تازہ ترین
outline

انتخابات 2018اور ووٹرز کے رجحانات۔سلمان عابد

پاکستان میں 2018کے انتخابی نتائج کا جائزہ لیں تو اس میں ووٹرو ں کی جانب سے ووٹ ڈالنے کے مختلف رجحانات کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے ۔ کوئی ایک عمومی رائے آپ ووٹرز کے رجحانات کے بارے میں نہیں دے سکتے۔ اس میں ہمیں جہاں مختلف رجحانات مختلف قومی ، صوبائی ، علاقائی سطح کے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف ہمیں اس میں سیاسی ، مذہبی، فرقہ وارانہ اور برادری کے تناظرمیں بھی بہت سے رجحانات کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے ۔لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ان انتخابات پر بہت سے لوگوں نے یہ دلیل دی تھی کہ اس دفعہ ووٹ ڈالنے کی شرح بہت زیادہ نہیں ہوگی ۔ اس کی وجہ انتخابات کے حوالے سے بہت زیادہ غیر یقینی سمیت انتخابی مہم میں ماضی کے مقابلے میں بہت ذیادہ پرجوشیت کی کمی اور موسم کی تپش و شدت تھی جو ووٹرو ں کو پولنگ اسٹیشن آنے سے دور رکھے گی۔

لیکن اس دفعہ بھی 2013کے انتخابات کی طرف لوگوں نے بھر پور طریقے سے انتخابی عمل میں حصہ لیا ۔ مجموعی طور پر قومی سطح پر ووٹ ڈالنے کی شرح 52.4فیصد رہی ۔ جبکہ چاروں صوبوں کی صوبائی سطح پر یہ شرح 53.06فیصد، جس میں سندھ کی شرح47.06فیصد، بلوچستان 45.03فیصد، خیبر پختونخواہ 45.05فیصداور پنجاب میں 58.03فیصد رہی جو ایک بہتر شرح ہے ۔ بالخصوص بلوچستان میں سیکورٹی کے تناظر اور انتخابات سے قبل دہشت گردی کے واقعات کے باوجود وہاں لوگوں نے بڑے جوش سے اپنا ووٹ ڈال کر جمہوری عمل کو مستحکم کیا ۔اس دفعہ ڈھائی کروڑ نئے ووٹر بھی تھے جن میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شامل تھیں ۔ ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح میں اضافہ کی ایک بڑی وجہ یہ نئی نسل تھی جو انتخابی عمل او راس میں اپنی شمولیت کو بڑے پرجوش انداز میں دیکھ رہی تھی ۔

اس حالیہ انتخاب میں تحریک انصاف کو ایک کڑور آرسٹھ لاکھ اکیاون ہزار دو سو چالیس ووٹ ملے جو کل ڈالے گئے ووٹوں کا 31.88فیصد ہے او را س کے تحت اسے 116نشستیں ملیں ۔اسی طرح مسلم لیگ ن کو ایک کڑور اٹھائیس لاکھ چھیانوے ہزار تین سو چھپن یعنی 24.40 فیصد اور چونسٹھ نشستیں ملیں ، جبکہ پیپلز پارٹی کو انہتر لاکھ ایک ہزار چھ سو پچھتر ووٹ ملے یعنی 13.06فیصداور 43نشستیں ملیں ۔تحریک انصاف نے 2013کے مقابلے میں ڈبل سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کیے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مذہبی جماعتیں جن میں متحدہ مجلس عمل ، تحریک لبیک اور ملی مسلم لیگ شامل تھیں انہوں نے تقریبا پچپن لاکھ کے قریب ووٹ حاصل کیے او ران کے مقابلے میں آزاد امیدواروں نے ساٹھ لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ۔

تحریک انصاف کے ووٹوں کے بڑھنے کی وجہ عمران خان کی مقبولیت ، نواز شریف کے خلاف پانامہ کا مقدمہ اور خلاف آنے والا فیصلہ ،نوجوان ووٹروں کا عمران خان کی طرف رجحان، تبدیلی کی سوچ، کرپشن اور بدعنوانی پر مبنی سیاست کے خلاف کامیاب بیانیہ اور ماضی کے مقابلے میں مضبوط امیدواروں کا چناو شامل ہے ۔کراچی میں عمران خان کی حیران کن کامیابی کی وجہ میں دو عوامل کارفرما نظر آئے ۔ اول نوجوان ووٹر، ایم کیو ایم کے ووٹوں کی تقسیم ، کراچی کے کاروباری طبقہ کی حمایت اور عورتوں کے ووٹ شامل تھے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ لوگوں میں عمران خان کی سیاست مقبول ہوئی او رخاص طور پر ان کی کرپشن کے خلاف مہم کو ووٹروں کی جانب سے زیادہ پزیرائی ملی ۔بالخصوص نوجوانوں اور عورتوں میں عمران خان اور ان کی جماعت بدستور ایک مقبول حیثیت رکھتے ہیں ۔

مسلم لیگ ن کو بھی داد دینی ہوگی کہ اگرچہ ان کی نشستوں کی تعداد کم ہے مگر ان کا ماضی کا ووٹ بینک بدستور موجود ہے اور اب بھی ان کی پارلیمانی عددی تعداد کم نہیں ۔ مسلم لیگ ن کو نقصان ایک برس سے جاری ان کی داخلی سیاست ، بیانیہ پر پارٹی کی تقسیم اور پانامہ کا مقدمہ سمیت عدالتی اور سیکورٹی اداروں سے محاذ آرائی کی صورت میں ہوا۔لیکن مسلم لیگ ان انتخابات میں پی ٹی آئی کی طرف اپنے نئے ووٹ بینک میں کوئی بڑا اضافہ نہیں کرسکی ۔ پچھلے پانچ برس میں جونئے ووٹرز رجسٹرڈ ہوئے ان میں بڑی حمایت کا رجحان تحریک انصاف کا تھا ۔جبکہ پیپلز پارٹی اپنے مخالفین کی تمام تر مخالفت کے باوجود سندھ میں واضح برتری پر قائم رہی او روہاں ووٹروں نے ثابت کیا کہ فی الحال ان کے سامنے واحد سیاسی آپشن پیپلز پارٹی کی ہے او رکوئی ان کا متبادل نہیں ۔البتہ بلاول بھٹوکے پنجاب میں طوفانی اور شاندار دوروں کے باوجود وہ اپنی پارٹی کے ووٹ بینک میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کرسکے ۔پیپلز پارٹی کے لیے مستقبل میں بھی پنجاب سے دوبارہ اپنی سیاسی بحالی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

خیبر پختونخواہ میں متحدہ مجلس عمل اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت بعض علاقائی جماعتوں کی ناکامی کی وجہ وہاں قومی جماعتوں کو زیادہ اہمیت ملنا ہے ۔تحریک انصاف کے مقابلے میں یہ جماعتیں اپنا سابقہ ووٹ بینک بھی برقرار نہ رکھ سکیں ۔ ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے درمیان ووٹ بینک کی تقسیم کا فائدہ تحریک انصاف نے اٹھایا۔ اسی طرح کراچی کے لوگوں نے عملی طور پر لسانی سیاست کے مقابلے میں قومی سیاست کو ووٹ دے کر تحریک انصاف کو زیادہ برتری دی ۔ اسی طرح مذہبی جماعتیں اگرچہ زیادہ سیٹیں تو نہیں لے سکیں مگر ان کا ووٹ بینک موجود ہے اور 55لاکھ سے زیادہ ووٹ لے کر اس نکتہ کو بھی اجاگر کیا کہ لوگ آج بھی مذہب کے نام پر ووٹ دیتے ہیں ۔تحریک لبیک ایک بڑی مذہبی طاقت کے طور پر سامنے آئی ہے ۔یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر مذہبی قوتیں بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کی صورت میں انتخاب لڑیں تو یہ مذہبی جماعتیں پارلیمانی سیاست کا حصہ بن سکتی ہیں ۔ اس وقت یہ جماعتیں بڑی تعداد میں تن تنہا جیتنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں ۔ملی مسلم لیگ نے بھی بہت سے حلقوں میں خاطر خواہ ووٹ حاصل کیے ہیں ۔سندھ میں پیپلز پارٹی کے مقابلے میں تحریک انصاف ایک بڑی اپوزیشن کے طور پر سامنے آئی اور شہرتی حلقوں میں ان کو اچھی بھلی تعداد میں ووٹ ملے ہیں اور اب پیپلز پارٹی کو سندھ میں تحریک انصاف کی صورت میں ایک مضبوط اپوزیشن کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ آزاد امیدواروں نے 61لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں جو ایک بڑی تعداد ہے اور عمل ظاہر کرتا ہے کہ ووٹروں میں پارٹیوں میں مقابلے میں برادری ازم یا انفرادی سطح پر مخصوص افراد کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے ۔آزاد امیدوار وں کی بڑی تعدا د میں جیت یہ بھی ظاہرکرتی ہے ان آزاد امیدواروں کو اگر پارٹی کی حمایت حاصل نہ بھی ہو تو بھی یہ لوگ انتخاب جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔اسی طرح ہم نے بڑی سیاسی جماعتوں کو بھی دیکھا ہے کہ انہوں نے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں برادری کے عوامل کو بھی مدنظر رکھا تھا ۔ ٹکٹ دیتے وقت مقامی حلقہ میں برادری کے فیکٹر کو سامنے رکھ ٹکٹ جاری کیے جو ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں ابھی بھی برادری کی سیاست کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔

ایک دلچسپ بات یہ دیکھنے کو ملی ہے کہ اب خاندان کی سطح پر ووٹ تقیسم ہوا ہے ۔ ضروری نہیں کہ گھر کے تمام افراد ہی ایک ہی جماعت کو ووٹ دیں ۔ ماضی میں ایسا ہوتا تھا مگر اب ووٹ ڈالنے کے عمل میں گھروں میں بھی بڑے اور چھوٹوں یا مردوں اور عورتوں کے درمیان سیاسی تقسیم کافی واضح ہے ۔ اس تقسیم کو پیدا کرنے میں سوشل میڈیا کا استعال بہت ہوا ہے اور یہ جو انتخابات میں نوجوان نسل زیادہ شامل ہوئی ہے اس کی وجہ بھی سوشل میڈیا کا ایک طاقت کے طور پر ابھرنا ہے ۔ پچھلے انتخابات میں ہمیں تحریک انصاف کا ووٹ زیادہ تر شہری حلقوں تک محدود نظر آیا تھا ، مگر اس بار دیہی سطح پر بھی ان کا ووٹ بینک بڑھا ہے ۔ البتہ ان انتخابات میں بڑے بڑے مضبوط الیکٹ ایبلز کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا جو اچھی ابتدا ہے ۔

ووٹروں میں قومی مسائل سے زیادہ علاقائی مسائل زیادہ بالادست رہے اور یہ انتخاب بنیادی طور پر ان مسائل پر لڑا گیا جو عملی طور پر مقامی حکومتوں کے نظام کا حصہ تھا ۔ قومی انتخابات کا قومی مسائل سے نہ جڑنا کوئی اچھا عمل نہیں ،لیکن اچھا یہ ہوا
کہ ووٹروں میں طرز حکمرانی یعنی گورننس پر زیادہ تحفظات تھے ۔ماضی میں ووٹروں کے پاس دو بڑی سیاسی جماعتیں ہوتی تھیں اس بار ان دو جماعتوں کے مقابلے میں تحریک انصاف بھی تیسری قوت کے طور پر موجود تھی جو متبادل سیاسی قوت ثابت ہوئی ہے ۔البتہ جس انداز سے ووٹرز میں سیاسی شعور بڑھا ہے اس میں اور زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارا ووٹر قومی اور علاقائی مسائل پر زیادہ توجہ دے اور بالخصوص لسانی ، فرقہ ورانہ ، مذہبی انتہا پسندی سے باہر نکل کر جمہوریت، سیاسی نظام او رسیاسی جماعتوں کو مضبوط بنائے جو جمہوری حکمرانی کے لیے زیادہ موثر طاقت رکھتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*