outline

پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے پروفیسر ارمان لونی کون؟

بلوچستان کے ضلع لورالائی میں پولیس تشدد سے جاں بحق ہونے والے پشتون تحفظ موومنٹ کے اہم رہنما ابراہیم ارمان لونی پیشے کے اعتبار سے معلم تھے اور قلعہ سیف اللہ ڈگری کالج میں تدریسی فرائض سرانجام دے رہے تھے

ان کا نام تو ابراہیم لونی تھا لیکن شاعری کا شغف ہونے کے باعث ارمان کا تخلص اختیار کیا اور خود کو ابراہیم ارمان لونی کہلوانا پسند کرتے تھے

ابراہیم ارمان لونی کا تعلق بلوچستان کے ضلع زیارت کی تحصیل سنجاوی سے بتایا جاتا ہے جہاں گورنمنٹ اسکول سے انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ پشتو میں داخلہ لیکر ماسٹرزکیا –

ابراہیم ارمان لونی نے پبلک سروس کمیشن کا امتحان دیکر لیکچرر کی ملازمت حاصل کی – ان کی پہلی تعنیاتی ڈگری کالج کوئٹہ میں ہوئی اور بعدازاں ان کا ڈگری کالج قلعہ سیف اﷲ میں تبادلہ ہوگیا تو وہ اپنے اہلخانہ سمیت قلعہ سیف اللہ منتقل ہو گئے

ابراہیم ارمان لونی زمانہ طالبعلمی سے ہی سیاسی سرگرمیوں کی طرف راغب تھے اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے جلسوں میں شریک ہوا کرتے تھے ،پشتون تحفظ موومنٹ بنی تو وہ اس کے بانی ارکان میں شامل ہوئے اور کور کمیٹی کا بھی حصہ تھے

چونکہ سرکاری ملازمت کی وجہ سے وہ خود سیاسی سرگرمیوں میں کھل کر حصہ نہیں لے سکتے تھے اس لیئے ان کی بہن وڑانگہ لونی پی ٹی ایم میں فعال کردار ادا کرتی رہیں اور وہ خود اسٹیج پر جا کر تقریریں کرنے کے بجائے عام آدمی کی حیثیت سے جلسوں میں شریک ہوتے

پی ٹی ایم رہنمائوں کے مطابق انہیں پہلے سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں کہ پشتون تحفظ موومنٹ سے علیحدہ ہو جائو اور پھر جب لورالائی پریس کلب کے باہر پی ٹی ایم کا دھرنا جاری تھا تو انہیں پولیس تشدد سے ہلاک کر دیا گیا

پی ٹی ایم رہنمائوں نے ایف آئی آر کے اندراج کے لیئے جو درخواست دی ہے اس میں اے ایس پی عطاالرحمان کو اس قتل کا مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے جو پاکستان ایئر فورس میں فلائٹ لیفٹیننٹ تھے اور سی ایس ایس میں فوجی کوٹے پر پولیس سروس میں آئے

ابراہیم ارمان لونی نے ایک بوڑھی والدہ ،بیوی ،تین کم عمر بچوں اور ایک بہن کو سوگوار چھوڑا ہے -ابراہیم ارمان لونی تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے جبکہ ان کے دو کم عمر بیٹے اور ایک بیٹی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*