outline

سنتھیا کون؟ففتھ جنریشن وار کی تنخواہ دار یا پاکستان کی بے لوث سپاہی ؟

ہمارے ہاں جب کوئی کشمیریوں ،فلسطینیوں ،عراقیوں یا لبنانیوں کے حق میں کوئی بات کرتا ہے تو اسے یہ کہہ کر چپ کروا دیا جاتا ہے کہ ہمیں فلسطینیوں سے زیادہ فلسطینی بننے کی کوئی ضرورت نہیں ۔مگر ایک سفید فام خاتون سوشل میڈیا پر پاکستان کے سرکاری بیانئے کا ڈٹ کر دفاع کرتی دکھائی دیتیں ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے وہ پاکستانیوں سے بڑھ کر پاکستانی ہیں

امریکی شہری سِنتھیا رِچی جو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر خاصی سرگرم ہیں ،ان کے بارے میں پہلے ہی متضاد اور مشکوک اطلاعات مسیر تھیں مگر حال ہی میں سوشل میڈیا پر ہونے والے ایک “ملاکھڑے“ نے یہ سوال پھر سے زندہ کردیا ہے کہ آیا وہ ففتھ جنریشن وار کے تحت ریاستی موقف کو دفاع کرنے والی تنخواہ دار ملازم ہیں یا پھر پاکستانیت کی بے لوث سپاہی ؟

سنتھیا رچی خود کو فری لینس پروڈیوسر اور ہدایت کار اور سٹریٹجیک کمیونِکیشنز کنسلٹنٹ اور ‘ڈیوِلز ایٹووکیٹ’ (یعنی وہ جو ہر بات کا مخالف نظریہ پیش کرنے پر یقین رکھتے ہوں) قرار دیتی ہیں اور اس سے پہلے بھی ٹوئٹر پر اپنی ویڈیوز جاری کرتی رہتی ہیں

سنتھیا پاکستان کے ریاستی اداروں پر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتی ہیں اور گالم گلوچ سے بھی گریز نہیں کرتیں ۔جس دن نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا ہوئی ،سنتھیا نے نہایت قابل اعتراض“ایف“ سے شروع ہونے والا لفظ استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ایک اچھادن ہے

اسی طرح انہوں نے ایک اشتعال انگیز ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز کے کالم نویس یاسر لطیف ہمدانی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ کریں گی اور ایک قابل اعتراض کالم لکھنے پر نہ صرف انہیں بلکہ اخبار کے مدیر رضا رومی اور ناشر شہریار تاثیر کو عدالت لیکر جائیں گی

سنتھیا نے بہت گھٹیا زبان استعمال کی اور اپنے آپ کو گالی دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب لوگ غلط “کتیا“سے پنگا لے بیٹھے ہیں

اس پر پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کے متحرک کارکن فرحان ورک نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ رضا رومی طالبان کی مخالفت کرنے پر گولیوں کا نشانہ بنے ہیں اور اختلاف رائے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کی ذات پر کیچڑ اچھالے جائیں۔

فرحان ورک نے کئی ویڈیوز پوسٹ کیں جس کے بعد ٹوئٹر پر ایک جنگ کا ماحول بن گیا اور دونوں جانب سے تابڑ توڑ حملے شروع ہو گئے۔

ایک موقع پر فرحان ورک نے سنتھیا رچی کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں نے آپ کے کام پر تحقیق کی ہے اور دیکھا کہ آپ نے پاکستان کا مثبت تاثر بڑھانے کے لیے ہزاروں دستاویزی فلمیں بنائی ہیں جو کہ لاکھوں برطانوی اور امریکی شہریوں نے دیکھیں ہیں۔

اس ٹویٹ سے یوں لگا جیسے اس معاملے پر سیز فائر ہو گئی ہے لیکن اگلی ہی ٹویٹ میں تب پھر سے گولا باری شروع ہو گئی جب فرحان ورک نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ‘باجی نے صرف پانچ ویڈیو بنائی ہیں اور یہ ویڈیو صرف پاکستانیوں نے دیکھیں ہیں۔’

اس کے بعد یکایک “غیبی امداد “ آئی اور سنتھیا کے حق میں دیکھتے ہی دیکھتے ہیش ٹیگ بن گیا اور اس کی تعریف و توصیف میں دھڑا دھڑ ٹویٹس ہونے لگیں

آئی ٹی ماہرین کے مطابق یہ ٹرینڈ مصنوعی طریقے سے بنایا گیا اور ان کی تحقیق کے مطابق اس حوالے سے کی گئی ٹویٹس کی ایک واضح تعداد نقلی یا جعلی اکاؤنٹس سے کی گئی تھیں

سنتھیا نے تو کچھ دیر بعد ہی اپنی اشتعال انگیز باتوں سے رجوع کر لیا ا ور رضا رومی سے نہ صرف معافی مانگ لی بلکہ انہیں اسلام آباد میں اکٹھے کافی پینے کی پیشکش بھی کی جس پر امریکہ میں مقیم پروفیسر محمد تقی نے پنجابی میں ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا “میرا بھائی، توں ہُن کوہسار مارکیٹ نہ چلا جائیں کافی استے۔ امریکن سنڈی دے بدلے خاکی سنڈا نکل آؤنا اوتھے“

بہر حال رضا رومی نے تو بلا توقف سنتھیا کی معافی قبول کرلی مگر سوشل میڈیا کا یہ “ملاکھڑا“ اب بھی جاری ہے اور دونوں طرف سے بھرپور گولا باری کی جارہی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*