تازہ ترین
outline
habib-akram

بے نظیر بھٹو کے قاتل-حبیب اکرم

دوہزار ایک میں جب امریکہ نے دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تو اسی وقت محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا تھا، ”انتہاپسندی کا جواب صرف جمہوریت سے دیا جاسکتا ہے‘‘۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ تاثر بھی دینا شروع کردیا کہ وہ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ مل کر پاکستان اور افغانستان میں انتہاپسندوں کے خلاف جنگ مؤثر انداز میں لڑسکتی ہیں بشرطیکہ امریکہ کسی طور جنرل پرویز مشرف اور ان کے درمیان اس حوالے سے کسی معاہدے کا ضامن بنے۔ اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی اس پیشکش کو نہ صرف نظر انداز کردیا بلکہ جنرل پرویز مشرف کی حمایت میں اضافہ کرکے یہ پیغام بھی دیا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں ان کے کردار سے بھی مطمئن ہے۔واحد امریکی عہدیدار جس نے محترمہ کی اس پیشکش کو سنجیدگی سے لیا وہ پاکستان میں سابق امریکی سفیر بل مائیلم تھا۔ اگرچہ مائیلم نائن الیون کے واقعے سے پہلے ہی ریٹائر ہوکر امریکہ واپس جاچکا تھا لیکن افغانستان پر امریکی حملے سے پہلے اسے امریکی وزارت خارجہ سے نوکری پرواپس بلا لیا تھا تاکہ وہ پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرنے میں مدد کرسکے۔ مجھے خود بل مائیلم نے بتایا کہ اس نے افغانستان پر حملے سے پہلے ہی امریکی حکومت کو بے نظیر بھٹو کی حمایت کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس وقت امریکہ کو جنرل پرویز مشرف کی صورت میں ایک ایسا شخص نظر آرہا تھا جو ان کی کسی بات پر ”نہ ‘‘ نہیں کرتا بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر ان کی مدد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف پر امریکی اعتماد متزلزل ہونے میں دو سال لگے کیونکہ پاکستان میں کام کرنے والے امریکی سفارتکاروں نے اپنی حکومت کو بتادیا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کی اپنی بنائی ہوئی مسلم لیگ ق عوام میں جڑیں بنا سکی ہے نہ ہی عوام کو انتہاپسندی کے خلاف صف آراء کرنے کی سکت رکھتی ہے‘ اس لیے جنرل مشرف سے کام لینے کے لیے انہیں اندرونی طور پر کسی بڑی سیاسی پارٹی کی حمایت مہیا کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ دوہزار چار میں حتمی طور پر امریکہ نے فیصلہ کرلیا کہ جنرل مشرف کے ساتھ کسی بڑی سیاسی جماعت کا اتحادکرایا جائے گا تاکہ سیاسی جماعت عوام کو سنبھالے اور مشرف یکسو ہوکر انتہا پسندوں کو ٹھکانے لگاتے رہیں۔ فیصلہ ہوگیا تو قرعہ فال پیپلز پارٹی کے نام نکلا جس کی لیڈر پہلے سے ہی یہ پیشکش کرچکی تھیں۔ جب پیپلزپارٹی اور مشرف کو اکٹھے کرنے کے منصوبے کی جزئیات بھی طے ہوگئیں تو اس کام کی ذمہ داری امریکہ کے حلیف برطانیہ نے لے لی۔ 
بیس جون دوہزار چار میں محترمہ بے نظیر بھٹو برطانیہ کے شہر بلیک برن میںوہاں کے مقامی کونسلر راجہ ثالث کیانی کی طرف سے دی گئی ایک ضیافت میں موجود تھیں کہ ان کے میزبان نے ان کی طرف ایک موبائل فون بڑھایا اور کہا ، ”بی بی ، جیک آپ سے بات کرنا چاہتا ہے‘‘۔ محترمہ نے حیرت سے پوچھا کہ یہ کون ہے تو اس پر ثالث کیانی نے ہنس کرکہا، ”جیک سٹرا، برطانوی وزیرخارجہ‘‘۔ بی بی نے یقینی سے فون لیا تو دوسری طرف واقعی جیک سٹرا تھا۔ جیک سٹرا نے بی بی کو وزارت خارجہ آنے کی دعوت تھی جو بی بی نے قبول کرلی اور فون بند ہوگیا۔ چنددن بعد محترمہ طے شدہ وقت پر برطانوی وزارت خارجہ پہنچیں جہاں انہیں عمارت کے بغلی دروازے سے اندر لے جایا گیا‘ اور اس دوران انہوں نے اپنا سفید ڈوپٹا اپنے چہرے پر ڈال لیا تاکہ کوئی انہیں دیکھ نہ سکے۔ وزارت خارجہ میں انہیں ان کے مستقبل کے کردار کے بار ے میں بتایا گیا تو انہوں نے جیک سٹرا کو بتایا کہ ،”جب وہ دوسری بار وزیراعظم تھیں تو جنرل پرویز مشرف پاک فوج کے ڈی جی ملٹری آپریشنز تھے اوران کی نگرانی میں طالبان کو فوجی تربیت دی جاتی تھی اس لیے جب تک جنرل پرویز مشرف پاکستان پر حکومت کرتے رہیں گی اس وقت تک مغرب دہشت گردی کے خلاف جنگ کبھی جیت نہیں سکے گا‘‘۔ محترمہ کی یہ بات برطانوی سفارتکاروں کا ذہن تبدیل نہیں کرسکی اورانہیں صاف لفظوں میں بتا دیا گیا کہ جنرل مشرف پاکستان اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ضروری ہیں اس لیے ان کے پاس صرف ساتھ چلنے یا نہ چلنے کا آپشن ہے۔ محترمہ کو اس ڈیل میں پاکستان واپسی کا راستہ نظر آرہا تھا لہٰذا انہوں نے زیادہ ردوقدح نہیں کی اورمعاملات آگے بڑھانے کا اشارہ دے دیا۔ چند ہفتوں بعد ہی پاکستان میں برطانوی سفیر مارک لائل گرانٹ نے دبئی جا کر ان سے ملاقات کی اور بتایا کہ جنرل مشرف تعاون کے لیے تیار ہیں ۔ کچھ دن بعد اس تعاون کی پہلی قسط کے طور پر ان کے شوہر آصف علی زرداری کو رہا کردیا گیا اور وہ ملک سے باہر چلے گئے۔ 
آصف علی زرداری کی رہائی کے بعد جنرل مشرف کے ساتھ ڈیل کے لیے مذاکرا ت کا دوسرا دور شروع ہوا۔ اس دور کی ابتدا میں امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اور محترمہ نے پاکستان میں آئندہ حکومتی نظام کے بارے میں بنیادی نکات طے کرلیے اور جزئیات کے لیے نائب وزیرخارجہ رچرڈ باؤچر رابطہ کار مقرر ہوئے۔ محترمہ جیسے جیسے اس ڈیل کا حصہ بنتی گئیں ، اپنی سلامتی کے بارے میں ان کی تشویش بھی بڑھتی چلی گئی۔ وطن واپسی سے چند دن پہلے انہوں نے واشنگٹن میں امریکی سینیٹرز کے معاونین کی ایسوسی ایشن کے ایک ظہرانے میں بھی شرکت کی اور انہیں اپنی جان کو لاحق خطرات کے بارے میں بتایا۔ اس ظہرانے سے باہر آتے ہوئے محترمہ بے نظیر بھٹو نے آصف علی زرداری کو کہا ، ”آصف ، واشنگٹن دنیا کا دارالحکومت ہے، اگر یہ میرے ساتھ ہے تو پھر مجھے کوئی فکر نہیں‘‘۔ ابھی محترمہ یہ بات کر ہی رہی تھیں کہ ان کے ایک معاون نے انہیں بتایا کہ پاکستان سے جنرل پرویز مشرف بات کرنا چاہتے ہیں۔ بات کرنے کے لیے انہیں قریب ہی ایک کانگریس مین کا دفتر میسر آیا جہاں پہنچ کر انہوں نے جنرل پرویز مشرف کا فون سنا۔ معمول کے برعکس جنرل پرویز مشرف کا لہجہ بدلا ہوا تھا اور وہ طنزیہ انداز میں گفتگو کررہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے، ”آپ کے اور میرے بارے میں امریکن اپنی تجاویز لے کر فون کرتے رہتے ہیں مگر آپ کو ان سے بہت زیادہ امید نہیں رکھنی چاہیے‘‘۔ محترمہ نے اپنے حفاظتی انتظامات کے حوالے سے بات کی تو جنرل مشرف نے کہا، ”آپ کو سمجھ لینا چاہیے کہ آپ کی سلامتی کا انحصار ہمارے باہمی تعلقات پر ہے‘‘۔ فون بند ہوگیا اور محترمہ پریشان ہوگئیں۔ انہوں نے اپنی حفاظت کے لیے امریکی انتظامیہ سے درخواست کی کہ صدر جارج بش یا نائب صدر ڈک چینی جنر ل مشرف کو فون کرکے ان کی حفاظت کی تاکید کردیں مگر وہ کال کبھی نہیں ہوئی۔ محترمہ نے کونڈولیزا رائس اور رچرڈ باؤچر سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی مگرکامیاب نہ ہوسکیں۔ انہوں نے اپنی حفاظت کے لیے ایک موقعے پر بلیک واٹر کی مدد لینے کے بارے میں بھی سوچا مگر پھر اسے پاکستانی سیاست کی روشنی میں مسترد کردیا۔آصف علی زرداری نے جوسکیورٹی پلان حتمی طور پر بنایا اس میں ان کے گردایک انسانی دیوار کی موجودگی ہر وقت لازمی قرار دی گئی ۔ جب محترمہ اٹھارہ اکتوبر دوہزار سات کو کراچی پہنچیں تو یہی سکیورٹی پلان نافذ ہوا اور ان کے گردپیپلزپارٹی کے کارکنوں کی دیواریں کھڑی کردی گئیں اور انہیں دیواروں نے کارساز پر بی بی پر ہونے والے حملے کو جھیلا مگر اپنی لیڈر کو خراش بھی نہ آنے دی۔ ستائیس دسمبر دوہزار سات کو راولپنڈی میں یہ دیواریں نہیں بن سکیں اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ہوگئیں۔ 
جب جنرل پرویز مشرف نے نومبر دوہزار سات میں ایمرجنسی لگائی تو محترمہ بے نظیر نے ڈیل کے خاتمے کا اعلان کردیا تھا۔ اس اعلان کے بعد جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ان کے تعلقات ختم ہوگئے اور جنرل مشرف پر ان کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ساقط ہوگئی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا سب کے سامنے ہے کہ جن پولیس افسروں نے محترمہ کی شہادت کے بعد جائے وقوعہ کو دھو ڈالا سترہ سال کے لیے اندر ہو گئے۔ محترمہ کے قتل کی اصل جائے وقوعہ راولپنڈی ہے نہ لیاقت باغ۔ ان کے قتل کا فیصلہ تو کہیں اور ہوا تھا لیکن قانون کو یہ سب نظر نہیں آتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*