تازہ ترین
outline

وہ ممالک جہاں ملازمین کو “ٹِپ دینا “معیوب سمجھا جاتا ہے

اچھی سروس مہیا کرنے پر ملازمین کو “ٹِپ“ یا “بخشش“ دینا معمول بن چکا ہے ،آپ کسی ریستوران پر کھانا کھا رہے ہیں ،کہیں کسی فاسٹ فوڈچین کے باہر گاڑی میں بیٹھے کھانا پیک کرواتے ہیں ،یا پھر پارکنگ میں کھڑے سکیورٹی گارڈ کی مدد سے گاڑی لگاتے ہیں تو آپ کو سروس دینے والے ملازمین کو “ٹ۔پ“ دینا پڑتی ہے ۔یہ کلچر آخر کیسے شروع ہوا ؟اور کیا دنیا بھر کے ممالک میں یہ رجحان پایا جاتا ہے ؟

تحقیق کے مطابق برطانوی شہریوں نے 17ویں صدی میں “بخشش“ کا رواج شروع کیا تھا جس کی شروعات میں اشرافیہ کی پریکٹس تھی کہ وہ چھوٹے تحائف اپنے سے کم رتبے کے لوگوں کو دیتے تھے

ان دنوں بھی برطانیہ کی دو بڑی سیاسی جماعتوں ان قوانین پر بحث کر رہی ہیں جس کے تحت بارز اور ریستوران اپنے سٹاف کی ٹِپ نہیں رکھ سکیں گے

امریکہ میں بھی ٹِپ دینا معمول کی بات ہے 19ویں صدی میں ٹپ کو ان دولت مند شہریوں نے متعارف کرایا جو یورپ کا سفر کرتے تھے۔ اس رواج پر ابتدا میں ناپسندگی کا اظہار کیا گیا اور ناقدین کے خیال میں یہ جمہوری اخلاقیات کے خلاف ہے اور انھوں نے ٹپ دینے والوں پر الزام لگایا کہ وہ ورکرز کی ایسی کلاس پیدا کر رہے ہیں جو انعام کے لیے بھیک مانگتے ہیں۔

زمانہ بدلا لیکن اب 21ویں صدی میں بھی امریکہ میں ٹپ دینے کے فوائد و نقصانات پر بحث جاری ہے لیکن دوسری جانب ٹپ دینے کے رجحان کی جڑیں مضبوط ہو چکی ہیں۔ 2007 کے ایک اندازے کے مطابق ریستورانوں کے کاروبار میں سروس دینے والے کارکنوں کو 42 ارب ڈالر تک ادا کیے جاتے ہیں۔ امریکہ میں ٹپ ورکرز کی اجرات کا اہم جز بن چکا ہے

چین
ایشیا کے متعدد ممالک کی طرح چین میں بھی ٹپ دینے کا زیادہ رجحان نہیں۔ دہائیوں تک اسے ممنوعہ سمجھا جاتا تھا اور اسے رشوت تصور کیا جاتا تھا۔ آج کے دور میں بھی کسی حد تک ایسی ہی صورتحال ہے اور اس کا زیادہ رجحان نہیں ہے۔

ریستوران جہاں مقامی افراد جاتے ہیں وہ ٹپ نہیں دی جاتی ہے لیکن ایسے ریستوران جہاں غیر ملکی جاتے ہیں وہاں کسی حد تک ٹپ دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ ہوٹل جہاں غیر ملکی شہری آتے ہیں وہاں پر ٹپ وصول کی جاتی ہے لیکن یہ بھی صرف گاہکوں کے سامان کو منتقل کرنے والے وصول کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ٹور گائیڈ اور ٹور بس ڈرائیور کو بھی ٹپ دینے میں چھوٹ ہے۔

جاپان

جاپان میں سماجی طور پر خاص مواقعوں پر ٹپ وصول کی جاتی ہے جیسا کہ آخری رسومات اور دیگر خصوصی ایونٹس لیکن عام مواقعوں پر زیادہ عام نہیں ہے اور اگر عام صورتحال میں ایسا کیا جائے تو اسے وصول کرنے والا اسے مسترد کر دیتا ہے۔

اس کے پیچھے نفسیات یہ ہیں کہ پہلا یہ کہ آپ کو اچھی سروس مہیا کرنی چاہیے اور ان مواقعوں پر بھی جہاں ٹپ مل سکتی ہے لیکن یہاں بھی ٹپ کھلے عام نہیں دی جاتی ہے بلکہ اس کے لیے مخصوص طریقہ کار ہے جس کے تحت ٹپ کی مد میں دی جانے والی رقم خصوصی لفافے میں ہو جو کہ شکریہ اور احترام کی نشانی ہوتا ہے۔

ہوٹلوں کے ملازمین جو کہ دنیا بھر میں ہی خوش اخلاق اور ٹپ دینے پر آمادہ کرتے ہیں، ان کی تربیت کی جانتی ہے کہ وہ شائستگی سے ٹپ کو وصول کرنے سے انکار کر دیں۔

فرانس
فرانس میں 1955 میں ایک قانون منظور کیا گیا تھا جس میں ریستورانوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے بل میں سروسز کی رقم بھی شامل کریں اور یہ پریکٹس یورپ کے کئی حصوں اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی فروغ پائی تاکہ ویٹرز کی اجرت کو بہتر کیا جا سکے اور ان کی ٹپ پر زیادہ انحصار نہ ہو۔

تاہم قانون کے بعد بھی ٹپ دینے کا دستور برقرار رکھا اور یہ 2014 کے اس سروے کے برعکس ہے جس کے مطابق ملک کے نوجوان نسل میں ٹپ دینے کا رجحان نہیں ہے جبکہ ملک کی 15 فیصد عوام نے کہا کہ وہ کبھی ٹپ نہیں دیں گے اور یہ تعداد گذشتہ برس کے مقابلے میں دگنا تھی۔

جنوبی افریقہ
جنوبی افریقہ کو ’رینبو نیشن‘ یہاں ایک مخصوص سروس کی وجہ سے کہا گیا ہے اور یہ سروس عام طور پر دنیا کے دیگر ممالک میں عام یا پائی نہیں جاتی ہے اور یہ’ کار کی رکھوالی‘ ہے۔

جنوبی افریقہ میں بے ضابطہ صعنت ہے جو بے روز گاری کی وجہ سے فروغ پا رہی ہے۔ اس وقت ملک میں بے روزگاری کی شرح 25 فیصد ہے جس کی وجہ سے بنیادی طور پر انفرادی طور پر لوگ گاڑیوں کے مالکان مدد کرتے ہیں کہ انھیں گاڑی پارک کرنے میں مدد دیتے ہیں اور ان کی گاڑی کی حفاظت کرتے ہیں۔

جنوبی افریقہ میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں روزانہ 140 گاڑیاں چوری ہوتی ہیں۔

یہاں پر اس خدمت کے عوض ایک ڈالر سے کم ادا کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن اس وقت جنوبی افریقہ میں اس وقت بحث ہو رہی ہے کہ یہ عمل تقریباً مکمل طور پر قانونی نہیں ہے اور اس میں کوئی ضمانت نہیں کہ آیا فریق اس میں بھاؤ کرنے کا حق رکھتا ہے۔

سوئٹزلینڈ
سوئٹزلینڈ میں لوگ عام طور کہتے ہیں کہ بلز کو راؤنڈ اپ( اعشاریہ کے بعد رقم ختم) کر دیں اور ہوٹل سٹاف کے لیے ٹپ چھوڑ دیتے ہیں اور دیگر ورکرز جیسا کہ ہیر ڈریسر وغیرہ کے لیے۔ تاہم سوئٹزلینڈ میں دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم از کم اجرت سب سے زیادہ ہے اور یہاں ویٹرز چار ہزار ڈالر ماہانہ تک کما لیتے ہیں اور انھیں اپنے امریکی ہم پیشہ ورکرز کے برعکس ٹپ پر انحصار نہیں کرنا پڑا۔

انڈیا
انڈیا میں متعدد ریستوران بل میں لیوی چارجز وصول کرتے ہیں اور اس کو سمجھا جاتا کہ ٹپ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ دوسری صورت میں اصول یہ ہے کہ بل کا 15 سے 20 فیصد چھوڑ کر جائیں۔ انڈیا میں یہ غیر ممعولی بات نہیں اگر آپ کو کسی ریستوران میں ٹپ نہ دینے کی ترغیب کا نوٹ دکھائی دے۔

2015 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق انڈین شہری ایشیا میں سب سے زیادہ ٹپ دیتے ہیں اور اس کے بعد بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کے شہری آتے ہیں۔

سنگاپور
سنگاپور کے ہوٹلز، ریستورانوں اور ٹیکسی میں اگرچہ ٹپ دینا کسی جرم کا باعث نہیں ہو گا لیکن ملک میں ٹپ دینا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے کیونکہ سرکاری ویب سائٹس پر پیغام درج ہے کہ جزیرے پر ٹپ دینا طرز زندگی نہیں ہے۔

مصر
مصری معاشرے میں ٹپ دینا عام ہے اور اس کو مقامی زبان میں’ بخشیش‘ کہا جاتا ہے۔ مصر میں مالدار لوگ تقریباً تمام سروسز کے ورکرز کو ٹپ دیتے ہیں جس میں ویٹرز سے لے کر پیٹرول سٹیشنز پر کام کرنے والے ورکرز تک شامل ہیں۔ مصر میں خدمات کے عوض معاوضے کا خیرمقدم کیا جاتا ہے کیونکہ ملک میں اس وقت بے روزگاری کی شرح 10 فیصد ہے۔

ایران
ایران جانے والے سیاحوں کو ہو سکتا ہے کہ’ تعارف‘ کی رسم سے واسطہ پڑا ہو۔ جس میں رسمی طور پر شائستگی سے رقم لینے سے انکار کیا جاتا ہے اور یہاں تک ٹیکسی میں سفر کریں تو بھی ہو سکتا ہے کہ ڈرائیور پہلے کرایہ لینے سے انکار کرے۔

لیکن یہ ٹپ دینے یا سروسز پر ٹپ دینے کی صورت میں نہیں ہوتا کیونکہ یہ ایرانی زندگی میں روز مرہ کا معمول ہے۔

روس
سویت دور میں ٹپ کا تصور نہیں تھا اور ناں ناں سننا پڑتا تھا کیونکہ ٹپ کو متوسط طبقے کی توہین تصویر سمجھا جاتا تھا۔

لیکن روسیوں کے پاس ٹپ کے لیے ایک لفظ ہے جس کا اردو میں مطلب’ چائے کے لیے‘ ہے۔

روس میں 2000 کے دہائی میں ٹپ کا کلچر واپس آیا لیکن اب بھی پرانے لوگ ہو سکتا ہے کہ اسے ناگوار سمجھتے ہوں۔

ارجنٹینا
ارجنٹینا میں اچھے کھانے کے بعد ویٹر کو ٹپ دینے میں کسی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ملک مںی 2004 میں منظور کیے گئے قانون کے تحت ہوٹل اور کھانے پینے کی انڈسٹری میں ٹپ دینا غیرقانونی ہے۔

لیکن اس قانون کے باوجود عام طور ٹپ دی جاتی ہے اور ملک میں ویٹرز کو آمدن کا 40 فیصد حصہ ٹپ کی صورت میں ہی آتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*