تازہ ترین
outline

سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ولی عہد بیٹے محمد بن سلمان سے اختلافات کی خبریں

سعودی عرب کے بادشاہی نظام میں رشتے کوئی معنی نہیں رکھتے یہی وجہ ہے کہ ایک بار پھر باپ بیٹے میں شدید نوعیت کے اختلافات کی خبریں ہیں اور عالمی میڈیا کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ناچاقی اور بداعتمادی آخری حدوں کو چھو رہی ہے

برطانوی اخبار ‘دی گارجین’کے مطابق باپ بیٹے میں اختلافات تب سے بڑھ چکے ہیں جب ترکی کے سعودی سفارتخانے میں سعودی نژاد صحافی جمال خشوگی کو قتل کیا گیا

اس قتل کا الزام سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے سر آیا اور سی آئی اے نے دعویٰ کیا کہ جمال خشوگی کو محمد بن سلمان کے حکم پر قتل کیاگیا

اسی اثنا میں جب سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز فروری کے آخر میں مصر گئے تو وہاں ان کے قابل اعتماد مشیروں نے موقع غنیمت جان کر انہیں صورتحال کی نزاکت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ سعودی ولی عہد کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کی صورت میں انہیں شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں

ان خدشات کی روشنی میں سعودی وزارت داخلہ نے 30 سے زائد وفادار سیکیورٹی اہلکاروں کو مصر روانہ کر کے پہلے سے موجود سیکیورٹی اہلکاروں کو واپس بلا لیا

صرف یہی نہیں بلکہ میزبان ملک کی سکیورٹی لینے سے بھی انکار کر دیا گیا -برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کی فوری تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ بادشاہ کی سیکیورٹی کے لیے تعینات بعض افسران شہزادہ محمد بن سلمان کے انتہائی وفادار تھے

دی گارجین کے مطابق باپ اور بیٹے کے مابین کشیدگی کو اس طرح بھی محسوس کیا جا سکتا ہے کہ شاہ سلمان کی وطن واپسی پر استقبال کے لیے افراد کی فہرست میں شہزادہ محمد بن سلمان کا نام شامل نہیں تھا۔

واضح رہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے، جو بادشاہ کی عدم موجودگی میں ’نائب بادشاہ‘ کے عہدے پر فائز ہوئے، والد کی غیر موجودگی میں دو اہم فیصلے کیے جس میں سے ایک امریکا کے لیے ریما بنت بندر السعود کو سعودیہ کا سفیر مقرر کیا اور اپنے حقیقی بھائی خالد بن سلمان کو نائب وزیر دفاع کا عہدہ تفویض کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*