تازہ ترین
outline

رحم کی اپیل ایوان صدر میں التوا کا شکار،زینب کے قاتل کو 8ماہ بعد بھی پھانسی نہ دی جا سکی

قصور کی معصوم بچی زینب انصاری جسے درندہ صفت قاتل عمران علی نے اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد بے رحمی سے قتل کر دیا تھا ،اسے تمام قانونی عمل مکمل ہونے کے باجود اس لیئے پھانسی کی سزا نہیں دی جا سکی کہ اس کی رحم کی اپیل کئی ماہ سے ایوان صدر میں التوا کا شکار ہے اور صدر مملکت ممنون حسین اس اپیل کر مسترد کرنے کے لیئے وقت نہیں نکال پائے

زینب کا قاتل عمران علی جسے گزشتہ روز لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے زینب قتل کیس کے مجرم عمران کو مزید 3 مقدمات میں 12 مرتبہ سزائے موت سنائی ہے اسے 23 جنوری کو گرفتار کیا گیا اور انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 17 فروری کو زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران کو 4 مرتبہ سزائے موت سنائی تھی

مجرم کی طرف سے سزا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی جو مسترد ہو گئی -اس کے بعد قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی -12 جون کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں اپیل کی سماعت کرنے والے بنچ نے مجرم کی سزا کو برقرار رکھا

zainab

سپریم کورٹ سے اپیل مسترد ہونے کے بعد مجرم عمران علی کو پھانسی دینے میں بس ایک ہی رکاوٹ باقی رہ گئی تھی اور وہ تھی صدر مملکت سے رحم کی اپیل -مجرم کی طرف سے صدر مملکت سے رحم کی اپیل دائر کی گئی مگر دو ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک صدر مملکت اس اپیل پر فیصلہ کرنے کے لیئے وقت نہیں نکال پائے –

واضح رہے کہ پنجاب کے ضلع قصور سے اغواء کی جانے والی 7 سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا، جس کی لاش گذشتہ ماہ 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ملی تھی۔

بعدازاں چیف جسٹس پاکستان نے واقعے کا از خود نوٹس لیا اور 21 جنوری کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہونے والی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے زینب قتل کیس میں پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی تحقیقات کے لیے تفتیشی اداروں کو 72 گھنٹوں کی مہلت دی۔

جس کے بعد 23 جنوری کو پولیس نے زینب سمیت 8 بچیوں سے زیادتی اور قتل میں ملوث ملزم عمران کی گرفتاری کا دعویٰ کیا، جس کی تصدیق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی کی۔

ملزم عمران کے خلاف کوٹ لکھپت جیل میں ٹرائل ہوا، جس پر 12 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی۔

زینب قتل کیس کے ملزم عمران کے خلاف جیل میں 4 دن تک روزانہ 9 سے 11 گھنٹے سماعت ہوئی، اس دوران 56 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے اور 36 افراد کی شہادتیں پیش کی گئیں۔

ٹرائل مکمل ہونے پر انسداد دہشتگردی عدالت نے ایک ماہ سے بھی کم مدت میں اس مقدمے کا فیصلہ سنا دیا

تبصرے “ 1 ”

  1. دنیا کے فارغ ترین آدمی کے پاس اگر اس چیز کا بھی وقت نہیں ہے تو اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*