تازہ ترین
outline

روپے کی قدر میں کمی کی خبر میڈیا سے ملی ،وزیراعظم کا انکشاف،فوج پی ٹی آئی منشور کیساتھ ہے،دعویٰ

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ٹی وی اینکرز کو دیئے گئے تہلکہ خیز انٹرویوز کے ذریعے لوگوں کو حیران اور پریشان کر دیا ہے انہوں نے نہ صرف یہ انکشاف کیا ہے کہ اسٹیٹ بنک نے ان سے پوچھے بغیر روپے کی قدر میں کمی کی بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ فوج پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منشور کے ساتھ کھڑی ہے

وزیراعظم عمران خان نے ٹی وی اینکرز اور سینئر صحافیوں سے ملاقات کی جس میں سیاسی صورتحال سمیت مختلف امور پر بات چیت کی گئی۔

وزیر اعظم ہاؤس میں چند صحافیوں کے ساتھ ہونے والی ملاقات اور بعد ازاں نشر ہونے والے انٹرویو میں عمران خان نے دعویٰ کیا کہ چند روز قبل ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں آٹھ روپے کی کمی کے فیصلے کے بارے میں انھیں کوئی علم نہیں تھا اور انھیں بھی خبروں کے ذریعے ہی اس کمی کی اطلاع ملی۔روپے کی قدر کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سٹیٹ بینک ایک خود مختار ادارہ ہے اور یہ فیصلہ انھوں نے خود لیا تھا۔ ‘میں نے انھیں پیغام پہنچا دیا ہے کہ اب وہ اس نوعیت کا فیصلہ لینے سے قبل ہم سے مشاورت کر لیا کریں۔’

انھوں نے کہا کہ اس طرح قدر میں کمی سے معاشی حالات میں غیر یقینی کی فضا قائم ہوتی ہے لیکن ساتھ میں مزید بتایا کہ ‘اب حالات میں بہتری آ رہی ہے اور ہم درست سمت میں جا رہے ہیں۔’

انہوں نے کہا کہ معلومات وہ شخص چھپاتا ہے جسے کوئی خوف ہوتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ ہماری حکومت شفاف ہو، سنسر شپ بری چیز ہے، اگرمیرا کوئی وزیرغلط کام کرتا ہے تو چاہتا ہوں وہ بے نقاب ہو۔

100 روزہ پلان کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ اگر ایک پُل بھی بناتے ہیں تو وہ 100 دن میں نہیں بنتا، 100 دنوں میں حکومت کی سمت طے ہوتی ہے، ہم سرکاری اسپتالوں کو بہتر بنانے پر کام کررہے ہیں، ہیلتھ کارڈ پورے پاکستان میں لارہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ جوغریب اپنا کیس نہیں لڑسکتا، حکومت اس غریب کو وکیل کرکے دے گی۔

انہوں نے کہا کہ مرغی اورانڈے کی بات پربہت شورمچایا گیا، بل گیٹس نے جب مرغی اورانڈے کی بات کی تو اس کو سراہا گیا، اصل غربت دیہات میں ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 100 دنوں میں حکومت کی سمت طے ہوتی ہے، میرے مفاد میں ہے کہ مجھ پر اور میرے وزراء پر چیک ہو، ملک کی برآمدات بڑھنا شروع ہوگئی ہیں، منی لانڈرنگ پر اسی ہفتے قانون لا رہے ہیں، وزراء کی 100 دن کی کارکردگی کا اسی ہفتے جائزہ لیں گے، ہوسکتا ہے کہ کئی وزیروں کو تبدیل کرنا پڑے۔

وزیراعظم سے سوال کیا گیا کہ اگر جنوبی پنجاب الگ صوبہ بنتا ہے تو وسطی پنجاب میں آپ کی حکومت ختم ہوجائے گی؟ جس پر عمران خان نے کہا کہ جب تک یہ مرحلہ آئے گا ہوسکتا ہے اس سے پہلے ہی الیکشن ہوجائے۔

عمران خان نے کہا کہ ہو سکتا ہے جنوبی پنجاب صوبے کا معاملہ آنے سے پہلے قبل از وقت انتخابات ہو جائیں، ابھی یہ سوچ رہے ہیں کہ نئے صوبے کا دارالحکومت بہاولپور بنے گا یا ملتان۔

وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو وسیم اکرم پلس قرار دے دیا جبکہ ایم کیو ایم سے اتحاد کے سوال پر کہا کہ جب تک اتحادی میری پالیسیوں میں رکاوٹ نہیں بنتے مجھے اُن سے کوئی مسئلہ نہیں۔

وزیراعظم نے کرتار پور راہدری پر وزیر خارجہ کے گوگلی کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ ’ یہ فیصلہ ان کی گوگلی نہیں تھی بلکہ سیدھا سادھا فیصلہ تھا، شاہ محمود کا مطلب تھا کہ بھارت میں الیکشن آرہے ہیں، وہ پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کررہا ہے لیکن ہم نے نفرت پھیلانےکا منصوبہ روکنے کیلئے کرتارپور کوریڈور کھولا ہے لہٰذا نفرت پھیلانے کا منصوبہ ناکام بنانے کو گوگلی کہہ سکتے ہیں لیکن اس کا قطعاً یہ مقصد نہیں کہ ہم نے دھوکا یا ڈبل گیم کیا ہے‘۔

کشمیر کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’ہم مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پرعزم ہیں، اگر دونوں ممالک چاہیں تو یہ ہوسکتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ پراکسی وار سےکوئی نہیں جیت سکتا اور نہ ہی جنگ کسی مسئلے کا حل ہے، مسئلہ کشمیر کا واحد حل مذاکرات ہے۔

عمران خان نے کہا کہ تمام معاملات پر بھارت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں کوئی عقل مند آدمی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ دو ایٹمی ملک جنگ کی طرف جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*