تازہ ترین
outline

ذلت کی زندگی سے عزت کی موت اچھی،علاج کی بھیک نہیں مانگوں گا،نوازشریف

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن)کے تاحیات قائد میاں نوازشریف جو کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں اور ان کی صحت مسلسل بگڑ رہی ہے انہوں نے اہلخانہ کے اصرار کے باوجود اسپتال منتقل ہونے سے انکار کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ ذلت کی زندگی پر عزت کو موت کو ترجیح دیں گے اور علاج کی بھیک نہیں مانگیں گے

نوازشریف کی صاحبزادی نے بتایا تھا کہ انہیں ایک ہفتے میں کئی بار انجائنا کی تکلیف ہو چکی ہے اور کسی بھی وقت حالت بگڑ سکتی ہے اور کہا تھا کہ وہ اپنے اسیر والد کو اپستال منتقل ہونے کے لیئے قائل کرنے کی کوشش کریں گی

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق میا ں نوازشریف کے بھائی اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف، والدہ اور مریم نواز نے کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کی اور انہیں اسپتال منتقل ہونے کے لیئے راضی کرنے کی کوشش کی مگر وہ نہیں مانے

نواز شریف نے اہلخانہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ علاج کی بھیک مانگی ہے اور نہ مانگوں گا کیوں کہ علاج کے نام پر سیاست ہورہی ہے۔

ہسپتال نہ جانے کی وجہ بتاتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا ان کے والد ایک ہسپتال سے دوسرے میں دھکیلے جانے کو تیار نہیں جبکہ علاج بھی نہیں کیا جاتا.

مریم نے ایک ٹوئیٹ میں نواز شریف کے انکار کی وجہ بھی بیان کی ہے ان کے مطابق ’ان (نواز شریف) کو علاج کی سہولت اس وقت بھی نہیں دی گئی جب ان کو کافی دن ہسپتال میں رکھا گیا۔ وہ (نواز شریف) کہتے ہیں وہ عذر، فرار یا اور کسی وجہ سے ہسپتال جانا نہیں چاہتے۔‘

نوازشریف کا کہنا ہے کہ حکومت کا تضحیک آمیز رویہ قبول نہیں اور ایک سے دوسرے اسپتال گھمایا جارہا ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کا کہنا تھاکہ 5 میڈیکل بورڈز کی رپورٹس کے بعد بھی علاج شروع نہیں ہوا، تضحیک قبول نہیں اور عزت کی موت کو ترجیح دوں گا۔

نواز شریف نے ملاقات میں والدہ سے گھر جانے کی التجا کرتے ہوئے کہا کہ ماں جی آپ دعا فرمائیں جو اللہ کو منظور ہوا، ہوجائے گا۔

دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا ہے کہ حکومت نے انھیں آفر کی ہے وہ پنجاب کے جس سرکاری ہسپتال میں چاہیں حکومت ان کا علاج کروانے کو تیار ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*