تازہ ترین
outline
bilal-ghauri

کامیاب افراد کی 11مشترک عادات-بلال غوری

ہم سب اپنے اعمال کی پیداوار ہیں، یہی اعمال بناتے بھی ہیں اور بگاڑتے بھی ہیں۔ فرانسیسی شاعر اور ناول نگار وکٹر ہیوگو۔
اس قول کی تشریح کی جائے تو کامیاب زندگی کا آغاز دراصل مثبت سوچ سے ہوتا ہے۔ آپ کی سوچ اظہار کا روپ دھارتی ہے۔ اظہار کے لئے چنے گئے الفاظ اعمال کی صورت گری کرتے ہیں۔ اعمال بتدریج عادات و اطوار کے قالب میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔ عادات و اطوار سے کردار متشکل ہوتا ہے اور شخصیت کا سانچہ ترتیب پاتا ہے۔ اب اگر یہ شخصیت کامیاب افراد کے مثل ہو گی تو آپ ترقی و خوشحالی اور کامیابی و کامرانی کے زینے طے کرتے چلے جائیں گے‘ اور اس کے برعکس اگر آپ کی شخصیت قنوطیت پسند ناکام افراد کے جیسی ہو گی‘ تو پے در پے ناکامیاں آپ کا مقدر ہو جائیں گی۔ تلخ حقیقت یہی ہے کہ آپ کو اپنے ارد گرد جتنے غریب، بے روزگار اور ناکام افراد دکھائی دیتے ہیں وہ قسمت کے مارے نہیں ہوتے بلکہ اپنی سوچ، عادات و اطوار اور مزاج کے سہارے اس جگہ پہنچے ہوتے ہیں۔ بیسویں صدی کے آغاز میں امریکی صحافی نپولین ہِل نے ”تھنک اینڈ گرو رِچ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی‘ جو اس دور میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب قرار پائی۔ اس کتاب کے لئے نپولین ہِل نے 500 ایسے سیلف میڈ افراد کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جو غربت زدہ معاشرے سے اٹھے اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ اس نے اپنی کتاب میں سیلف میڈ افراد کی خصوصیات جمع کیں تو معلوم ہوا کہ ان سب میں ”مثبت سوچ‘‘ کی قدر مشترک ہے۔ چند برس قبل ایک اور محقق تھامس سی کورلے نے غریب سے امیر ہونے والے 177 کامیاب افراد کی کتابِ زیست کا مطالعہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر انہیں کون سے ایسے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ وہ مٹی میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو وہ سونا ہو جاتی ہے۔ کئی برس کی عرق ریزی کے بعد تھامس سی کورلے نے اپنی تحقیق کا نچوڑ یہ نکالا کہ کامیابی اور ناکامی کے درمیان 11 عادات کا سنگِ گراں حائل ہے۔ تمام کامیاب افراد کی زندگیوں میں 11 ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو کوئی بھی شخص اپنا لے تو اسے آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ سب سے پہلی عادت کا تعلق جلدی اٹھنے سے ہے۔ جلدی اٹھنے سے مُراد سحر خیزی نہیں بلکہ مدعا یہ ہے کہ جب آپ نے کہیں کسی کام پر جانا ہو تو مطلوبہ وقت سے تین گھنٹے پہلے بیدار ہوں تاکہ متوقع رکاوٹیں حائل نہ ہو سکیں۔ عین ممکن ہے آپ نہانے کے لئے واش روم جائیں تو پانی نہ ہو، کپڑے استری کرنے ہوں اور بجلی نہ ہو، جانے لگیں اور کپڑوں پر کچھ گر جائے اور یوں تاخیر ہو جائے، راستے میں کسی وجہ سے ٹریفک جام ہو یا پھر گاڑی خراب ہو جائے، ان تمام الجھنوں سے نمٹنے کے لئے تین گھنٹے پہلے اٹھیں تاکہ کام پر بروقت پہنچ سکیں۔ دوسری عادت کا تعلق آپ کی صحت سے ہے۔ تھامس سی کورلے کے مطابق تحقیق کے دوران اسے معلوم ہوا کہ 76 فیصد کامیاب افراد ورزش ضرور کرتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ورزش کے لئے صبح کا وقت منتخب کیا جائے، یہ بھی نہیں کہ ہر صورت جم جوائن کیا جائے لیکن بلا ناغہ ورزش کرنا کامیاب زندگی کی پہلی سیڑھی ہے۔ کامیاب افراد کی شخصیت میں تیسری اہم ترین عادت مطالعہ کی ہے۔ ہمارے ہاں تو بھلے چنگے پڑھے لکھے افراد مطالعہ سے جان چھڑاتے ہیں اور نوجوان نسل تو اس سے بالکل بیزار دکھائی دیتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ اخبارات دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے، ہاں البتہ جب رات کو نیند نہ آ رہی ہو تو کتاب کا سہارا لیا جاتا ہے۔ چند صفحات پلٹتے ہی گہری نیند آ جاتی ہے۔ تھامس سی کورلے کے مطابق کامیابی کے حصول کے لئے مطالعہ کو حرزِ جاں بنانا از حد ضروری ہے۔ اس نے جتنے بھی کامیاب افراد کے معمولاتِ زندگی ملاحظہ کئے ان میں تفریحی ناول، رومانوی کہانیوں، شاعری یا فکشن کے بجائے ایسی کتابوں کی ورق گردانی کو جزو لازم کی حیثیت حاصل تھی جن سے کچھ سیکھنے کو ملے۔
کامیاب افراد کی چوتھی خصوصیت ہے مثبت سوچ۔ جو لوگ دوسروں کی کامیابی پر جلتے کڑھتے رہتے ہیں، آس پاس کے افراد میں خامیاں تلاش کرنے میں لگے رہتے ہیں، ہر بات کو منفی انداز میں لیتے ہیں، وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس کے برعکس کامیابی ان کے قدم چومتی ہے جو مثبت اور تعمیری سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔ پانچویں عادت ہے‘ بھیڑ چال سے گریز۔ بالعموم لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ آج کل کس چیز کا رجحان ہے، لوگ کس طرف جا رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں اور پھر بغیر سوچے سمجھے اس طرف دوڑ لگا دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے ہاں ایک مرتبہ کمپیوٹر کی تعلیم شروع ہوئی تو دھڑا دھڑ کمپیوٹر ایجوکیشن کے لئے مراکز کھلنے لگے‘ اور داخلہ لینے والوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ لیکن کامیاب افراد اس بھیڑ چال سے متاثر نہیں ہوتے، وہ اپنی سمت خود متعین کرتے ہیں، وہ وقت کے سانچوں میں ڈھل نہیں جاتے بلکہ وقت کے سانچے بدل جاتے ہیں۔ چھٹی خوبی ہے اپنے مقاصد کا تعاقب۔ کامیاب افراد اپنا ہدف طے کرتے ہیں اور پھر پوری تندہی کے ساتھ اس کے حصول میں لگ جاتے ہیں۔ مشکلات سے گھبرا کر ہمت نہیں ہارتے بلکہ ثابت قدمی سے ڈٹے رہتے ہیں۔ ساتویں عادت‘ جو تمام کامیاب افراد میں پائی جاتی ہے‘ آمدن کے ایک سے زائد ذرائع رکھنا ہے۔ کامیاب افراد کبھی اپنے تمام انڈے ایک ٹوکری میں نہیں رکھتے‘ یعنی وہ محض ایک ہی آپشن پر نہیں سوچتے، صرف ایک ہی ذریعہ آمدن پر انحصار نہیں کرتے‘ بلکہ ان کے پاس ایک سے زائد آپشنز ہوتی ہیں۔ آٹھویں بات‘ جو کامیاب افراد کو ممتاز و منفرد کرتی ہے‘ لوگوں سے رائے لینا اور مشورہ کرنا ہے۔ بیشتر ناکام افراد خود کو عقل کل سمجھتے ہیں اور کسی سے مشاورت کی زحمت گوارہ نہیں کرتے۔ اگر مشورہ کر بھی لیں تو اسے خاطر میں نہیں لاتے۔ اس کے برعکس کامیاب افراد ادنیٰ اور حقیر سمجھے جانے والے افراد سے صلاح لینے میں بھی تامل نہیں کرتے۔ کامیابی کی منازل طے کرنے والی شخصیات کی نویں مشترکہ عادت ہے اچھے آداب۔ آپ نے یہ جملہ ضرور پڑھا یا سنا ہو گا ”باادب بانصیب، بے ادب بدنصیب‘‘ اس سادہ سے جملے میں کامیاب زندگی کا فلسفہ موجود ہے۔ وہ لوگ جو عاجزی و انکساری سے پیش آتے ہیں، ہمیشہ مشکور و ممنون رہتے ہیں، وہی کامیاب و کامران قرار پاتے ہیں۔ کامیاب افراد کی دسویں خاصیت یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لئے ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں آگے بڑھنے والے افراد کی ٹانگیں کھینچنا معمول کی بات ہے‘ لیکن دوسروں کی ٹانگیں کھینچے والے اس تگ و دو میں خود بھی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر کسی کو آگے کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جائے تو انسان خود بھی ایک قدم آگے بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ جو لوگ فراخدلی سے دوسروں کو آگے بڑھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں وہ خود بھی کامیاب ہوتے ہیں۔ کامیاب افراد کی گیارہویں اور آخری عادت ہے اچھے لوگوں کی صحبت۔ کچھ لوگ مِثل غذا ہوتے ہیں جن کی آشنائی لازم ہے بعض افراد مِثل دوا ہوتے ہیں جو تریاق کا کام کرتے ہیں اور ان کی حاجت رہتی ہے مگر چند دوست مثلِ وبا ہوتے ہیں جن سے بچنا لازم ہے۔ آپ نے ہمہ یاراں دوزخ اور ہمہ یاراں جنت والا محاورہ تو سنا ہو گا۔ اگر آپ شکست خوردہ، ہارے ہوئے، مایوس، ناامید اور منفی سوچ کے حامل لوگوں میں بیٹھتے ہیں تو انہی کی طرح ناکام ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس آپ کا اٹھنا بیٹھنا مثبت اور تعمیری سوچ کے حامل، امید کا دامن نہ چھوڑنے والے مہم جو، پُرعزم اور جستجو میں رہنے والے افراد میں ہے تو بہت جلد آپ بھی ان کی صف میں شمار ہونے لگیں گے۔

 

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*