outline

گاڑی روک کرپوچھا،منشیات کہاں ہے؟رانا ثنااللہ نےہیروئن سے بھرا سوٹ کیس نکال کردیدیا

مسلم لیگ (ن)کے صوبائی صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنااللہ کو 14 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے

اینٹی نارکوٹکس فورس نے انہیں منگل کے روز کڑی سکیورٹی میں ضلع کچہری لیکر آئی اور جوڈیشل مجسٹریٹ احمد وقاص کے روبرو پیش کیا-

دوران سماعت اے این ایف حکام نے رانا ثناللہ سمیت ٦ ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی مگر عدالت نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے رانا ثنااللہ ، اکرم، عمر فاروق، عامر رستم، عثمان احمد اور سبطین خان کو14 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیدیا

احاطہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اپنی گرفتاری کو ظلم اور موجودہ حکومت کو ظالم قرار دے دیا-انہوں نے کہا کہ یہ ظلم ہے ،ظالم کی حکومت کیسے قائم رہ سکتی ہے ،یہ خدا کا فیصلہ ہے

ادھر رانا ثناللہ کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں -اے این ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر عزیز اللہ کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق مخبری پر ان کی ٹیم نے رانا ثنا اللہ کی لینڈ کروزر کو لاہور کے نزدیک موٹروے پر روکا اورپوچھا کہ رانا ثنااللہ کہاں ہے؟رانا ثنااللہ نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہے رانا ثنااللہ-

ایف آئی آر کے مطابق اے این ایف حکام نے منشیات سے متعلق پوچھا تو رانا ثناللہ نے منشیات کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے نیلے رنگ کا ایک سوٹ کیس نکال کر دیا جس میں 15 کلو گرام کی ہیروئن برآمد ہوئی جس میں سے 20 گرام ہیروئن کو بطور نمونہ کیمیائی تجزیہ کے لیے بھیج دیا گیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*