تازہ ترین
outline
banner imtiaz shad

سستا انصاف۔امتیاز شاد

صاحب !میرے پاس اب بچا ہی کیا ہے جو چھپا کر رکھوں،گذشتہ چھ ماہ سے جب بھی حاکو کی پیشی پر شہر آتی ہوں آپ کو ہر طرح سے خوش کرکے جاتی ہوں،آج تیز بخار کے باوجود آپ کی خواہش پر تمام رات سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے گزار دی ،بس اتنا پوچھنا تھا کہ اب اس کی ضمانت ہو جائے گی؟ موچھوں پر کنگھا کرتے ہوئے شیشے کی جانب منہ کیئے انور نے لاپروائی میں جواب دیا،دیکھو بانو یہ قانونی معاملات ہیں میں پوری کوشش کروں گا کہ آج حاکو کی ضمانت ہو جائے،بات کاٹتے ہوئی بھرائی ہوئی آواز میں بولی مگر آپ نے رات کو تو کہا تھا کہ کل حاکو تمہارے ساتھ واپس گاؤں جائے گااب آپ کہہ رہے ہو کہ کوشش کروں گا۔ انور نے چائے کا آخری گھونٹ پیا اور دروازے سے نکلتے ہوئے بس اتنا بولا ’’ بانو میں مانتا ہوں تم نے چھ ماہ میں مجھے متعدد بار خوش کیا ہے مگر میں تمہیں کیسے بتاؤں میں جج نہیں وکیل ہوں اور میری پوری کوشش ہو گی کہ آج ضمانت مل جائے‘‘ یہ کہہ کر انور عدالت کی طرف روانہ ہو گیا بانو دروازے پر کھڑی نہ جانے کن خیالوں میں گم ہو گئی۔اچانک برتن گرنے کی آواز آئی تو بانو جو دروازے کے ساتھ لگ کر سوچوں میں مگن تھی تیزی سے کچن کی طرف گئی جہاں بلی وہ برتن جس میں رات انور بریانی لے کر آیا تھا اور بانو کے لیئے آدھی چھوڑ دی تھی نیچے گرا چکی تھی اور اپنے پنجوں سے بریانی بکھیر رہی تھی،بانو نے بلی کو بھگایا اور کچن کی صفائی کرنے لگی وہ گذشتہ چھ ماہ سے جب بھی آتی انور کے گھر کے تمام کام کاج کر کے جاتی کیونکہ انور کی بیوی اسے چھوڑ کر ایک سال سے اپنے میکے بیٹھی تھی اور گھر میں انور اکیلا رہتا تھا۔بانو کونہ جانے آج کیوں یقین تھا کہ حاکو کی ضمانت ہو جائے گی رات بھر جاگنے اور بخار کی وجہ سے اس کی طبیعت بوجھل سی ہو رہی تھی ،کام کاج سے فارغ ہونے کے بعد وہ صوفے پر لیٹ گئی اور اسے نیند آگئی ۔بانو اپنے دونوں بھائیوں حاکو اور اصغر سے چھوٹی تھی مگر والدین کے مرنے کے بعد وہ گھر سنبھالتی اور حاکو اپنی بکریاں ،اصغر بڑا ہی ذہین اور چست لڑکا تھا اسے شروع سے ہی پڑھنے کا شوق تھا ،بانو اور حاکو نے اپنی تمام خوشیوں کا گلا گھونٹ کر اسے پڑھایا گاؤں کے قریب میڑک تک سکول تھا اصغر نے اچھے نمبروں سے میڑک پاس کیا اور حاکو نے اپنے بھائی کو بڑا آدمی بنانا تھا لہٰذا اس نے کچھ بکریاں بیچ دیں اور اسے لاہور پڑھنے کے لیئے بھیج دیا،حاکو اس بات پہ خوش تھا کہ ایک دن اس کا بھائی پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنے گا تو بانو کی شادی بھی کریں گے اور حالات بدل جائیں گے۔سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا ایک دن اصغر چھٹیوں پر گاؤں آیا تھوڑا پریشان پریشان تھا بانو نے وجہ پوچھی تو اصغر نے بتایا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہم سب کچھ بیچ کر شہر چلے جائیں یہاں کیا رکھا ہے؟ حاکو کھانا کھا کر فارغ ہوا تو اصغر سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا دیکھ میرے چھوٹے بھائی سب کچھ تمہارا ہے ہم نے تو ساری خوشیاں تم سے جوڑ رکھی ہیں مگر ہم شہر نہیں جائیں گے،تم پڑھ لکھ کے بڑے آدمی بن جاؤ تو جہاں دل چاہے رہنا۔حاکو صبح اٹھا تو یہ جان کر اس کے پاؤں کے نیچے سے جیسے زمین ہی نکل گئی کہ اصغر تو صبح سویرے ہی گھر چھوڑ کر چلا گیا ہے۔دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں بدلنے لگے مگر اصغر کی کوئی خبر نہ آئی،حاکو نے تو کبھی اپنے گاؤں سے باہر قدم نہیں رکھا تھا،وہ تو آج تک کبھی گاؤں کے قریب شہر میں نہیں گیا تھا وہ لاہور جیسے شہر میں اصغر کو کیسے ڈھونڈتا؟ دونوں بہن بھائی اس امید سے زندگی گزارنے لگے کہ ایک دن ہمارا اصغر بڑا آدمی بن کر واپس آئے گامگر اصغر کو گئے بارہ سال بیت گئے کہیں سے اس کی کوئی خبرنہ آئی۔حاکو اپنی بکریاں نکالتا حسب معمول انہیں چرنے کے لیئے چھوڑ دیتا اور خود بیری کے درخت کے نیچے سر کے نیچے اینٹ رکھ کر لیٹ جاتااور اصغر کے بارے میں سوچتا رہتادوسری طرف بانو اب جوان ہو چکی تھی اس کی شادی کی عمر گزرتی جا رہی تھی ان سب پریشانیوں میں گھرا حاکو ہنسنا مسکرانا بھول چکا تھا،ساری جمع پونجی اصغر کی تلاش میں پیروں فقیروں پر نچھاور ہو چکی تھی اب ان کی متاع کل وہ دس بکریاں تھیں یا پھر بانوگاؤں کے کھیتوں میں سے کپاس چن کر لاتی اور گھر کا چولہا جلتا۔بظاہرتو وہ دونوں بہن بھائی خوش تھے مگر اصغر کا غم اندر ہی اندر سے انہیں کھائے جا رہا تھا۔بانو اگرچہ عمر میں چھوٹی تھی مگر معاملہ فہم تھی، ایک دن کہنے لگی بھائی جان کیوں نہ ہم لاہور چلیں اور اصغر کو ڈھونڈ کر لائیں ۔حاکو نے اپنی آدھی بکریاں بیچ دیں اور آدھی اپنے چچا کے ذمہ لگا کر بانو کو ساتھ لیئے انجانے شہر کی طرف روانہ ہو گیا۔سوائے بانو کی ایک سہیلی کے بھائی کے لاہور میں ان کے پاس کوئی سہارا نہ تھاودہ لاری اڈے پر اترے تو ساجد ان کو لینے کے لیئے وہاں موجود تھا وہ انہیں گھر لے گیا ۔تین دن تلاش کے بعد حاکو بڑا پریشان تھا کہ رات کو ساجد آیا اور اس نے بانو کو بتایا آپ میرے لیئے میری بہن شازیہ ہی ہو فکر نہ کرو مجھے کچھ پتا چلا ہے کل انشاء اللہ ہم اصغر کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔حاکو چونکہ رات کو جلدی سونے اور صبح جلدی اٹھنے کا عادی تھا اگلے دن ساجد ان دونوں کو لیکر مال روڈ پر واقع ایک بڑے سے گھر میں لے گیا،ساجد کے ایک دوست نے اسے بتایا کہ جس شخص کا تم ذکر کر رہے ہو وہ یہی لگتا ہے جب وہ تینوں اس گھر میں داخل ہوئے تو سامنے لان میں ایک آدمی خوبصورت لباس میں ملبوس ایک تین سال کے بچے کے ساتھ کھیل کود میں مگن دکھائی دیا، بانو نے اس کو فوراًپہچان لیا اور اس کا دل زور زور سے ڈھڑکنے لگا جب وہ قریب پہنچے تومعلوم ہوا کہ وہ اصغر ہی تھا ۔سلام دعا ہوئی ساجد نے انہیں اس کے حوالے کیا اور اجازت طلب کی،اصغر انہیں ایک کمرے میں لے گیا،حاکو نے کہا کہ یار تو اتنا ناراض ہو گیا کہ واپسی کا راستہ ہی بھول گیا وہ باتیں کرتے رہے مگر بانو بھانپ گئی تھی کہ اصغر اب ہمارا نہیں رہا تھوڑی دیر بعد اصغر کی بیوی آئی تو اس کے غصے اور تلخ لہجے سے بانو کا شک یقین میں بدل گیا ۔اصغر کی بیوی ایک بیوروکریٹ تھی دوران تعلیم ہی اصغر سے اس کی لومیرج ہو گئی تھی اور ان کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ اصغر اپنے گاؤں کے لوگوں کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں رکھے گا۔حاکو یہ کہہ کر وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا کہ ہم تو تمہیں بڑا آدمی بنے دیکھنا چاہتے تھے وہ دیکھ لیا اللہ آپکو اور خوشیاں دے۔بانو اپنے بھتیجے کو گود میں اٹھانا چاہتی تھی مگر اصغر کی بیوی اسے انگلی سے لگائے دوسرے کمرے میں چلی گئی اصغر نے بھی انہیں کہا کہ اب ہمارے دفتر جانے کا وقت ہو گیا ہے آپ لوگ اب جا سکتے ہیں یہ الفاظ ان پر پتھروں کی طرح برس رہے تھے وہ وہاں سے اٹھے دروازے سے باہر نکلے سڑک پر پریشان کھڑے تھے کہ اب کدھر جائیں،اصغر اور اس کی بیوی گاڑی میں سوار ان کے پاس سے گزر گئے اور وہ دیر تلک ان کی گاڑی کو دیکھتے رہ گئے اچانک ایک کونے سے ساجد نمودار ہوا اور کہنے لگا مجھے آغاز میں ہی سمجھ آگئی تھی اس لیئے میں اجازت لے کر باہر آگیا تھا آپ لوگوں کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔حاکو نے کہا یار ہمیں لاری اڈے پر چھوڑ دو ہم گاؤں واپس جانا چاہتے ہیں ،مگر ساجد انہیں گھر لے آیا ساری رات وہ اس بات پر فکر مند رہے کہ خون اسقدر بھی سفید ہو سکتا ہے۔گاؤں واپس آنے پر حاکو کی تو جیسے دنیا ہی ویران ہو گئی چچا نے ایک ایکڑ زمین جو حاکو کا والد ان کے لیئے چھوڑ کر گیا تھا،اس پر قبضہ کر لیا تھا اور انہیں بتایا کہ اصغر ہم سے زمین کے پیسے لے کر گیا تھا ہم نے آپ سے نہیں مانگے اب جب پتا چلا کہ وہ تو تم لوگوں کو بھی پہچاننے سے انکاری ہے تو ہمیں اپنے پیسے ڈوبنے کا ڈر ہے لہذا جب تک آپ پیسے نہیں دیتے یہ زمین ہمارے قبضے میں رہے گی،حاکو کے پاس سوائے خاموشی کے اور کوئی چارہ

نہ تھا۔حاکو نے اپنی پانچ بکریاں لی اور بانو کو ساتھ لے کر گھر آگیا ان کے پاس اب ان بانچ بکریوں کے سواء کچھ نہ تھا ۔ایک دن حاکو دریا کنارے بکریاں چرا رہا تھا کہ ایک شخص دوڑتے ہوئے اس کے قریب آیا اسے بتایا کہ میرے پیچھے پولیس لگی ہے میں یہاں چھپنے لگا ہوں پولیس کو مت بتانا،پولیس جب آئی تو اس سے پوچھا مگر حاکو خاموش رہا پولیس آگے بڑھ گئی وہ شخص نجانے کہاں چلا گیا حاکو اپنی بکریوں کو لے کر گھر آ گیا۔حاکو اور بانو کے وہم و گمان میں ہی نہ تھا کہ رات کے پچھلے پہر پولیس آ کر حاکو کو لے جائے گی اور وہ بھی ایسے جرم میں جو اس نے کیا ہی نہیں۔بانو کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا سوائے چچا کے دروازے پر دستک دینے کے جب وہاں سے مایوسی ہوئی تو بانو تھانے پہنچ گئی اس بیچاری کو تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کس سے بات کرنی ہے اور کیا بات کرنی ہے اچانک اس کا سامنا انور سے ہوا جس کو وکیل کے یونیفارم میں دیکھ کر وہ سمجھی کہ یہ بڑے صاحب ہی ہوں گے،بانو قریب گئی آہستہ سے بولی صاحب میرا حاکو بے قصور ہے،ہم بہت غریب ہیں ،میرا حاکو کے علاوہ اس دنیا میں کوئی نہیں۔انور نے اسے ساتھ لیا ایس ایچ او کے کمرے میں گیا اس سے تفصیل سے بات کی حاکو سے ملوایا اور تسلی دی کہ ہم عدالت سے ضمانت کروا لیں گے،فکر کی کوئی ضرورت نہیں،یہ کل آپ کو عدالت میں پیش کریں گے میں وہاں آ جاؤں گا،یہ کہہ کر انور باہر نکلا تو بانو اس کے پیچھے آگئی اور کہا صاحب مجھے بھی وہاں چھوڑ دیں جہاں حاکو کو ضمانت ملنی ہے تاکہ میں اپنے بھائی کو ساتھ لے کر گھر جاؤں۔انور بانو کو اپنے گھر لے آیا بانو کے پاس اب انور پر بھروسہ کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہ تھا ،ہفتہ اور اتوار کی چھٹی کی وجہ سے انور گھر پر رہا،بانو نے پورے گھر کی صفائیاں کی یوں لگتا تھا جیسے یہ گھر نہیں کوئی کچرے کا ڈھیر ہو،بانو جو اب انور سے مانوس ہو چکی تھی کہا صاحب جی لگتا ہے آپ نے کبھی گھر کی صفائی نہیں کی،انور نے بتایا کہ میں سارا دن باہر ہوتا ہوں رات کو تھکا ہارا واپس آتا ہوں اور سو جاتا ہوں،بیوی کو روٹھے سال ہو گیا کبھی توجہ ہی نہیں دی۔شام کو انور باہر سے آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک بیگ تھا اس نے بانو کو تھماتے ہوئے کہا یہ تمہارے لیئے کچھ کپڑے ہیں ،بانو پہلی دفعہ اتنے شاندارلباس میں شیشے کے سامنے گیلے بالوں کے ساتھ کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی اسے معلوم ہی نہ تھا کہ وہ اس قدر خوبصورت ہے،اچانک انور نے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا بس اس دن سے چھ ماہ تک پھر یہ سلسلہ جارہی رہا۔ ہر بار وہ انور سے کہتی حاکو کی ضمانت تو ہو جائے گی نا اور ہر دفعہ انور اسے اگلی تاریخ سنا دیتا مگر آج نجانے کیوں اس کا دل کہہ رہا تھا کہ حاکو کی ضمانت ہو جائے گی۔دروازے پر گھنٹی کی آواز آئی تو بانو دوڑتے ہوئے دروازے کی جانب گئی دروازہ کھولتے ہی اس کے حلق سے زور دار چیخ نکلی اور بے ساختہ بولی حاکو تو آگیا اور کئی ماہ سے بند آنسو اس کے گالوں پر جاری ہو گئے اس نے حاکو کو گلے لگایا حاکو نے دلاسہ دیتے ہوئے کہا پگلی رو مت ابھی تیرا بھائی زندہ ہے ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا بانو گلے تو بھائی کے لگی تھی مگر اس کی نظریں انور پر جمی تھی ہچکیاں لیتے ہوئے بولی نہیں حاکو اب اپنے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔ بانو بھائی کا ہاتھ تھامے وہاں سے اپنے گھر روانہ ہو گئی اور جاتے ہوئے یہ سوچتی رہی ہے کہ اس معاشرے میں انصاف کس قدر سستا ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*