outline

فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ جاری ہونے کے اگلے روز ہی سلیم صافی کا کالم “لاپتہ“ ہوگیا مگر کیوں؟

سپریم کورٹ نے منگل کو فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے خفیہ اداروں کو یہ ہدایت کی وہ اپنی حدود و قیود میں رہیں اور اخبارات یا ٹی وی چینلز پر دبائو نہ ڈالیں کہ کیا شائع کرنا ہے اور کیا شائع نہیں کرنا مگر اس فیصلے کے اگلے ہی روز یہ بات واضح ہو گئی کہ طاقتور ادارے ان عدالتی فیصلوں کا کس قدر احترام کرتے ہیں

بدھ کی صبح روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحات پر سلیم صافی کا کالم شائع ہوا جس کا عنوان تھا “ہمدردانہ گزارش“ اس کالم میں نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل ،پھر ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت اور اب پروفیسر ابراہیم ارمان لونی کی ماورائے عدالت ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ پختون بیلٹ میں لاوا پک رہا ہے اور پختون بیلٹ ایک بار پھر خونریزی کی طرف جاتا دکھائی دیتا ہے

سلیم صافی کا لاپتہ کالم یہاں ملاحظہ فرمائیں

لیکن شدید دبائو کے باعث چند گھنٹوں بعد ہی یہ کالم نہ صرف “جنگ “ کی ویب سائٹ سے غائب ہو گیا بلکہ ای پیپر سے بھی ہٹا دیا گیا

اب نہ تو یہ کالم جنگ کی ویب سائٹ پر موجود ہے اور نہ ہی ای پیپر پر جب ای پیپر کھولا جائے تو اس پر کالم دکھائی تو دیتا ہے لیکن جب اس پر کلک کریں تو کسی اور کالم کا لنک کھلتا ہے

سپریم کورٹ کی واضح ہدایات اور فیصلے کے باوجود یہ سنسرشپ یقینا توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ عدالت اس پر کیا ایکشن لیتی ہے

تبصرے “ 1 ”

  1. پاکستان میں کبھی بھی جمہوریت کو پنپنے کا موقعہ نہیں دیا گیا ھر سویلین حکومت کوبلیک میل کیا جاتا ھے جب حکومت فیل ھو جاتی اسکا ملبہ سویلین اداروں پر ڈال کر آمریت کے لیۓ راہ ھموار کی جاتی ھے سپریم کے آنرایبل جج نے سب کچھ اپنی انکواٸری میں واضع کر دیا ھے.

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*