outline

کیا نوازشریف کو لندن بھیجنے کا فیصلہ ہو چکا ہے؟

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں نوازشریف علاج کی غرض سے لاہور کے سروسز ہاسپٹل میں ہیں مگر باوثوق ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہیں لندن بھیجنے کا فیصلہ ہو چکا ہے اور وہ بہت جلد علاج کی غرض سے برطانیہ روانہ ہو رہے ہیں

حکومت پنجاب کی جانب سے تشکیل دیئے گئے بورڈ نے تمام ٹیسٹ ہونے کے بعد کہا تھا کہ نوازشریف کو ہارٹ اٹیک نہیں ہوا لیکن انہیں دل کے پرانے مرض کے علاج کی ضرورت ہے جس کے بعد ڈیل اور ڈھیل کی افواہیں گردش کرنے لگیں اور حکومتی شخصیات کی جانب سے سختی کیساتھ یہ کہا جانے لگا کہ نوازشریف کو این آر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن ایسا نہیں ہو سکتا

نوازشریف کے وکلا کی طرف سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست دی گئی تھی جس کی سماعت چھ فروری یعنی بدھ کے روز ہونی ہے اور بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ نوازشریف کو علاج کی غرض سے ضمانت دیدی جائے گی

مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر پرویز رشید نے بھی یہ عندیہ ظاہر کیا ہے کہ میاں نوازشریف علاج کے لیئے برطانیہ روانہ ہو سکتے ہیں -سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ ہمارا موقف بہت سادہ ہے۔ مریض نے جس ڈاکٹر سے ماضی میں علاج کرایا ہوتا ہے وہی اس کی حالت بہتر جانتا ہے اور یہ میاں صاحب کا قانونی حق ہے کہ انھیں اپنی مرضی کے ڈاکٹر سے علاج کرانے کا موقع دیا جائے

اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے ایک اور سینئر رہنما خواجہ آصف نے بھی نوازشریف کی لندن روانگی کا اشارہ دیا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں عدلیہ سے ریلیف ملنے کی امید ہے لندن میں جس ڈاکٹر نے دوبار سرجری کی ہے ترجیح ہوگی کہ نوازشریف کا علاج اسی ڈاکٹر سے کروایا جائے اس لیئے ضمانت ہونے کے بعد میاں نوازشریف لندن روانہ ہو سکتے ہیں

لیکن یہ سوال ابھی تک اپنی جگہ موجود ہے کہ عدالت سے ضمانت پر رہائی کے بعد اگر نوازشریف لندن روانہ ہوتے ہیں تو کیا اسے ڈیل تصور کیا جائے گا ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*