تازہ ترین
outline

برکھا دت مودی کی جانب بھی توجہ دیں-نصرت جاوید

بھارتی صحافی برکھادت پاکستان میں بھی خاصی مشہور ہیں۔کارگل کی جنگ کے دوران CNNکی کرسٹینا امان پور کے انداز میں محاذِ جنگ سے رپورٹنگ کی۔مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر گہری نگاہ رکھتی ہیں۔ ان امور پر توجہ دینے کی وجہ سے انہیں پاک۔بھارت امور کا ایک ماہر تبصرہ نگار بھی سمجھا جاتا ہے۔حال ہی میں وہ کرتار پور راہداری کی افتتاحی کی تقریب میں شرکت کے لئے پاکستان تشریف لائیں اور انہیں اپنے ملک سے آئے صحافیوں کے ہمراہ وزیر اعظم عمران خان صاحب سے خصوصی گفتگو کا موقعہ بھی ملا۔

غالباََ اس دورے اور وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کے بعد وہ امریکی روزنامہ ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کے لئے ایک خصوصی تحریر لکھنے کو مائل ہوئیں۔ ان کا لکھا کالم سوشل میڈیا پر بھی بہت مقبول ہوا ہے۔ میرے کئی دوستوں نے اسے فیس بک پر شیئر کیا یا ٹویٹر کے ذریعے ری ٹویٹ کیا۔

پاک-بھارت تعلقات پر نظر رکھنا میری بھی پیشہ وارانہ عادت ہے۔حیران کن حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ میں نے برکھادت کے مذکورہ کالم کو پڑھنے کا تردد ہی نہیں کیا۔میری عدم دلچسپی کی وجہ اس کا عنوان تھا جس کے ذریعے بھارتیوں کو یہ باور کروایا گیا تھا کہ اگر وہ واقعتا پاکستان کے ساتھ تعلقات کو معقول حد تک معمول کی سطح پر لانے کے بعد دیرپا امن کے قیام کے لئے سنجیدہ ہیں تو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان صاحب ان کے لئے “Best Bet”ثابت ہوسکتے ہیں۔

“Best Bet”کے جو معنی اس کالم کے عنوان کے حوالے سے میرے ذہن میں آئے ان کا اظہار مناسب نہیں سمجھتا۔ بہتر یہی ہے کہ میرے قاری آزاد ذہن کے ساتھ اپنی کوئی رائے بنائیں۔عمران خان کو بہترین Betٹھہراتے ہوئے برکھادت نے تاہم اس پر بہت زور دیا ہے کہ پاکستان آرمی ان پر مکمل بھروسہ کرتی ہے۔

ان کے کالم کے تعارفی عنوان میں نمودار ہوئی اس دلیل کے سبب ہی میرا جھکی ذہن برکھادت کے مذکورہ کالم کو ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کی ویب سائٹ پر جاکر تفصیل سے پڑھنے کی طرف مائل نہیں ہوا۔ صوفی تبسم کے ’’دیکھے ہیں بہت ہم نے …‘‘ اور باقی صدیقی کے ’’داغ دل ہم کو …‘‘ والے مصرعے یاد آگئے۔ ان مصرعوں کے سبب پھر یاد آیا 1998۔اس برس بھارت اور پاکستان نے بہت ڈرامائی انداز میں خود کو دنیا کے سامنے ایٹمی قوت کے حامل ممالک کے طورپر پیش کردیا تھا۔

ایٹمی دھماکے ہوگئے تو چند ہفتوں کے بعد ان دنوں کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی امرتسر پہنچ کر ایک بس میں سوار ہوئے اور لاہور تشریف لے آئے۔ بھارتی وزیر اعظم کے اس سفر نے انگریزی زبان میں خارجہ امور پر لکھنے والے ہمارے کئی ماہرین کو حیران وشاداں کردیا۔ کئی افراد کی جانب سے مسلسل لکھے مضامین کے ذریعے ہمیں سمجھایا گیا کہ چونکہ پاکستان اور بھارت اب ایٹمی قوت کے حامل ملک ثابت ہوچکے ہیں لہذا ان دونوں کے مابین اب جنگ ممکن نہیں رہی۔ چونکہ جنگ کے امکانات معدوم ہوچکے ہیں اس لئے ان ممالک کے قائدین کو باہمی مذاکرات کے ذریعے دیرپاامن کے راستے تلاش کرنا ہوں گے۔

کہانی یہاں ختم نہیں ہوا کرتی تھی۔ ہمیں یہ بھی سمجھایا جاتا کہ نواز شریف اور اٹل بہاری واجپائی ہی وہ رہ نما ہیں جو پاکستان اور بھارت کے مابین دائمی امن کو یقینی بناسکتے ہیں۔ اس ضمن میں دلیل یہ پیش کی جاتی کہ نواز شریف پنجابی ہیں اور واجپائی ہندو انتہا پسند جماعت BJPکے نمائندے۔پنجاب اور BJPپاکستان اور بھارت میں جارحانہ یا شدت پسند سوچ کے حامی تصور ہوتے ہیں۔اگر وہ دونوں کسی سمجھوتے پر راضی ہوجاتے تو کسی اور جانب سے ان کی شدید مخالفت کی گنجائش موجود نہ رہتی۔

ذات کا محض ایک رپورٹر ہوتے ہوئے میں بارُعب انگریزی زبان میں پیش کئے ان دلائل کا مؤثر جواب فراہم نہیں کرسکتا تھا۔ چپ رہا لیکن کارگل ہوگیا اور ہم آنے والی تھاں پر واپس آگئے۔ کارگل ہی کی وجہ سے نواز شریف اور پاکستان کی عسکری قیادت کے درمیان بدگمانیوں نے جنم لیا۔ان بدگمانیوں میں آئی شدت کی بدولت 12اکتوبر1999ء ہوگیا۔ جنرل مشرف نے اقتدار سنبھال لیا۔

جنرل مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد تقریباََ ایک سال تک بھارت پاکستان سے باہمی تعلقات کے ضمن میں سردمہر رہا۔ سن2000 کا آغاز ہوتے ہی لیکن واجپائی صاحب نے سرکاری امور سے رخصت لے کر تنہائی میں لکھی ایک چٹھی کے ذریعے جنرل مشرف کو آگرہ میں مذاکرات کے لئے مدعو کرلیا۔

واجپائی کی چٹھی آئی تو ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے میڈیا میںانگریزی زبان میں لکھے مضامین کے ذریعے ہمیں خارجہ امور کی نفاستیں ،پیچیدگیاں اور امکانات سمجھانے والوں نے یہ دلائل گھڑنا شروع کردئیے کہ پاکستان کے مخصوص حالات کے سبب کوئی سیاستدان بھارت سے مذاکرات کی جرأت دکھانے سے محروم ہے۔ جنرل مشرف جیسا وردی میں ملبوس حکمران ہی BJPکی انتہا پسند قیادت سے مذاکرات کی جرأت دکھا سکتا ہے۔

یہ دلائل دیتے ہوئے اکثر صدر نکسن کا ذکر بھی ہوتا رہا۔ جو کمیونسٹ دشمنی میں مشہور ری پبلکن پارٹی کا نمائندہ تھا لیکن مائوزے تنگ کے چین کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا باعث ہوا۔آگرہ Summitمگر ناکام ہوگئی۔

میں اس سمٹ کے آغاز سے دس دن پہلے بھارت پہنچ گیا تھا۔ سمٹ ناکام ہونے کے دو ہفتے بعد تک وہیں رہا۔ اس سمٹ کی ناکامی کے تقریباََ سارے اسباب کا مجھے کافی علم ہے لیکن وہ اس کالم کا موضوع نہیں۔

اس سمٹ کی ناکامی کے بعدبھی 2004ء میں واجپائی سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لئے اسلام آباد تشریف لائے۔ اس کانفرنس کے دوران جنرل مشرف اور واجپائی کے درمیان مذاکرات کے ذریعے پاک-بھارت امن کو یقینی بنانے کے لئے ایک تحریری معاہدے پر دستخط بھی ہوئے۔اس کانفرنس کے بعد واجپائی وطن لوٹے تو الیکشن ہارگئے۔ ان کے جانشین من موہن سنگھ کے ساتھ البتہ مشرف حکومت کے مذاکرات جاری رہے۔ خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا اور بالآخر مشرف صاحب بھی عدالتی تحریک کی وجہ سے اپنا اقتدار برقرار نہ رکھ پائے۔ان کی ایوان صدر سے رخصتی کے بعد آصف علی زرداری پاکستان کے صدر منتخب ہوئے تو بمبئی والا واقعہ ہوگیا۔ اس واقعہ کے بعد سے اب تک من موہن سنگھ کی جگہ مودی اور پیپلز پارٹی کی جگہ نواز شریف کے آنے کے باوجود پاک-بھارت تعلقات میں معقولیت والا معمول بھی دیکھنے کو نہیں مل رہا۔

1998 ء سے 2018ء تک پہنچتے ہوئے تبدیلی صرف پاکستان میں وزیر اعظم کی صورت ہوئی ہے۔ بھارتی انتخابات 4ماہ بعد ہونا ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ نریندرمودی ان انتخابات کے بعد بھی وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہے گا۔پاکستان کے بارے میں اسکی سوچ میں تبدیلی کے امکانات مجھ کم علم کو نظر نہیں آرہے۔ فقط اس امکان کی وجہ سے برکھادت کا بیچا یہ چورن چکھنے سے بھی اجتناب برتا ہے کہ عمران خان صاحب ہی پاک بھارت امن کو یقینی بناسکتے ہیں۔ پاکستان کی عسکری قیادت کو یقینا ان کی نیت پر کامل بھروسہ ہے۔ تالی مگر دو ہاتھوں سے بجتی ہے۔مودی کی جانب سے عمران خان صاحب کے لئے صلح کا ہاتھ بڑھانا مجھے ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔ برکھادت کو مودی کی جانب توجہ دے کر مجھے کچھ روشنی عطا کرنا ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*