outline
bohra girls khatna

کراچی کی بوہرہ کمیونٹی کے ہاں لڑکیوں کے بھی ختنے ہوتے ہیں مگر کیوں ؟

کراچی کی بوہرہ برادری بھی خود کو مسلمان ہی سمجھتی ہے اوران کا تعلق اہل تشیع کے ایک مسلک سے ہے ،بوہرہ برادری کے مذہبی نظریات اور مسلکی خیالات جو بھی ہوں مگر ان دنوں بوہرہ برادری اس وجہ سے خبروں کی زد میں ہے کہ ان کے ہاں نسل در نسل لڑکیوں کے ختنے کیئے جا رہے ہیں مگر اب نوجوان نسل لڑکیوں کے ختنے کرنے کی روائیت سے باغی ہو رہی ہے

لڑکوں کے ختنے تو مسلمانوں کے ہاں اچنبھے کی بات نہیں مگر لڑکیوں کے ختنے واقعی ایسی بات ہے کہ لوگ چونک جاتے ہیں مگر بوہرہ برادری جس کا قبلہ ممبئی ہے اور کراچی میں اس برادری سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ 35000 افراد موجود ہیں ،ان کے ہاں لڑکیوں کا بھی ختنہ کیا جاتا ہے ،یہ لوگ لڑکیوں کے ختنے کیوں کرتے ہیں اور اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟ بوہرہ برادری کے مذہبی عمائدین کے خیال میں لڑکیوں کے ختنوں کی روایت اسلامی شریعت سے ڈھونڈی جا سکتی ہے اور وہ اس حوالے سے بعض ایسے واقعات کو بھی بطور تمثیل پیش کرتے ہیں جو متنازعہ ہیں اور مسلمانوں کی اکثریت انہیں درست تسلیم نہیں کرتی۔لڑکیوں کے ختنے کیئے اس لیئے جاتے ہیں کہ وہ شادی سے پہلے جنسی آوارگی کا شکار نہ ہوں اور ان کی جنسی تسکین یا تلذز کی شدت کم ہو جائے

bohra women

بوہرہ برادری سے تعلق رکھنے والی خاتون لینا خند والا جن کی عمر 44 برس ہے اور وہ کراچی اور نیو جرسی میں زیادہ وقت گزارتی ہیں ،انہوں نے اس حوالے سے کھل کر بات کی اور بتایا کہ ختنے معاشرتی جبر کا حصہ ہیں اور ایسا نہیں ہونا چاہئے انہوں نے ختنے کا تلخ تجربہ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ اس خوفناک دن کو یاد کرتے ہوئے وہ آج بھی کانپ اٹھتی ہیں ایک دن انہیں پکڑ کر شلوار اتاری دی گئی اور کسی خاتون نے تیز دھار آلے سے زبردستی ختنے کر دیئے

لڑکیوں کے ختنے کرنے کا انکشاف پہلی بات تب ہوا جب پاکستانی نژاد امریکی لکھاری ماریہ کریم جی نے اس تلخ تجربے کے بارے میں لکھا -بوہرہ برادری سے تعلق رکھنے والی ایک اور لڑکی مریم سیفی نے برطانوی اخبار “گارڈین “ ،میں اس حوالے سے اپنی کہانی بیان کی -آسٹریلیا میں ایک عدالت بوہرہ برادری سے تعلق رکھنے والی مڈ وائف کو لڑکیوں کے زبردستی ختنے کرنے پر 15 ماہ قید کی سزا بھی دے چکی ہے اسی طرح 2017 میں ایک امریکی عدالت میں بھی باہرہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والےڈاکٹر پر انہی الزامات کے تحت کارروائی کی -شعور عام ہونے کے باعث اب نوجوان نسل لڑکیوں کے ختنوں کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے اور لوگ ان موضوعات پر بات کر رہے ہیں جنہیں پہلے ممنوعہ موضاعات تصور کیا جاتا تھا

تبصرے “ 1 ”

  1. اس سے بڑا ظلم کیا ہوسکتاہے اس ظلم کے خلاف ھم اواز اٹھایینگے سوسایٹی براے تحفظ انسانی حقوق

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*