تازہ ترین
outline

سانحہ ماڈل ٹائون،طاہر القادری کی سپریم کورٹ میں طویل تقریر،عدالت نے نئی جے آئی ٹی بناکر معاملہ نمٹادیا

سانحہ ماڈل ٹائون ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے سپریم کورٹ میں طویل تقریر کی مگر سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے انہیں روک کر اس معاملے کی ازسرنو تحقیقات کے لیئے نئی جے آئی ٹی کے قیام کی منظوری دیتے ہوئے یہ معاملہ نمٹا دیا

دوران سماعت عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور خود دلائل دیتے ہوئے عدالت کو واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کا مقدمہ درج نہ ہونے پر اسلام آباد میں دھرنا دیا۔

طاہرالقادری نے واقعے کی جے آئی ٹی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی مظلوم کا بیان تفتیش میں ریکارڈ نہیں کیا گیا، کسی جے آئی ٹی نے زخمی کا بیان ریکارڈ نہیں کیا، ایسی تفتیش کو تفتیش کہا جا سکتا ہے؟ یتیم لوگ کہتے تھے ہمیں انصاف نہیں ملے گا، طاہر القادری عدالت میں آبدیدہ ہو گئے اور کہا کہ کیا ہم فلسطینی تھے جو ہم پراسرائیلی فوج نے گولیاں چلائیں۔

طاہر القادری نے کہا کہ ٹرائل دوبارہ صفر کی سطح پر آگیا ہے، چار سال ہمارے ملزم اقتدار میں تھے، اس کیس میں تفتیش کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے، پولیس نے پہلی جے آئی ٹی میں اندراج مقدمہ کی درخواست تسلیم کی، دو ماہ دھرنا دینے کے بعد ایف آئی آر درج ہوئی، لیکن دوبارہ تفتیش میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کا ذکر نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے بھی روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کا حکم دیا تھا، اس سے زیادہ تیز انصاف کیا دے سکتے تھے؟۔ طاہر القادری نے کہا کہ یہ جاننا ضروری تھا کہ واقعہ کیوں پیش آیا، کڑیاں نہ ملائی جائیں تو تفتیش ہی نہیں ہوگی، ہمارے کیس کی آج تک تفتیش نہیں ہوئی ، ہم بنیادی طور پر ازسرنو تفتیش کروانا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے طاہر القادری سے کہا کہ آپ نے دھرنا دے دیا لیکن عدالتوں میں نہیں آئے، عدالت سمیت ہر کام کو دھرنا دیکر مفلوج کیا گیا، آپ کو پہلے ہی اس عدالت میں آنا چاہیے تھا، جن لوگوں کے پاس آپ جاتے تھے وہ عدلیہ سے بڑے نہیں، آپ ان کے پاس گئے جن کا مقدمہ سے تعلق نہیں تھا، دھرنے والوں نے عدالت پر پھٹی پرانی قمیضیں لٹکائی، کیا یہ عدالت کی تکریم ہے؟، ججز کا بھی راستہ روکا گیا، آپ نے مناسب قانونی حکام سے رجوع نہیں کیا۔

نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ عوامی تحریک جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہوئی، جے آئی ٹی میں حساس اداروں کے لوگ بھی شامل تھے۔ طاہر القادری نے جواب دیا کہ گرفتاریاں ہو رہی تھی جے آئی ٹی میں کون اور کیسے جاتا؟ بار بار کہا پنجاب حکومت اور وزیر اعظم ہمارے ملزم ہیں، کیا ڈی ایس پی وزیر اعظم اور وزیراعلی کے خلاف تفتیش کر سکتا ہے، الزام چاہے غلط ثابت ہو جائیں لیکن تفتیش ہونی چاہیے، بیریئر ہٹانے کیلئے ہمیں کوئی نوٹس نہیں ملا تھا بلکہ اصل ایجنڈا لانگ مارچ کو روکنا تھا، نئی جے آئی ٹی بنائی جائے، تمام لوگ نئی جے آئی ٹی میں پیش ہوں تو بہتر تفتیش ہو سکے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے جے آئی ٹی آزاد تھی یا نہیں اور آپ کا نکتہ ہے کہ تحقیقات شفاف نہیں ہوئیں، یہ بھی دیکھنا ہے کیا عدالت شفاف ٹرائل کے حکم کا اختیار نہیں رکھتی، ریاست مجرمانہ طور پر ملوث ہو تو کیا عدالت حکم نہیں دے سکتی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں ہم ایسی جے آئی ٹی بنائیں جس کی رپورٹ بطور ثبوت پیش نہ ہو سکے ۔

عدالت کے پوچھنے پر پنجاب کے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے کہا کہ حکومت اس بات سے متفق ہے کہ تفتیش کیلئے نئی جے آئی ٹی بنائی جائے ۔ اس پر عدالت نے درخواست نمٹا دی

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*