تازہ ترین
outline
sad man

دل پر بوجھ۔امتیاز احمد شاد

ایک ماہ سے میں دیکھ رہی ہوں آپ دن بدن کمزور ہوتے جا رہے ہیں،آپ کے بال پہلے سے زیادہ سفید ہو گئے ہیں،چہرے پر وہ پہلے سی تازگی بھی نہیں،ایسا کون سا دکھ ہے جو آپ کو اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے۔عامر ڈرائینگ روم میں ٹی وی دیکھ رہا تھا مگر آسیہ کے سوالات اس کے چہرے پر مزید اداسیوں اور پریشانیوں کے نشانات گہرے کر رہے تھے۔جب آسیہ کے سوالات بڑھنے لگے تو عامر نے جھکی نگاہوں سے آسیہ سے کہا ،جاؤ چائے تو بنا لاؤ، سر بڑا دکھ رہا ہے،میری باتیں تو آپ کو ویسے ہی زہر لگتی ہیں،میں آپ کی بیوی ہوں ،آپ کی یہ حالت دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے،ناجانے کیا کیا منہ میں بڑ بڑاتے ہوئے کچن میں چلی گئی۔عامر جو پہلے ہی اپنے چمن کے اجڑنے کا غم دل میں لیئے کئی دنوں سے چپ چپ سا تھا اب آسیہ کے سوالات کا جواب دینے کی اس میں ہمت نہ تھی۔عامر ایک سیلف میڈ انسان تھا اس کی تمام عمر محنت،ایمانداری اور اتنا کماؤ جتنی ضرورت ہے ایسے اصول پر گزری،اس نے خود کما کر اپنی تعلیم مکمل کی،والد کی وفات کے بعد بھائیوں کوگردش ایام اور زمانے کی دشنام درازیوں سے بچانے کے لیئے خود کو ان کے لیئے وقف کر دیا،اس کے پاس جو آیا اس نے اسے انکار نہ کیا ،دروازے سب کے لیئے کھلے رکھے،اپنے تمام رشتہ داروں کو وہ عزت و احترام دیتا،مگر اب حالات بدل چکے تھے،انڈوں سے نکلے بچے بال و پر آنے کے بعدگھونسلے سے پرواز کر چکے تھے،سب کے سب اپنی اپنی دنیا آباد کرنے کے متمنی ،جن کی فکر عامر کو کھائے جا رہی تھی ان کی سوچ کے کسی کونے میں عامر تو تھا ہی نہی،کوئی الگ گھر بنانے کی بات کر رہا تھا،تو کوئی حساب کتاب کا دفتر کھولے اپنی محنت اور کمائی کا ریکارڈ پیش کر رہا تھا،ان کی مستقبل کی منصوبہ بندی میں عامر جب خود کو موجود نہ پاتا تو اس کی حالت اس پرندے کی سی ہو جاتی جس کے پر ساتھی پرندوں نے نوچ رکھے تھے اور پاؤں لہولہان،آج بھی اس کی کیفیت کچھ ایسی ہی تھی،آسیہ ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے جب اندر آئی تو اس کی پریشان حالت کو دیکھ کر سوال جواب کیئے بغیر چائے دینے کے بعد خاموش ہو کر بیٹھ گئی۔ آسیہ نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا ، پریشان نہ رہا کریں سب ٹھیک ہو جائے گا،آپ نے آج تک کسی کا کوئی نقصان نہیں کیا،میں آپ کے ساتھ ہوں،مفادات کے اس دور میں سب کو اپنی اپنی پڑی ہے،آپ دل چھوٹامت کریں، مجھے اللہ کے بعد آپ پر بھروسہ ہے۔عامر اپنی بیوی کے ان الفاظ کو سن کر سارے غم بھول گیااور اس کی آنکھوں میں ایک مدت سے چھپے آنسوؤں نے اس کا چہرہ تر کر دیا،آسیہ نے اس کا سر اپنی گود میں رکھا تو وہ اس طرح سے نیند کی گہری وادی میں چلا گیا جیسے اس کا بیٹا اکثر روتے روتے ماں کی گود میں سو جاتا

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*