تازہ ترین
outline

مجھے بھی چُک پڑی پڑی ہوئی ہے،پرویز مشرف واپس آئیں تو کمر درد کا علاج کروائیں گے ،چیف جسٹس

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے آئین شکنی کے مرتکب ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو وطن واپس آکر عدالتوں کا سامنا کرنے کے لیئے سکیورٹی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف کو کمر کی تکلیف ہے تو وطن واپسی پر ان کا علاج کروایا جا سکتا ہے

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے قومی مفاہمتی آرڈیننس ( این آر او) کیس میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی واپسی کے معاملے پر سماعت کا آغاز کیا تو پرویز مشرف پیش نہ ہوئے

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ‘یہ نہیں ہوسکتا پرویز مشرف اعلیٰ عدلیہ کے بلانے پر نہ آئیں، ایسا نہ ہو کہ ان حالات میں آنا پڑے جو عزت دارانہ طریقہ نہ ہو۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا ‘اتنا جید، بہادر کمانڈو عدالتوں کا سامنا کرنے سے کیوں گھبراتا ہے، وہ باہر بیٹھے رہیں گے تو ہم ریڈ وارنٹ جاری کرتے رہیں گے’۔

سابق صدر کے وکیل اختر شاہ نے عدالت کو بتایا کہ 27 ستمبر کو میں نے پرویز مشرف سے بات کی ہے اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آئیں گے۔

وکیل نے کہا کہ پرویز مشرف کو سنجیدہ نوعیت کی بیماری ہے، انہیں طبی اور سیکیورٹی مسائل ہیں، لال مسجد کیس میں انہیں سیکیورٹی کے لیےکہا گیا ہے اور اس کیس میں ان پر کوئی الزام نہیں اور نہ ہی کوئی فرد جرم لگائی گئی ۔

چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ‘میں نے آپ سےکہا تھا کوئی پرویز مشرف کو گرفتار نہیں کرےگا، وہ خصوصی عدالت میں بغاوت کے مقدمے میں بیان ریکارڈ کرائیں۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا پرویز مشرف کی کمر درد کے مسائل ہیں تو علاج کرائیں گے، مجھے بھی چُک پڑی ہوئی ہے اور چُک کے علاج کا بہترین انتظام ہم نے کر رکھا ہے۔

بعد ازاں چیف جسٹس نے سابق صدر پرویز مشرف کی وطن واپسی پر انہیں کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیدیا

عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ ‘سپریم کورٹ میں این آر او کیس میں پیشی سے قبل پرویز مشرف کو کسی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے اور وہ جس ایئر پورٹ پر اتریں انہیں رینجرز کی سیکیورٹی فراہم کی جائے’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*