تازہ ترین
outline

تمباکونوشی پر “گناہ ٹیکس“ کیاکوکین پر “گناہ کبیرہ ٹیکس “عائد ہوگا؟

وفاقی حکومت کی جانب سے سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات پر “گناہ ٹیکس“ کے اطلاق کا عندیہ ظاہر کیئے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے اور لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا دیگر مہلک نشوں پر بھی ٹیکس عائد کیا جائے گا

گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز عامر محمود کیانی نے ایک سیمینار سے خطاب کے دوران سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کو خبردار کیا تھا کہ حکومت سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات پر ’سن ٹیکس‘ عائد کرے گی۔

اس اعلان کے بعد متعدد صارفین نے ‘سِن ٹیکس’ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اظہار خیال کیا۔ واضح رہے کہ ‘گناہ’ کو انگریزی میں ‘سن’ (Sin) کہتے ہیں تو اسی مناسبت سے لوگوں نے ‘سِن ٹیکس’ کو ‘گناہ ٹیکس’ کا نام دے ڈالا۔

ٹوئٹر پر ایک صارف نے لکھا کہ اگر حکومت تمباکو مصنوعات پر گناہ ٹیکس لاگو کرنے جا رہی ہے تو پھر ’میک اپ‘ پر تو دھوکہ ٹیکس لاگو ہونا چاہیے۔

اسی طرح ایک شخص نے کہا کہ سگریٹ نوشی پر گناہ ٹیکس کا اطلاق ہونے جا رہا ہے تو کیا کوکین اور غیر محرم خواتین سے جنسی تعلقات پر “گناہ کبیرہ ٹیکس“ نافذ کیا جائے گا

کسی نے یہ پہلو بھی اجاگر کیا کہ اگر گناہ پر ٹیکس لیا جا رہا ہے تو پھر سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کو ثواب الائونس بی دیا جانا چاہئے

اسی طرح سوشل میڈیا پر یہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ گناہ ٹیکس لگا کر کیا گناہ انڈ سٹری کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ محاصل اکھٹے کیئے جائیں گے ،کہیں ایسا تو نہیں کہ گناہ انڈسٹری کو ریگولرائز کر دیا جائے یعنی ٹیکس دو اور جتنے مرضی گناہ کرو

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*