تازہ ترین
outline

ترکی پاکستان کے نقش قدم پر ۔۔۔۔؟

واشنگٹن (آئوٹ لائن ڈیسک )ترکی کی پاکستان سے مماثلت اور مشابہت بڑھتی جا رہی ہے اور اگر طیب اردوان کی پالیسیوں کا تسلسل جاری رہا تو بہت جلد ترکی بھی ایک “نیا پاکستان “ بن جائے گا ،یہ پیش گوئی کی ہے امریکہ کے ایک معروف میڈیا ہائوس “بلوم برگ “ نے

امریکی میڈیا ہائوس کے کالم نگار ایلی لیک نے لکھا ہے کہ ترک صدر طیب اردوان نے پرامن مظاہروں کو طاقت سے کچل دیا ،اخبارات پر پابندیاں عائد کر دیں ،کردوں کو قربانی کا بکرا بنایا مگر اب تو وہ اس حد تک گر گئے کہ ایک چھ سالہ بچی کو جلسہ گاہ میں فوجی لباس پہنا کر اسٹیج پر لایا گیا اور اس سے کہلوایا گیا کہ اگر وہ شہید ہو گئی تو یہ بڑے فخر کی بات ہو گی

امریکی کالم نگار نے لکھا ہے کہ اس موقع پر طیب اردوان ایک دہشتگرد کے روپ میں دکھائی دیئے -اگرچہ طیب اردوان نیٹو اتحادی ہیں مگر ان کا یہ عمل حزب اللہ اور حماس جیسا تھا

اس کالم میں کہا گیا ہے کہ ترکی پاکستان لگنے لگا ہے جہاں فوجی قیادت نے امریکہ اور مغربی ممالک کے خلاف نفرت کرنے والے سیاسی اسلام کو پروان چڑھایا ہے اگرچہ ترکی ابھی اس نہج پر نہیں پہنچا ،اس کی معشیت مضبوط ہے ،اس کے بنکوں کی ساکھ اچھی ہے ،ترکوں کی اکثریت یورپی یونین میں شامل ہونا چاہتی ہے لیکن ترکی کے پاکستان بننے کے امکانات موجود ہیں

امریکی کالم نگار نے بطور دلیل امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کا حوالہ دیا ہے جو کہتے ہیں کہ وطن پرستی کو مذہب سے جوڑنے والے طیب اردوان پاکستان کے ڈکٹیٹر جنرل ضیا الحق سے مشابہت رکھتے ہیں

کالم نگار نے امریکہ کے ترکی میں سابق سفیر سے گفتگو کا حوالہ بھی دیا ہے جو کہتے ہیں کہ ترکی پاکستان نہیں ہے لیکن طیب اردوان نے اسے جس راستے پر ڈال دیا ہے اگر اسی پر چلتا رہا تو اس کے پاکستان بننے کے امکانات بہت روشن ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*