تازہ ترین
outline

لاپتا افراد : معاملہ اتنا ہی سادہ ہے؟-اویس حفیظ

’’کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے میں ملوث تینوں دہشت گرد مبینہ طور پر بلوچستان سے لاپتا ہو جانے والے افراد کی فہرست میں شامل تھے۔ یہ بات دفاعی امور کے تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) امجد شعیب نے بتائی جبکہ اس کی تصدیق کراچی میں ڈی ڈبلیو کے نمائندے نے بھی اپنے ذرائع کے حوالے سے کی ہے‘‘۔

یہ وہ خبر ہے جو گزشتہ دنوں کراچی میں چینی سفارت خانے پر حملے کے بعد قریباً سبھی میڈیا گروپس، نیوز چینلز اور اخبارات نے نشر و شائع کی۔ اس خبر کی حقانیت پر قطعاً کوئی سوالیہ نشان نہیں مگر بات یہ ہے کہ اس کے پیچھے کیا مقصد کارفرما تھا؟ کیا اس خبر سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ لاپتا افراد درحقیقت قوم پرست جماعتوں میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں اور ٹریننگ کی غرض سے بھارت و افغانستان میں موجود ہیں اس وجہ سے ان کے گھر والے انہیں لاپتا سمجھ لیتے ہیں کہ وہ بنا بتائے گھر سے چلے جاتے ہیں؟ممکن ہے یہ بات کسی حد تک درست ہو بلکہ درست بھی ہے مگر اس کے باوجود لاپتا افراد کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ اسے اس خبر کے زیرِ اثر اسے دبایا یا چھپایا جا سکے۔ ایک دہائی سے کچھ زیادہ عرصہ ہوا، جنرل پرویز مشرف بھی لاپتا افراد کے معاملے میں یہی دلیل دیا کرتے تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ قوم پرست جماعتوں کے بجائے جہادی جماعتوں کا ذکر کیا کرتے تھے۔
سوال یہ ہے کہ ایسے افراد کی تعداد کا تناسب کیا ہے؟ درحقیقت مذکورہ جماعتوں میں شامل ہونے والے بیشتر افراد بھی دلبرداشتہ و متنفر افراد تھے، جنہیں پہلے ’’غائب‘‘ کیا گیا بعد ازاں چھوڑ دیا گیا مگر پھر وہ اس قابل ہی نہ رہے کہ اپنا کام یکسوئی سے کر سکیں کہ دوبارہ غائب ہونے کا خطرہ مسلسل ان کے سر پر منڈلا رہا تھا، نتیجتاً انہوں نے کالعدم جماعتوں میں شمولیت اختیار کر لی۔

کیا اس حقیقت سے انکار کیا جا سکتا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی کسی دور میں ’’لاپتا افراد‘‘ میں شامل تھیں، کیا عافیہ صدیقی کی گمشدگی کے بعد ’’جہادی تنظیم میں شمولیت‘‘ کا ڈرامہ نہیں رچایا گیا تھا؟ کیا مسعود جنجوعہ آج بھی لاپتا نہیں؟ کیا مسز آمنہ مسعود 2005ء سے اپنے شوہر و دیگر گمشدہ افراد کی بازیابی کی تحریک نہیں چلا رہیں؟ کیا ماما قدیر کے بیٹے کی گمشدگی اور بعد ازاں مسخ شدہ لاش کی صورت برآمدگی کوئی افسانہ ہے؟ کیا کالعدم حزب التحریر کا نوید بٹ کوئی چھلاوہ تھا جو غائب ہو گیا؟ کیا بلوچستان وزارتِ داخلہ کی رپورٹ کہ 2010ء کے بعد بلوچستان سے ایک ہزار سے زائد مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں، جھوٹ پر مبنی ہے؟ کیا سینیٹ کی کمیٹی سے لاپتا افراد کے معاملے پر پنجاب، سندھ اور بلوچستان حکام کو طلب نہیں کیا تھا؟ کیا ملک بھر میں پچھلی جمہوری دہائی کے دوران ہزاروں بلوچ، پختون اور سندھی لاپتا نہیں ہوئے؟ کیا گزشتہ دنوں لاپتا افراد کی بازیابی کے حوالے سے ایک ایسا انوکھا احتجاج دیکھنے کو نہیں ملا جس میں صرف خواتین نے شرکت کی تھی کیونکہ ان کے بقول مرد اب احتجاج میں اس وجہ سے شرکت نہیں کرتے کہ لاپتا افراد کے لیے احتجاج کرنے سے وہ خود بھی لاپتا ہو جاتے ہیں؟ کیا چند ماہ قبل چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز کو اپنے چیمبر میں طلب کرتے ہوئے لاپتا افراد کہ بازیابی کیلئے خصوصی سیل قائم کرنے کا حکم نہیں دیا؟ کیا سپریم کورٹ نے لاپتا افراد کیس کے حوالے سے کمیشن نہیں بنایا جس کی سربراہی موجودہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو سونپی گئی؟ (گزشتہ دنوں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق جسٹس جاوید اقبال آج بھی ہفتے میں ایک یا دو دن گمشدہ افراد کیس کی سماعت کرتے ہیں اور کئی لاپتا افراد کو بازیاب کروایا جا چکا ہے اور ان میں سے کوئی ایک بھی کسی تنظیم سے وابستہ نہیں پایا گیا) کیا ان سب باتوں کا انکار کیا جا سکتا ہے؟ کیا انہیں جھٹلایا جا سکتا ہے؟

لاپتا افراد صرف ہمارا مسئلہ نہیں ہیں، اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً دنیا کے 30سے زائد ممالک میں جبری گمشدگیوں کا دھندہ جاری ہے دوسری طرف پوری دنیا سے جبری طور پر لاپتا افراد کے حوالے سے 46ہزار سے زائد کیسز اقوامِ متحدہ کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔

جب یہ ساری باتیں حقیقت ہیں تو لاپتا افراد کے معاملے سے اس قدر لاتعلقی کیوں؟ کیوں اس معاملے کو دبایا جا رہا ہے کیوں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ لاپتا افراد کا معاملہ دراصل افراد کے بنا بتائے گھر سے چلے جانے کا معاملہ ہے؟ کیا دھول قالین کے نیچے چھپانے سے گندگی ختم ہو جاتی ہے؟
اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں عموماً چار قسم کے افراد لاپتا ہیں۔

1۔قوم پرست کارکن، جن میں زیادہ تر بلوچ و سندھی شامل ہیں، ان پر مسلح مزاحمتی تحریک میں حصہ لینے یا اس کی حمایت کا الزام ہے۔
2۔کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد، جن پر ان تنظیموں سے تعلق، حمایت یا سہولت کاری کا شبہ ہے۔ قبائلی علاقہ جات اور خیبر پختونخوا سے اکثر گمشدہ افراد کا تعلق اس کیٹگری سے ہے۔

3۔سیاسی جماعتوں بالخصوص سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز سے تعلق رکھنے والے افراد۔
4۔جو انسانی حقوق اور لاپتا افراد کی آواز بلند کرتے ہیں۔ اکثر این جی اوز کے کارکن بھی لاپتا ہوئے۔

گزشتہ سال جبری گمشدگی میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا تھا اور یہ وہ افراد تھے جو نام نہاد لبرلز اور ایکٹوسٹ تھے۔ ان پر سوشل میڈیا پر توہینِ مذہب کا الزام تھا مگر یہ سبھی افراد نہ صرف یہ کہ بازیاب ہو چکے ہیں بلکہ اکثر تو اپنے کیے کا اعتراف کرنے کے بعد ملک سے بھی بھاگ چکے ہیں۔
بات کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ لاپتا افراد کا معاملہ ایسا چھوٹا نہیں کہ اسے یونہی دبا دیا جائے، یہ ایک حقیقت ہے جسے جلد یا بدیر ہمیں تسلیم کرنا ہی ہے پھر اس معاملے میں اس قدر تساہل کیوں؟ کیوں اس معاملے میں تجاہلِ عارفانہ سے کام لیا جا رہا ہے؟بہتر ہو گا کہ جس قدر جلد ہو سکے اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے اور لاپتا افراد کی بازیابی کو ممکن بنانے کے لیے اقدام کیے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*