outline

رانا ثناء اللہ سے آخری ملاقات-اعزاز سید

رانا ثناء اللہ کی گرفتاری سے صرف چار دن پہلے کی بات ہے، عمرچیمہ اور میں پارلیمنٹ ہاؤس میں گھوم رہے تھے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور رانا ثناءاللہ سے سرراہ ملاقات ہوگئی۔ ابھی ایک ہفتہ پہلے ہی ہم چاروں کی قومی اسمبلی کے اپوزیشن چیمبرمیں ایک تفصیلی ملاقات بھی ہوئی تھی۔ رانا ثناء اللہ رک گئے حال احوال کے بعد ادھر اْدھرکی باتیں شروع ہوگئیں۔ باتوں باتوں باتوں میں رانا ثناءاللہ نے ہمیں بتایا کہ آج کل انہیں اطلاعا ت مل رہی ہیں کہ ان پر کوئی کارروائی ہونے والی ہے۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں بولے، “اے جیتھوں وی آندے نے میں اتھے ڈکا لا دیناں” یعنی یہ جہاں سے بھی آئیں میں اس راستے کو بلاک کردیتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے تو انہیں ماڈل ٹائون واقعے میں گھسیٹنے کی کوشش کی گئی۔ اس معاملے پر تحقیقات ہوئیں اور ایک نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قائم کردی گئی۔ ہم نے اس ٹیم کے قیام کو عدالت میں چیلنج کردیا۔ میں وہاں سے نکل آیا۔ اب مجھے میرے ذرائع بتا رہے ہیں کہ میرے خلاف کوئی کارروائی ہونے والی ہے، شاید کوئی حملہ وغیرہ کیونکہ میرے خلاف کچھ مل نہیں رہا۔

رانا ثناءاللہ کی بات چیت ختم ہوئی تو وہ شاہد خاقان عباسی کے ہمراہ قومی اسمبلی ہال کی طرف چل دیے اور ہم اپنی راہ ہولیے۔ اکثر ہم جن لوگوں سے ملتے ہیں بعد میں ان سے کی گئی گفتگو اور اس کے مختلف پہلوئوں پر بات ہوتی ہے۔ مگر اس معاملے پر بات نہ ہوسکی۔ رانا ثناءاللہ کے بارے میں ہماری شروع دن سے رائے ہے کہ یہ راجپوت ڈرنے والا نہیں بلکہ خطروں کا کھلاڑی ہے۔ عمرچیمہ کا رانا ثناءاللہ سے تعلق عجیب ہے۔ دونوں پرماضی میں تشدد ہوا ، دونوں کا خیال ہے کہ دونوں مبینہ ملزمان یکساں تھے اور دونوں کے ملزمان کبھی پکڑے نہ گئے۔ بعض اوقات آپ کی باہمی دوستی کی وجہ مشترکہ خطرات بھی ہوتے ہیں۔ یہی معاملہ ہم سب کے ساتھ تھا اور اسی وجہ سے باہمی ادب واحترام اور بے تکلفی بھی۔

اس واقعے کے بعد ہفتے کی رات رانا ثناءاللہ اپنے خاندان کے ہمراہ اسلام آباد سے فیصل آباد روانہ ہوگئے۔ رانا ثناءاللہ کی عادت ہے کہ وہ سفر کرتے وقت ہمیشہ اپنے خاندان کو الگ گاڑی میں رکھتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ ان پر کوئی کارروائی ہو بھی تو خاندان کے افراد محفوظ رہیں، اس بار بھی یہی ہوا۔ پیر کی صبح رانا ثناءاللہ فیصل آباد میں موجود اپنے دفتر میں رہے۔ دن کو گھروالوں سے ملاقات کی اور لاہور کے لیے روانہ ہوگئے۔ انہوں نے لاہور میں لیگی ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کی باز پرس کے لیے اجلاس بلا رکھا تھا تاکہ کوئی پارٹی وفاداری تبدیل نہ کرسکے اور جو کررہے ہیں ان کا سدباب کیا جاسکے۔ دن 3 بجکر 19 منٹ پر رانا ثناءاللہ کی گاڑی نے راوی ٹول پلازہ کراس کیا اور انہیں اینٹی نارکوٹکس فورس کے اہلکاروں نے روک لیا۔ رانا ثناءاللہ کے نجی سیکورٹی گارڈز نے مزاحمت کی۔ رانا صاحب نے خطرات کے پیش نظر پچھلے ہفتے ہی پنجاب پولیس کے اہلکار ہٹالئے تھے اب ان کی جگہ انہوں نے ذاتی سیکورٹی اسٹاف کو اپنے ساتھ تعینات کر رکھا تھا۔ ادھر گاڑی میں رانا ثناءاللہ ہلکی نیند میں تھے۔ اے این ایف کی ایف آئی آر کے مطابق گاڑی کھولی گئی تو رانا ثناءاللہ نے خود پچھلی نشست سے 15کلو گرام کی ہیروئن بریف کیس کے ہمراہ ان کے حوالے کردی جبکہ رانا ثناءاللہ کا اپنے گھر والوں کو ملاقات کے دوران بتانا ہے کہ ان کی آنکھ کھلی تو باہر تلخی ہورہی تھی۔ ان کی گاڑی کے دروازے کھلے ان کے ڈرائیور کی جگہ کوئی اور شخص آن بیٹھا، فرنٹ سیٹ پر بھی سیکورٹی اہلکار آگئے دونوں اطراف سیکورٹی اہلکار ان کے ساتھ بیٹھ گئے انہیں شیرپاؤ پل سے گزر کر اے این ایف کے دفتر پہنچا دیا گیا۔

یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی تو رانا ثناءاللہ کی اہلیہ بھی اے این ایف کے دفتر پہنچ گئیں۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ فوجی آمر پرویز مشرف کے دورمیں جب پہلی بار رانا ثناءاللہ کو گرفتار کیا گیا تو اس خاتون کو گھر میں نظربند کیا گیا۔ ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ رانا ثناءاللہ کی سیاست سے علیحدگی کا بیان دیں مگر اس آہنی عورت نے ہتھیار نہ ڈالے۔

مسزنبیلہ ثناء نے اپنے شوہر کے لیے اے این ایف دفتر کے باہر احتجاجاً دھرنا دیا اورنماز ادا کی۔ معاملہ ٹی وی اسکرینز پر آیا تو حکام نے نبیلہ صاحبہ کی ملاقات رانا ثناءاللہ سے کرادی۔ نبیلہ رانا کو ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں رانا ثناءاللہ کرسی پر بیٹھے تھے۔ اہلیہ نے شوہر کا ہاتھ پکڑ کر ان کی صحت کے بارے سوال جواب کیا تو کسی سرکاری اہلکار کی آواز آئی، کیا آپ کو پتہ ہے رانا ثناءاللہ سے ہیروئن برآمد ہوئی ہے؟ مسزنبیلہ نے ترکی بہ ترکی جوابی سوال کیا، کیا میرا برآمد ہوئی یا ریما۔ میرے شوہر کا تو کسی ہیروئن سے کوئی رابطہ نہیں۔ کمرے میں رانا ثناءاللہ سمیت سب ہنسنے لگے۔ مسزنبیلہ کچھ دیر وہاں ٹھہریں اور پھر رانا ثناءاللہ کے کہنے پر واپس آئیں۔ مسزنبیلہ کے مطابق اے این ایف کے ایک سینئرافسر نےبتایا کہ انہیں ڈیڑھ بجے بتایا گیا کہ رانا ثناءاللہ کو لانا ہے۔ باقی انہیں کچھ پتہ نہیں۔ ان کے داماد شہریار بیٹی اقرا اور نواسے کی ملاقات جمعرات 4 جولائی کو کرائی گئی۔

نبیلہ صاحبہ اور شہریار کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں رانا ثناءاللہ لاغر اور بیمار دکھائی دے رہے تھے، داڑھی بڑھی ہوئی تھے، بال بکھرے ہوئے تھے۔ انہیں 2 ماہ قبل اسڑوک ہوا تھا ان کی دائیں آنکھ 90 فیصد بینائی سے محروم ہے۔ 1999 کے تشدد کے باعث ریڑھ کی ہڈی کا بھی مسئلہ ہے انہوں نے اگلے ماہ امریکہ علاج کے لیے جانا تھا۔

نبیلہ رانا اپنے شوہر سے ملاقات کرکے واپس آئی تو اسے کچھ نمبروں سے زبان بندی کی ہدایت کی گئی مگر وہ باز آنے والی نہیں نہ ہی رانا ثناءاللہ باز آئے گا۔ رانا ثناء اللہ پر بنایا گیا کیس عوام قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ابھی تک مجھے کوئی ایک بھی سنجیدہ آدمی نہیں ملا جو اس کیس کے سچے ہونے پر یقین رکھتا ہو۔ ہمارے ہاں پورا سچ فوری سامنے نہیں آتا، آج نہیں تو کل رانا ثناءاللہ کے خلاف بنائے گئے کیس کا مکمل سچ بھی باہر ضرور آئے گا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

تبصرے “ 1 ”

  1. باب
    ( پاکستانی سیاست )
    پاکستانی سیاست کو سمجھنے کے لیے پہلے سیاست کو سمجھنا ضروری ہے اور سیاست سے پہلے انسانی اجتمائی زندگی کو سمجھنا ضروری ہے اور اس سے پہلے انسانی انفرادی زندگی کو سمجھنا ضروری ہے کہ انسان کیا ہے انسان کا مقصد حیات کیا ہے اور کیسے حاصل ہوگا مقصد حیات ? وغیرہ وغیرہ ان سوالوں کا جواب سب سے پہلے دین الہی نے دیا اور پھر بعد میں مختلف مزاہب اور پھر مختلف وجوہات کی بنا پر لوگوں نے دین کا انکار کرکے فلسفے کی ابتدا کی اور اس سے مختلف قسم کے جواب لیے یعنی ہر فلسفی نے اپنے اپنے مزاج اور دلچسپی کے مطابق انسان کی تعریف کی اسکا مقصد حیات بتایا اور مقصد حیات پانے کا طریقہ بھی بتایا جو کہ یہ سب دین پہلے بتا چکا تھا لکن انہوں نے دین کے مقابلے میں اپنے راہ خود متعین کرنے کی کوشش کی.
    یہ ساری بات بتانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی حیات کا ایک خاص مقصد ہے اس لیے انسان کی کامیابی اس مقصد کو حاصل کرنے میں ہے اور یہ کامیابی انسان کی اجتماعی زندگی سے ممکن ہے یعنی تمام انسان مل جل کر رہیں اپس میں تعاون کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ آگے بڑھیں اور اس اجتماعی زندگی کو انصاف پر قائم رکھنے کے لیے تاکہ وہ اپنے مقصود (مقصد حیات انسانی) کو حاصل کر سکے ایک ایسے منظم نظام کی ضرورت ہوتی ہے جو انسان کی اجتماعی زندگی کو منظم کرکے اس طرح اگے لے کر جائے کہ انسان اپنا مقصد پالے بغیر کسی رکاوٹ کے.اور جو نظام انسان کو اجتماعی زندگی کے ذریعے اسکی منزل کی طرف لے کر جاتا ہے اس نظام کو علمی اصطلاح میں سیاست کہتے ہیں اور یہ سیاست مختلف قوموں (ممالک) کی مختلف ہوتی ہے کیونکہ دین کے انکار کے بعد انسانوں نے اپنی اپنی مرضی اور پسند کے مقاصد مقرر کرلیے ہیں اور جب مقاصد الگ الگ ہیں تو یقینی طور پر سیاست بھی الگ الگ ہے مثلن جہاں عوام صرف روٹی کپڑا مکان چاہتی ہے وہاں ڈکٹیٹرشپ یا بادشاہت چلتی ہے اور جہاں عوام خواہش پرستی چاہتی ہے وہاں جمہوریت اجاتی ہے لکن جہاں عوام امت بن کر خدا ج کی طرف سفر کرنا چاہتی ہے وہاں انقلاب اسلام (نظام ولایت جو کہ ایران میں ہے) اجاتا ہے
    اس ساری بحث کو مدنظر رکھتے ہوے پاکستان کی عوام پر غور کیا جائے تو پاکستان کا سیاسی نظام سمجھ میں آجائے گا پاکستانی عوام کا ایک طبقہ صرف روٹی کپڑا مکان چاہتا ہے دوسرا طبقہ خواہش پرستی ہر قسم کی آزادی اور تیسرا طبقہ اسلام کا نفاز چاہتا ہے لکن اس طبقے کو اسلامی نظام حکومت کی ا ب کا بھی پتا نہیں اور ان تینوں سے الگ پاکستان کی حکمتی بنیاد خالص اسلام ہے جسکی طرف علامہ اقبال رح نے اشارہ کیا تھا.اب یہ ساری صرتحال ہے پاکستانی عوام کی یعنی پاکستانی عوام ایک ایسا اجتماع ہے جسکا مقصد حیات روٹی کپڑا مکان خواہش پرستی ازادی غلام ذہنیت صوفی ازم اور تکفیریت کا مجموعہ ہے تو مطلب پاکستان کی سیاست بادشاہت ڈکٹیٹرشپ جمہوریت اور تکفیریت پر مشتمل ایک ایسا لائحہ عمل ہے جو عوام کو کسی ایک خاص سمت کی طرف لے کر نہیں جا رہا بلکہ ہر طرف سے مختلف سمتوں (مشرق مغرب شمال جنوب) میں دھکیل رہا ہے جسکا نتیجہ یہ ہے کہ عوام وہیں کی وہیں پڑی ہے بس تھوڑا ادھر ادھر ہوجاتی ہے وہ بھی اس وجہ سے کہ جب غلام ذہنیت غالب اتی ہے تو ڈکٹیٹرشپ کی طرف رجحان ہوجاتا ہے جب خواہش پرستی غالب آتی ہے جمہوریت کی طرف اور جب تکفیریت غالب اتی ہے تو ضیا کی طرف جھکاو ہو جاتا ہے اور جبکہ دنیا آگے نکل گئی ہے کیونکہ وہ جو اگے نکلیں ہیں ایک خاص سمت کی طرف بڑھ رہے ہیں چاہے سمت جو بھی ہے.
    یہ ہے پاکستانی سیاست کی موجودہ صورتحال تو اس کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستانی عوام کا رخ ایک طرف موڑا جائے اور سب سے بہتر رخ نظریہ پاکستان ہے اور اسی میں پاکستان اور پاکستانی عوام کی بقا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*