outline
awais-hafeez2

احترام رمضان کے آخری چند سال!۔اویس حفیظ

محترم سعود عثمانی صاحب نے کہا تھا ’’یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی‘‘، برادر یاسین نے چند روز قبل فیس بک پر اسٹیٹس دیا کہ ملتان کی نت نئی رہائشی سوسائٹیاں دیکھ کر لگتا ہے کہ کتابوں سے پہلے آم اور فالسہ ختم ہو جائیں گے۔ کسی نے اسے قلم وکتاب کی آخری صدی قرار دیا تو کسی نے اسے تمدن و روایات کی آخری صدی کا نام دیا۔ ہر کسی کا اپنا تجربہ ہے جو مختلف انداز میں بیان ہوا ہے مجھے باقی چیزوں کا تو علم نہیں اور آخری صدی بھی ابھی دور کی بات مگر جس دور سے ہم گزر رہے ہیں مجھے یقین ہے کہ یہ احترامِ رمضان کے آخری چند سال ضرور ہوں گے اور ہم اُن ’’خوش نصیبوں‘‘ میں سے ہوں گے جو اپنی آنکھوں سے ان آخری چند سالوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ میرے ہم عصر اس بات کی تائید کریں گے کہ ہمارے بچپن میں رمضان کا ایک تقدس و احترام ہوتا تھا جو آج مفقود ہو چکا ہے۔ یہاں تقدس و احترام سے متعلق سرکاری پابندیاں نہیں ہے بلکہ وہ حدود و قیود ہیں جو ہم خود ساختہ طور پر خود پر مسلط کر لیتے تھے مگر آج ان کا کوئی تصور وجود نہیں رکھتا۔ اولاً تو اس دور میں میڈیا کا اتنا رواج نہ تھا مگر پھر بھی اکثر گھروں میں سحری و افطاری کے اوقات میں ٹی وی دیکھا جاتا تھا مگر اس وقت یوں ٹی وی پر تحائف نہیں لٹائے جا رہے ہوتے تھے بلکہ ٹی وی لگانے پر دروس و حمد و نعت کی میٹھی آوازیں سماعتوں سے ٹکراتی تھیں، اشتارات میں ناچ گانا نہیں تھا بلکہ اشتہار بھی رمضان کے تقدس کو پیش نظر رکھتے ہوئے تیار کئے جاتے تھے، بلکہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ کچھ پروڈکٹس کے رمضان اشتہار تو ہم بڑے شوق سے دیکھتے تھے۔ افطاری سے پہلے کچھ کوکنگ کے پروگرام ضرور ٹی وی پر لگتے تھے مگر عمومی طور پر رمضان ٹرانسمیشن تعلیماتِ دینیات سے عبارت ہوتی تھی۔ میں نے بقائمی ہوش و حواس وہ دور بھی مشاہدہ کیا ہے جب پی ٹی وی کے آٹھ بجے والے ڈرامے کی اقساط بھی رمضان میں ساقط ہو جایا کرتی تھیں اور اگر ڈرامہ لگایا بھی جاتا تھا پچھلی قسطوں کو ہی دہرایا جاتا تھا، نئی قسط عید کے بعد جا کر نشر کی جاتی تھی۔ مغرب کی نماز کے بعد رمضان کی مناسبت سے خصوصی اصلاحی ڈرامے نشر کئے جاتے تھے جن میں ایک ڈرامہ سیریز مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ اُس کی ہر قسط کسی ایک آیت یا حدیث کی بنیاد پر بنائی گئی تھی۔
پھر درود شریف، اسماء الحسنیٰ، قصیدہ بردہ شریف، حمد و نعت اور اینی میشن کے ساتھ سورہ مبارکہ کی تلاوت کسی ٹائنمگ یا شیڈول کی پروا کئے بغیر وقتاً فوقتاً نشر کی جاتی تھیں۔ 80کی دہائی میں پیدا ہونے والے بیشتر افراد کو اسماء الحسنیٰ پی ٹی وی کی بدولت دیکھ دیکھ کر ہی یاد ہوئے۔
پھر وقت نے کروٹ لی اور 2002-03ء میں جیو نے ’’عالم آن لائن‘‘ متعارف کروایا۔ یہ وہ دور تھا جب بیشتر علماء کرام ٹی وی کو حرام قرار دیتے تھے اور اسی باعث ثقہ علماء نے ٹی وی پر آنے سے انکار کر دیا، پھر ہر داڑھی والا شخص عالم بنا کر میڈیا پر پیش کیا جانے لگا۔ بلکہ ایسا بھی ہوتا رہا کہ جس ’’عالم‘‘ کو ٹی وی پر بٹھایا جاتا تھا اس کی فکر، فقہ حتیٰ کہ عقیدے سے خود پروگرام پروڈیوسر تک واقف نہیں ہوتا تھا مگر جو بھی ٹی وی پر آنے کی رضا مندی ظاہر کرتا، اسے میک اپ کر کے اسکرین پر بٹھا دیا جاتا۔ ہمارے آج کے دور کے اکثر ’’علماء‘‘ اسی دور کی پیداوار ہیں جنہیں اسکرین کا اب اس قدر چسکا ہے کہ چھوٹے نہیں چھوٹتا۔
مجھے آج بھی یاد کہ 2003ء میں رمضان المبارک میں مَیں نے عالم آن لائن کے توسط سے دو عجیب فتاویٰ سنے۔ اول تو یہ کہ انڈہ کھا کر روزہ رکھنے سے روزہ مکروہ ہو جاتا ہے۔ (ہم نے تو تمام عمر مکروہ روزہ ہی رکھا ہے) دوم یہ کہ اگر کپڑے پر شیشے لگے ہوں تو نماز نہیں ہوتی کہ اس میں اپنا ہی عکس نظر آتا ہے۔ اگرچہ میں نے یہ فتوے خود براہ راست نہیں سنے کیونکہ اس زمانے میں کیبل ہر گھر میں نہیں ہوتی تھی مگر ان کی بازگشت دور دور تک سنائی دی تھی۔ اتفاقاً اسی سال میں نے عیدالفطر پر جو سوٹ پہنا تھا، اس میں گلے کے پاس کڑھائی تھی جس میں شیشے لگے ہوئے تھے، مجھے عید ملنے والے ہر دوسرے شخص نے کہا کہ تمھاری تو نماز ہی نہیں ہوئی کہ کپڑے پر شیشے کا کام ہوا ہوا ہے۔ خیر۔۔۔۔۔۔عالم آن لائن ہٹ ہو گیا۔۔۔۔۔۔ اور ٹی وی میڈیا کے ساتھ ساتھ رمضان ٹرانسمیشن کا ایک باقاعدہ حصہ بن گیا۔ اس کے بعد پروگرام اینکر جناب عامر لیاقت صاحب نے کچھ نیا کرنے کا سوچا۔ نعت تو وہ پہلے بھی اچھی پڑھتے تھے مگر پھر انہوں نے خود خطیب و عالم بننے کا فیصلہ کیا اور ایسا تاثر بھی دینا شروع کیا جیسے وہ بہت بڑے مذہبی اسکالر ہوں۔ اگرچہ زبانی طور پر انہوں نے اپنے اس امیج کی ہمیشہ نفی کی ہے مگر یوٹیوب پر جیو نیوز کے نیوز کاسٹر شہزاد حسن کا وہ ویڈیو کلپ آج بھی موجود ہے کہ جس میں انہوں نے عامر لیاقت کے والد شیخ لیاقت حسین کی تدفین کی خبر پڑھنے کی ریہرسل کی تھی۔ اس ویڈیو میں شہزاد نے خبر کہ ’’معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین۔۔۔‘‘ پڑھنے کے بعد خود کلامی کی کہ ’’جھوٹ بلوا رہے ہو مجھ سے تم‘‘ (یہاں سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ عامر لیاقت حسین کو معروف مذہبی اسکالر کے طور پر پیش کرنا جیو کی بھی پالیسی تھی) اس کے بعد عامر لیاقت حسین کی رقت و گریہ سے بھرپور دعائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اکبر۔ ان کا تو کیا ہی کہنا۔ میں ایسے لوگ سے بھی ملا جو رمضان کی طاق راتوں میں عبادات کی بجائے عامر لیاقت کی دعا کا انتظار کرتے تھے۔
دیگر چینلز کے آنے پر یہ تیار شدہ فارمیٹ وہاں پر بھی شروع ہو گیا۔ پھر عامر لیاقت نے مزید کچھ نیا کرنے کی سوچی اور یہ زیادہ پرانی نہیں محض تین یا چار سال پرانی بات ہے جب رمضان میں گیم شوز پر مبنی ٹرانسمیشن کا آغاز کیا گیا۔ اے آر وائی نے جیو کی نقالی کی، ایکپسریس نے بھی دونوں کے لال منہ دیکھ کر اپنے منہ پر طمانچے مارنے شروع کر دئیے، سماء، ہم اور باقی چینلز کس لئے پیچھے رہتے وہ بھی کمر کس کر میدان میں اتر آئے اور ایک ہاہاکار مچ گئی۔ البتہ یہاں پر ایک کریڈٹ ’’ہیرو ٹی وی‘‘ کو بھی جاتا ہے (جو میں نے آج تک نہیں دیکھا) کہ جس کا سلوگن ہی یہ تھا کہ ’’دکھا دے سب کچھ‘‘ اس نے (محض ریٹنگ کے حصول کے لئے) عین اُس سال جب وینا ملک نے بھارت میں متنازع فوٹو شوٹ کروایا تھا، رمضان ٹرانمیشن میں وینا ملک کو بطور اینکر لا بٹھایا جنہوں نے ٹی وی پر بیٹھ کر اپنے اور عوام کے گناہوں پر استغفار کرنا شروع کیا اور اس کے بعد یہ ریت ایسی چل نکلی کہ آج ایکٹریسز اور سنگرز ٹی وی پر شو کرتی ہیں اور عوام گھر بیٹھے استغفار کرتے ہیں۔ ایک بار خوبرو چہروں سے رمضان ٹرانسمیشن کروانے کا سلسلہ چلا تو ایسا چلا کہ پھر تھما نہیں اور اب یہ اُس بامِ عروج پر ہے کہ ’’کراچی سے لاہور‘‘ میں آئٹم سانگ پکچرائز کروانے والی عائشہ عمر بھی ماہ مبارک میں درس و تدریس کی نشست سنبھالے ہوئے ہیں۔ بشریٰ انصاری کہ جن کی تمام عمر ایکٹنگ، سنگنگ کرتے گزری وہ بھی رمضان ٹرانمیشن کا حصہ ہیں، فہد مصطفیٰ البتہ رمضان میں گیم شو تک ہی محدود ہیں اور اب وسیم اکرم اور شعیب اختر نے بھی گیم شوز شروع کر دئیے ہیں۔ عامر لیاقت اب موبائل بانٹنے سے ایک قدم مزید آگے بڑھ گئے ہیں اور لوگوں میں جہاز تقسیم کرتے پھر رہے ہیں۔ پچھلے پانچ، چھ سال کے دوران رمضان ٹرانسمیشن میں جو تغیرات ان آنکھوں نے مشاہدہ کئے ہیں ان کے بعد مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں ہے کہ اگر یہ صدی کتابوں سے عشق کی واقعتاً آخری صدی ہو تو بھی کتابوں سے ابھی ہمارا تعلق مزید سات آٹھ دہائیوں تک قائم رہے گا مگر احترامِ رمضان کے یہ محض آخری چند سال ہی ہیں کہ اس کے بعد رمضان کا مطلب گیم شو اور ایکٹریسز کو سر پر دوپٹہ دے کر بٹھا دینے کا نام رہ جائے گا۔ اب بس وہ دن دیکھنا باقی رہ گیا ہے کہ آخری عشرے کی طاق راتوں میں یکایک ایک اینکر توقف کرنے کے بعد کہے گی کہ آج کی ان مبارک ساعتوں میں میرے لئے بھی خصوصی دعا کیجئے گا کہ عید پر میری فلم ریلیز ہو رہی ہے جس میں مَیں نے آپ لوگوں کے لئے ایک یا دو نہیں پورے پانچ آئٹم سانگ پکچرائز کروائے ہیں۔

awais.ahafeez@yahoo.com

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*