تازہ ترین
outline

ملک ریاض فوت ہو جائے یا جج ،مقدمے کی التوا کی تیسری کوئی صورت نہیں،چیف جسٹس کھوسہ

سپریم کورٹ میں کئی سال سے زیرالتوا ارسلان افتخار کیس جس میں ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا تھا ،اس کی سماعت ہوئی شروع ہوئی تو ملک ریاض کے وکیل ڈاکٹر باسط نے کہا کہ ملک ریاض کے خلاف توہین عدالت کا از خود نوٹس کیس نمٹایا جاچکا ہے

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سمماعت کرنے والے تین رُکنی بنچ نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس میں تو توہین عدالت کی فرد جرم عائد ہو چکی تھی محض سزا ہونا باقی ہے جس پر ملک ریاض کے وکیل نے کہا کہ جناب ملک ریاض شدید بیمار ہیں ان کو کینسر ہے

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہم اس کو قانون کے مطابق پرکھیں گے، ملک ریاض نے عدالتی حاضری سے استثنی کی کوئی درخواست نہیں دی

ڈاکٹر باسط ریاض ایڈوکیٹ نے کہا کہ ملک ریاض پروسٹیٹ کینسر جیسی بیماری میں مبتلا ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو اب اس عدالت سے التوا نہیں ملے گا، التوا صرف دو صورتوں میں ملے گا، ملک صاحب انتقال فرما جائیں یا جج صاحب فوت ہو جائیں

وکیل نے کہا کہ ملک ریاض کی سرجری ہونی ہے، کینسر جیسے مرض نے ملک ریاض کی ریڑھ کی ہڈی کو بھی متاثر کیا ہے، ایک اخبار نے ملک ریاض کی بیماری کے بارے میں چھاپ دیا ہے، میڈیا کو اس طرح کی خبریں چھاپنے سے منع کیا جائے

اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ے مسکراتے ہوئے کہا کہ ملک ریاض کے میڈیا سے بہت اچھے تعلقات ہیں ان سے متعلق کوئی منفی خبر نہیں چھپتی –

ڈاکٹر باسط ایڈوکیٹ نے کہا کہ ملک ریاض نے فون پر کہا کہ میں عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ لکھ کر دیں ہم الفاظ کو دیکھ کر غور کریں گے۔

چیف جسٹس کے ریمارکس پر وکیل ڈاکٹر باسط کا کہنا تھا کہ ملک ریاض کہتے ہیں کہ میں یہ داغ لے کر نہیں مرنا چاہتا کہ میں عدالت کی عزت نہیں کرتا، ملک ریاض اس وقت برطانیہ میں ہیں، ایک ہفتے میں غیر مشروط معافی جمع کرا دیں گے۔

اس پر عدالت نے ملک ریاض کو حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*