تازہ ترین
outline

جب میں چوتھی جماعت میں تھا

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ٹاپ ٹرینڈز میں اچانک ایک ٹرینڈ نمایاں دکھائی دینے لگا “جب میں چوتھی جماعت میں تھا“ اور پھر سب لوگ اپنے کارنامے گنوانے لگے کہ جب وہ چوتھی جماعت میں تھے تو کیا کیا کر چکے تھے

بہت دیر تک تو صارفین کو معلوم ہی نہ ہو سکا کہ اس ٹوئٹر ٹرینڈ کی اصل کہانی کیا ہے اور یہ کیوں شروع ہوا ؟بات شروع ہوئی اے آر وائی پر “سرعام“ کے نام سے پروگرام کرنے والے قرار الحسن کی ٹویٹ سے

حج سبسڈی سے متعلق ہو رہی بحث کے دوران اپنی علمیت جھاڑنے کے لیئے اقرار الحسن نے ایک ٹویٹ کی جس میں کہا “اُن سےزیادہ جاننے کا دعویٰ تو نہیں، لیکن میں چوتھی جماعت میں تھا جب میں تنویرالمقباس، تفسیرِکبیر، تفسیرِ درمنثور، مفاتیح الغیب(تفسیرِکبیر)، روح البیان، روح المعانی اور تفسیرابنِ کثیر سمیت ایک درجن تفاسیر اور صحاحِ ستہ کا مطالعہ کر چکا تھا“

بس پھر کیا تھا ،ٹوئٹر ہی نہیں فیس بک پر بھی اس دعوے کی بھد اڑائی جانے لگی کیونکہ اقرار الحسن نے جن ضخیم کتابوں کا تذکرہ کیا ،ان میں سے کئی ایک بیسیوں جلدوں پر مشتمل ہیں ا ور صرف عربی زبان میں ہی لکھی گئی ہیں تو چوتھی جماعت کا طالبعلم ان بھاری کتابوں کو اٹھا نہیں سکتا تو ان کا مطالعہ کرنے کا دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے

کسی نے بھد اڑاتے ہوئے کہا ،علمی ناقدری کا یہ عالم ہے کہ چوتھی جماعت⁩ میں یہ ساری کتابیں پڑھ لینے والا بڑا ہو کر جعلی مذبحہ خانوں اور قحبہ خانوں پر چھاپے سٹیج کر کے روٹی کمانے پر مجبور ہے

اس ٹرینڈ کے جواب میں اقرار الحسن نے ایک ٹویٹ کے ذریعے سوال اٹھایا کہ کیا یہ محض حسنِ اتفاق ہے کہ میری ایک حالیہ ٹوئیٹ کے جواب میں مذاق اور تنقید کرنے والوں میں سے نوے فیصد سے زائداکاؤنٹس کو مریم نواز فالو کرتی ہیں گویا وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ ان کے خلاف مہم مریم نواز کے میڈیا سیل کی جانب سے چلائی جا رہی ہے

بعد ازاں انہوں نے ایک ویڈیو رپورٹ بنا کر بھی شیئر نہ کی لیکن جب اس سے بھی کام نہ چلا تو یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ کتابیں پڑھنے کی بات کرکے انہوں تفہیم کا دعویٰ نہیں کیا اور اس بات کا تذکرہ علمیت ظاہر کرنے کے لیئے نہیں کرنا چاہئے تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*