outline

لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے سے روک دیا ،نیب کی چھاپہ مار ٹیم ناکام واپس

لاہور ہائیکورٹ نے قومی احتساب بیورو کو پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں حمزہ شہبازشریف کی گرفتاری سے روک دیا ہے جس کے بعد نیب کی چھاپہ مار ٹیم کو ناکام واپس لوٹنا پڑا ہے

قبل ازیں نیب کی چھاپہ مار ٹیم دوسری بار حمزہ شہباز کو گرفتار کر نے کے لیئے ماڈل ٹائون میں ان کی رہائشگاہ پہنچی تو ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ (ن)کے کارکن ان کے راستے کی دیوار بن گئے اور کئی گھنٹوں کی لگاتار کوشش کے باوجود نیب ان کے گھر میں داخل نہیں ہو پائی

دن بھر ماڈل ٹائون میں ہونے والی آنکھ مچولی اور جھڑپوں کے بعد اس واقعے سے متعلق حمزہ شہباز کے ذاتی سیکیورٹی گارڈز کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے

حمزہ شہباز کے وکلا کی جانب سے نیب کی جانب سے انہیں گرفتار کرنے کے اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا اور متفرق درخواستیں دائر کی گئیں جن میں کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت کی درخواست پر نیب کو واضح حکم دے رکھا ہے کہ گرفتاری سے قبل عدالت کو آگاہ کیا جائے

ہفتے کے روز مقدمات کی سماعت نہ ہونے کے باعث حمزہ شہباز کے وکلا نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے ملاقات کی اور معاملے سے آگاہ کیا۔

حمزہ شہباز کے وکلا نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بتایا کہ نیب کی ٹیم ان کے مؤکل کو گھر میں گھس کر گرفتار کرنا چاہتی ہے، اس معاملے سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہے لہٰذا نیب کو گرفتاری سے روکا جائے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کے وکلا کی درخواست پر اپنے چیمبر میں درخواست کی سماعت کی اور عبوری حکم جاری کیا جس کے بعد نیب کی ٹیم ناکام واپس لوٹ گئی

نیب کی ٹیم کے جانے کے بعد حمزہ شہباز نے اپنے گھر کے باہر آکر میڈیا کے نمائندوں سے بات کی اور کہا کہ عدالت کا حکم نامہ میرے پاس ہے، قانون کی حکمرانی کے لیے عدالتی فیصلے کااحترام کرنا چاہیے آپ مجھے گرفتارنہیں کرسکتے۔’

حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا کہ ‘آؤ میثاق جمہوریت پر بات کرو ، اپوزیشن عوام کی خاطر اپنا کردار ادا کرے گی ، سیاسی لڑائی کے لیے عمر پڑی ہے ڈالر کی قیمت آج پاکستانی معیشت پرسوالیہ نشان لگارہی ہے۔’

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*