outline

”نِکا اینڈنِکے دا اَبا“-بلال غوری کا ناقابل اشاعت کالم

اگرچہ”فادرز ڈے“کئی ہفتے پہلے گزر چکا ہے مگر یونہی خیال آیا کیوں نہ آج ”اَبا“کے منصب پر فائز تمام افراد کے لیئے کوئی غیر سیاسی نوعیت کا کالم لکھا جائے۔بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ ”اَبا“کہنا بہت آسان مگر ”اَبا“کہلوانا بہت مشکل ہے۔کیونکہ ”اَبا“بننے کے بعد بچوں کی ذمہ داریاں ہی نہیں ان کے ناز نخرے بھی اُٹھانا پڑتے ہیں۔بچوں کو پال پوس کر بڑا کرنا بہت جان جوکھوں کا کام ہے۔میری والدہ کہتی ہیں ”سونے دی سِلھ کلے،آدم دا پال پلے“یعنی انسان کے بچے کو پالنے کے لیئے سونے کی اینٹ خرچ کرنا پڑتی ہے۔پرانے زمانے میں شاید یہ ممکن تھا مگر اب تو ایک بچے کی پرورش پر سونے کی کئی اینٹیں خرچ کرنا پڑتی ہیں اور اس ریاضت کا تو کوئی مول ہی نہیں جو بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیئے ضروری سمجھی جاتی ہے۔لیکن جب کوئی ”اَبا“کہہ کر پکارتا ہے یا اس کی والدہ ماجدہ ”نِکے دا اَبا“کہہ کر بلاتی ہیں تو سرشاری کی ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ انسان سب غم بھول جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی ”باپ“بننا چاہتا ہے۔امیتابھ بچن کا یہ ڈائیلاگ سب کا فیورٹ ہے کہ ”رشتے میں تو ہم تمہارے باپ ہوتے ہیں،نام ہے شہنشاہ۔“

محض جنم دینے والا ہی ”اَبا“نہیں ہوتا بلکہ باپ کئی قسم کے ہوتے ہیں مثال کے طور پر روحانی باپ،سیاسی باپ،منہ بولا باپ،خودساختہ باپ۔اگر آپ نے مشہور زمانہ فلم ”غلامِ مصطفی“دیکھی ہے تو جانتے ہوں گے کہ نانا پاٹیکر نے شانتا پرساد کا کردار ادا کرنے والے پریش راول کو ”اَبا“کا درجہ دے رکھا تھا۔دونوں میں پیار بھی بہت تھا۔ غلام مصطفیٰ نے ”اَبا“کو خوش رکھنے کے لیئے ہر غلط کام کیا مگر”اَبا“نے سیاسی مجبوریوں کے تحت اپنے اس ”نِکے“کو گولی مار کر قتل کر ڈالا۔جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم نے پہلے پاسبان اور پھر شباب ملی بنا کر نوجوانوں کو جماعت کا ہراول دستہ بنایا تو ایک نعرہ بہت مقبول ہوا ”ہم بیٹے کس کے قاضی کے‘۔‘سیاسی شعور رکھنے والے نظریاتی کارکن تو بہت خشوع و خضوع سے یہ نعرہ لگایا کرتے تھے مگرنوواردجواب دینے سے ہچکچاتے اور ہنستے ہوئے کہتے ”اپنے ماں باپ کے“۔ یہ کہاوت تو آپ نے سنی ہوگی کہ ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ اس کہاوت میں تبدیلی آئی تو معلوم ہوا کہ لوگ غرض کی نیت سے گدھے کو باپ ہی نہیں بناتے بلکہ گود لیکر بیٹا بھی بنا لیتے ہیں۔لیکن گدھا اپنے فطری میلان کے پیش نظر دولتیاں مارنے سے باز نہیں آتا اور آگے دھکیلنے پر بدک کر پیچھے جانے لگتا ہے تو گود لینے والوں کو احساس ہوتا ہے کہ ان سے بہت بڑی بھول ہوگئی ہے۔

بعض دُکھ سانجھے ہوتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ اولاد کی گستاخی کا معاملہ بھی مشترکہ ہے۔دنیا بھر کے”اَبے“اس بات پر پریشان ہیں کہ ”نِکے“بدخصلت اور ناخلف ہوتے جا رہے ہیں۔”اَبا“اُنگلی پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے،دنیا میں کامیابی سے جینے کا ہنر اور آگے بڑھنے کے گُر بتاتا ہے،سردگرم موسموں سے بچاتا ہے اور اپنے ”نکے“کا کیریئر بناتا ہے مگر یہ بچے بڑے ہوتے ہی خود کو عقلِ کل سمجھنے لگتے ہیں اور ”اَبا“کا ہر حکم بلاچون وچراں بجا لانے کے بجائے حدود و قیود کا تعین کرنے کی باتیں کرنے لگتے ہیں،باپ کے کردار پر ہی اُنگلی اُٹھا دیتے ہیں اور اس مغالطے کا شکار ہوجاتے ہیں کہ انہوں نے یہ مقام و مرتبہ اپنی محنت و صلاحیت کے بل بوتے پر حاصل کیا ہے اور اس میں باپ کی محنت و مشقت کا کوئی عمل دخل نہیں۔دراصل دونوں ہی زمینی حقائق کا اِدراک نہیں کرپاتے۔”اَبا“اپنے جوان بیٹے کو وہی ”نِکا“سمجھ رہا ہوتا ہے جو اس کے پچکارنے پر قلقاریاں مارنے لگتا تھا،وہ یہ نہیں سمجھ پاتا کہ ہر کام میں ٹانگ اڑانے کے بجائے کونے میں بیٹھ کر دہی کھانے کا وقت آگیا ہے جبکہ ”نِکا“جو اب اپنے آپ کو بہت بڑا محسوس کر رہا ہوتا ہے وہ سوچتا ہے کہ اس کا ”اَبا“پرانے زمانے اور فرسودہ سوچ کا حامل ہے،ڈکٹیٹر کی طرح اپنی سوچ اور نظریات اس پر مسلط کرنا چاہتا ہے،اپنے اَدھورے خواب اس کے ذریعے پورے کرنے کی کوشش میں اسے ریموٹ کنٹرول کی طرح چلانا چاہتا ہے۔اسے لگتا ہے کہ ”اَبا“نے شفقت پدری کے تحت اسے گود نہیں لیا بلکہ مخالفین پر اپنی دھونس جمانے کے لیئے پال پوس کر بڑاکیا ہے تاکہ ”شریکوں“پر اس کا رعب اور دبدبہ برقرار رہ سکے۔اسے لگتا ہے کہ ”اَبا“نے اپنے بڑے بیٹے کو ناخلف ہونے کے باعث فارغ کرکے اسے کمپنی کے سی ای او کا عہدہ تو دیدیا ہے مگر اختیارات منتقل نہیں کیئے۔وہ یہ سوچ کر احساس کمتری کا شکار ہونے لگتا ہے کہ تمام تر بھاگ دوڑ کے باوجود کمپنی میں ہونے والی ہر بہتری کا کریڈٹ ”اَبا“کو جائے گا جبکہ کسی قسم کی کوئی گڑ بڑ ہوتی ہے تو اس کا ذمہ دار اسے سمجھا جائے گا۔کمپنی کا اسٹاف اسے ایک بے اختیار افسر سمجھتا ہے۔وہ اپنی فرسٹریشن نکالنے اور خود کو بااختیار سی ای او ثابت کرنے کے لیئے دفتر کے چھوٹے ملازمین کو جھاڑ پلاتا رہتا ہے اور اُٹھتے بیٹھتے کہتا ہے کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔”نِکے“اور اس کے ”اَبا“کے درمیان ہو رہی اس کشمکش کی وجہ سے کمپنی کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔بیٹا چاہتا ہے کہ باپ کمپنی اس کے حوالے کرکے خود گھر چلا جائے۔اس کے خیالات باغیانہ ضرور ہیں مگر ابھی اس میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ ”اَبا“کے منہ پر یہ بات کہہ سکے۔اس کے برعکس ”اَبا“کا خیال ہے کہ”نکا“ابھی بہت ناسمجھ اور نادان ہے،اگر کمپنی کو اس کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا تو دیوالیہ نکل جائے گا۔اس لیئے ”اَبا“کا خیال ہے کہ مزید تین سال تک کمپنی کے معاملات بدستور ان کے ہاتھ  میں رہیں گے تو بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔

یہ محض ایک کمپنی کا معاملہ نہیں اورنہ ہی کسی ایک باپ بیٹے کی کہانی ہے۔یہ گھر گھر کی کہانی ہے۔میرے ایک عزیز کا کریانہ اسٹور ہے جو بہت کامیابی سے چل رہا تھا،بڑے بیٹے سے ان بن ہوئی تو اس نے چھوٹے بیٹے کو کاروبار میں شامل کرلیا۔اب وہی اڑچن ”نِکا“سمجھتا ہے کہ اسے مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہیں۔کسے اُدھار دینی ہے،کس کمپنی کی مصنوعات لینی ہیں،کسے کورا جواب دینا ہے،کسے ادائیگی کرنی ہے کسے ٹرخانا ہے،یہ سب فیصلے ”اَبا“کرتے ہیں۔دوسری طرف ”اَبا“بھی ”نکونک“ہوا پڑا ہے۔اس کا خیال ہے کہ ”نکا“بہت نااہل اور نکما ثابت ہوا ہے۔فی الحال تو ”اَبا“وقتی مصلحت کے تحت خاموش ہے بلکہ لوگوں کے سامنے ”نکے“کی جھوٹی تعریفیں بھی کرتا ہے مگر شنید یہ ہے کہ اگر حالات درست نہ ہوئے تو ”اَبا“کی طرف سے ”نِکے“کو عاق کرنے کا اعلان بھی کیا جاسکتا ہے۔ایسی صورت میں ”نکا“یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ جب ”اَبا“ہونے کا فرض نہیں نبھا سکتے تو گود کیوں لیتے ہو۔

5 تبصرے

  1. موجودہ حالات پر برجستہ لکھا ہے آپ نے. داد تو بنتی ہے کہ ‘کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے’

  2. کچھ بھی نہ کہا کہہ بھی گئے کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے ویسے ابے ابے میں فرق ہوتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*