outline

آئی ایس پی آر اپنی حد میں رہے،حلف کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئین مسلح افواج کے اہلکاروں کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے سےروکتا ہے جن اہلکاروں نے اس حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت کا ساتھ دیا ان کے خلاف وزارت دفاع کے توسط سے کارروائی کی جائے

سپریم کورٹ کے ججوں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل دو رُکنی بنچ نے اس فیصلے میں آئی ایس پی آر کے سیاسی بیانات کو مینڈیٹ کے برعکس قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلیجنس اور انٹیلیجنس بیورو کے علاوہ پاکستانی فوج کا شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر اپنی مقرر کردہ حدود میں رہے

سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے 22 نومبر کو فیض آباد دھرنے کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے آج جاری کیا گیا

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا فیصلہ جو 43 صفحات پر مشتمل ہے اس میں کہا گیا ہے کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے مگر کوئی شخص جو فتویٰ جاری کرے جس سے ‘ کسی دوسرے کو نقصان یا اس کے راستے میں مشکل ہو’ تو پاکستان پینل کوڈ، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 اور/ یا پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت ایسے شخص کے خلاف ضرور مجرمانہ مقدمہ چلایا جائے

سپریم کورٹ نے اس فیصلے میں آرمی چیف، اور بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو وزارتِ دفاع کے توسط سے حکم دیا ہے کہ وہ فوج کے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت یا گروہ کی حمایت کی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ‘پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اپنے پیمرا آرڈیننس کے تحت ان کیبل آپریٹز کے خلاف کارروائی کا آغاز کرے’، جنہوں نے لائسنسس یافتہ براڈکاسٹرز کی نشریات کو روکا یا اس میں خلل پیدا کیا

سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بھی کہا کہا گیا ہے کہ’تمام خفیہ اداروں بشمول (آئی ایس آئی، آئی بی اور ایم آئی) اور پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کو اپنے مینڈیٹ سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی وہ اظہار رائے کی آزادی کو سلب کر سکتے ہیں اور نہ ہی انھیں (چینلز اور اخبارات) کی نشرواشاعت اور ترسیل میں مداخلت کا اختیار ہے‘۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ نجی ٹی وی چینلز جن میں ڈان اور جیو شامل ہیں اور جو کہ لائسنس یافتہ چینلز ہیں، کی نشریات کو چھاؤنی اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے علاقوں میں بند کر دیا گیا لیکن پیمرا نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت یا کوئی بھی خفیہ ادارہ اظہار رائے کی آزادی پر قدغن نہیں لگا سکتا۔

ریمارکس دیتے ہوئے عدالت کا کہنا تھا کہ وردی میں ملبوس اہلکاروں نے فیض آباد دھرنے کے شرکا میں رقوم تقسیم کیں اور یہ کوئی اچھا منظر نہیں ہے۔

اس کے علاوہ عدالتی فیصلے میں آئی ایس پی آر کی ایک ٹویٹ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ تاریخ ثابت کرے گی کہ ۲۰۱۸ کے انتخابات شفاف تھے ۔سپریم کورٹ کی طرف سے اس ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے بھی ’اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سیاسی معاملات پر رائے زنی کی

اس عدالتی فیصلے میں مقامی نجی ٹی وی چینل 92 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے اور اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس چینل کے ذمہ داران فیض آباد دھرنے کے شرکا کو کھانا فراہم کرتے تھے۔ فیصلے میں پیمرا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ اُنھوں نے مذکورہ چینل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

3 تبصرے

  1. سپریم کورٹ نے جو فیصلہ کیا بلکل درست فیصلہ کیا۔ایسے فیصلوں سے قانون کا احترام اور بھول بالا ھوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*