تازہ ترین
outline

مولانا سمیع الحق قتل ،تین افراد کے ڈی این اے میچ ،ڈرائیور کا پولی گرافک ٹیسٹ میں جھوٹ بولنا ثابت

راولپنڈی کے بحریہ ٹائون میں قتل ہونے والے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قتل کا معمہ حل ہونے میں نہیں آرہا مگر اب فورینسک شہادتوں کی بنیاد پر تفتیشی حکام نے کچھ کڑیاں ملانے کی کوشش کی ہے جس معلوم یوتا ہے کہ مولانا سمیع الحق کے ڈرائیور اور پرسنل سیکریٹری کا اس واردات سے کہیں نہ کہیں تعلق ضرور ہے

لاہورمیں مولانا سمیع الحق قتل کیس کی تحقیقات کےلیے 10افراد کے پولی گرافی اور ڈی این اے ٹیسٹ کیے گئے، تین افراد کے ڈی این اے جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد سے میچ کرگئے، لیکن قتل سے تعلق نہ نکلاجبکہ مولانا کا ڈرائیور پولی گرافی ٹیسٹ کے دوران مبینہ طورپر جھوٹ بولتا رہا۔

جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق قتل کیس کی تحقیقات کےدوران فرانزک سائنس ایجنسی لاہور میں مولاناکے ڈرائیور احمد شاہ سمیت 10 افراد کا پولی گرافی اور ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا۔

ذرائع فرانزک ایجنسی کے مطابق مولانا سمیع الحق کا ڈرائیور احمد شاہ ٹیسٹ کے دوران جھوٹ بولتا رہا، اس سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ قتل کرنے والوں کو جانتا ہے؟ اور کیا وہ قتل کی منصوبہ بندی میں شامل رہا؟

ٹیسٹ کے نتائج میں3 افراد کے ڈی این اے کمرے سے ملنے والے شواہد سے میچ کر گئے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد نے پولی گرافی ٹیسٹ میں سچ بولا اور ان کا قتل سے تعلق نہیں نکلا۔

مولانا سمیع الحق کو گذشتہ سال نومبر میں راولپنڈی میں واقع اُن کی رہائش گاہ پر چاقوؤں کے وار کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*