹا چبھتے ہی اس پر جان نچھاور کرنے کو تیار ہو جاتے مگر اب وہاں ان میں سے کوئی بھی نہ تھا کچھ منوں مٹی تلے دب چکے تھے اور کچھ روزی روٹی کی تلاش میں کہیں دور جا چکے تھے۔آج وہ تنہا ریت کے ٹیلوں میں دھنسا اپنا بچپن ڈھونڈ رہا تھا اس کی آنکھوں سے نکلے آنسوں دریا کے پانی میں اچھال پیدا کر رہے تھے،اس کا ذہن ناجانے کس دنیا کی سیر کرنے نکل چکا تھا وہ اپنے آپ میں نہ رہا اچانک اس کے بیٹے نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا پاپا چلو دیر ہو رہی ہے ہمیں دادا ابو کی قبر پر لے چلو دادا ابو کا نام سنتے ہی وہ اٹھا آنکھیں صاف کی اور بیٹے کی انگلی پکڑے اسے دادا ابو کی قبر کی طرف لے کر روانہ ہو گیا،بیٹا شاید احمد سے کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر خاموش رہا شاید وہ اپنے باپ کو اس سحر سے باہر نہیں نکالنا چاہتا تھامگر احمد اس فکر میں مبتلا تھا کہ اگر میرے باپ نے قبر سے آواز دے کر پوچھ لیا کہ بڑے بھائی کا کیا حال ہے تو میں کیا جواب دوں گا،اتنے ظلم سہنے کے باوجود بھی احمد اس سوال کا جواب دینے سے شاید قاصر تھا

امتیاز شاد پیشے کے اعتبار سے معلم اور صحافی ہیںImtiaz shad

اخبارات میں کالم لکھتے ہیں اور افسانہ نگاری بھی کرتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*