تازہ ترین
outline

احتساب عدالت کے جج کو بلیک میل کرکے نوازشریف کو سزا دلوائی گئی،مریم ویڈیو سامنے لے آئیں

مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ایک ایسی ویڈیو جاری کردی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو بلیک میل کیا گیا اور انہوں نے دبائو میں آکر نوازشریف کے خلاف فیصلہ دیا

مریم نواز نے سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف ،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اورمسلم لیگ (ن)کے دیگر پارٹی رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی جس میں مسلم لیگ (ن)کے کارکن ناصر بٹ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک سے گفتگو کر رہے ہیں

اس ویڈیو میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے مجھے کسی جگہ پر بلایا۔ میرے سامنے چائے رکھی اور سامنے سکرین پر ایک ویڈیو چلا دی۔ وہ لوگ اٹھ کر باہر چلے گئے اور تین چار منٹ بعد واپس آئے تو ویڈیو ختم چکی تھی، انھوں نے مجھ سے پوچھا کوئی مسئلہ تو نہیں ہے ناں؟ کوئی بات نہیں ایسا ہوتا ہے

ایک اور موقع پر جج صاحب دبائو کی شدت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ لوگ خود کشی کے علاوہ کوئی رستہ بھی نہیں چھوڑتے اور ایسا ماحول بنا دیتے ہیں کہ بندہ اس جگہ پر ہی چلا جاتا ہے جہاں پر وہ لے کر جانا چاہتے ہیں۔

مریم نواز نے اس پریس کانفرنس میں ویڈیو دکھانے کے بعد کہا کہ سزا دینے والا خود بول اٹھا کہ نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی، یہ احتساب نہیں انتقام تھا اور نواز شریف اسے جانتے تھے لیکن اس کے باوجود اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر وطن واپس آگئے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ کسی نے بھی کسی قسم کی شرارت کرنے کی کوشش کی تو میرے پاس اس سے بھی بڑے ثبوت موجود ہیں، میری کسی ادارے سے کوئی لڑائی نہیں ہے لیکن میں اس وقت کسی کا بھی نام نہیں لینا چاہتی۔

احتساب عدالت کے جج کی مبینہ ویڈیو میں انہیں یہ کہتے بھی سنا جا سکتا ہے کہ میں خود حیران ہوں یہ تو کوئی 10، 15 سال پرانی ویڈیو تھی اور مواد بھی وہی تھا۔ ہر بندے کا میٹرئیل انھوں نے رکھا ہوتا ہے

مریم نواز نے مطالبہ کیا ہے کہ ان “ناقابلِ تردید ثبوتوں کے سامنے آنے کے بعد اعلٰی عدلیہ اور مقتدر ادارے نوٹس لیں اور اس کے بعد نواز شریف کے جیل میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*