تازہ ترین
outline

رمضان اور شیطان-خورشید ندیم

معاشرے میں خیر کم نہیں ہے۔ یہ خیر مگر کسی مربوط سماجی تبدیلی کو جنم نہیں دے رہا۔ جیسے اقوالِ زریں کا ایک مجموعہ، جس سے کسی مرتب فکر کا استخراج مشکل ہو جائے۔

رمضان کے دنوں میں یہ احساس بڑھ جاتا ہے۔ ایسے ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ وفورِ جذبات سے دل کی دھڑکن سنبھل نہیں پاتی۔ افطار کے وقت، سڑک کے کنارے وسیع دستر خوان بچھ جاتے ہیں۔ سلیقے سے سجے اور اشیائے طعام کی کثرت کے ساتھ۔ کئی جگہ بینر دکھائی دیتے ہیں: ”یہاں مفت راشن تقسیم ہوتا ہے‘‘۔ کل ہی افطار سے ذرا پہلے، ایک ٹریفک اشارے پر رکا تو دیکھا کہ چند نوجوان شربت کے ظروف اور کھجوریں لیے کھڑے تھے۔ مسافر اگر منزل تک نہ پہنچ پائیں تو بروقت افطار کر سکیں۔ اس پر مستزاد مساجد کی رونق۔

یہ مناظر یادداشت کا حصہ بنتے ہیں تو ایک سوال میں ڈھل جاتے ہیں: یکم شوال کے بعد، یہ خیر کہاں جاتا ہے؟ یہ سماجی تبدیلی کے کسی مرتب عمل کی صورت میں کیوں ظہور نہیں کرتا؟ رمضان کے شب بیدار، باقی کے گیارہ مہینے، کیا سو کر گزارتے ہیں؟ باقی دنوں میں شر کیوں غالب رہتا ہے؟ کیا یہ سب اُن شیاطین کی وجہ سے ہے جنہیں رمضان میں باندھا اور پھر کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے؟ کیا انہیں سال بھر زنجیروں میں نہیں جکڑا جا سکتا؟

آخری سوال کا جواب تو یہ ہے کہ خیر کے غلبے کے باوجود، رمضان میں جرائم ختم نہیں ہوتے۔ اس بات کا، اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ اعتکاف بیٹھنے کے مسئلے پر، بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا۔ قتل اور وہ بھی سگے بھائی کا؟ اگر ایسا سنگین جرم رمضان میں ہو سکتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خیر و شر کا کوئی اور مرکز بھی ہے اور وہ انسانی وجود کے اندر ہے۔ یہ کوئی داخلی قوت ہے جو مجھے خیر کی طرف مائل کرتی ہے یا شر کی طرف۔ باہر کے شیطان تو بند ہو جاتے ہیں مگر اندر کا شیطان بارہ مہینے آزاد رہتا ہے۔

میرا مسئلہ شر کا ہونا نہیں، خیر کا وہ غلبہ ہے جس کے مظاہر رمضان میں کثرت سے دکھائی دیتے ہیں مگر باقی دنوں میں انہیں ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ دوسرے مہینوں میں خیر کا باب بند ہو جاتا ہے۔ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ خیر بھی اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے‘ مگر چپکے چپکے۔ رمضان میں جو بنا کوشش دکھائی دیتا ہے، دوسرے مہینوں میں کوشش سے تلاش کرنا پڑتا ہے۔

میرا کہنا ہے کہ اس کا تعلق ایک فکری کجی سے ہے۔ رمضان میں یا باقی دنوں میں ہم خیر کے جو مظاہر دیکھتے ہیں، وہ انسان کی فطرت کا ظہور ہے۔ وہ فطرت جو خیر کا ایک بڑا مرکز ہے۔ فطرت کو اظہار سے نہیں روکا جا سکتا۔ بارش کی بوندیں پڑیں تو مٹی مہک اٹھتی ہے۔ یہ اس کی فطرت ہے جسے پابند نہیں کیا جا سکتا۔ گلاب کھل جائے تو خوشبو بکھیرنا، اس کی فطری مجبوری ہے‘ جسے قید نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح معاشرے میں خیر و شر کے واقعات کا ظہور انسان کی فطرت کا اظہار ہے۔

انسان کے فطری مطالبات، دیگر مخلوقات سے سوا ہیں۔ ان میں سے ایک، سماج کی تشکیل بھی ہے۔ انفرادی خیر کو ایک اجتماعی نظام میں ڈھالنا بھی انسان کی فطرت کا تقاضا ہے۔ سماج کو اپنی مضبوطی کے لیے ایک نظامِ اقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں انسان ایک ایسا سماجی نظام تشکیل دینے میں کامیاب ہے جو اس کی فطری ساخت سے ہم آہنگ ہے، وہاں فرد ایک خود کار طریقے سے اس نظام کے ایک پرزے کی طرح کام کرتا ہے۔ وہ غیر محسوس طریقے سے ایک نظامِ اقدار کا پابند ہوتا ہے مگر اس میں کوئی احساسِ جبر پیدا نہیں ہوتا۔ پھر رمضان ہو یا شوال، اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایسے معاشرے سیاسی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔

مغرب کا معاشرہ اس کی ایک مثال ہے۔ وہاں ایک نظامِ اقدار پر اجماع ہو چکا۔ مثال کے طور انسان کی فکری و سماجی آزادی ایک قدر ہے جس پر اتفاق ہے۔ علم و تحقیق کا ایک کلچر ہے جس کی حیثیت ایک سماجی قدر کی ہے۔ اُس معاشرے میں اگر کوئی سیاسی تبدیلی آتی ہے تو وہ معاشرتی نظام کو جوہری طور پر متاثر نہیں کرتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سماج بطور ادارہ ریاست سے الگ منظم ہے اور اس کی بقا کی اساسات بالکل الگ ہیں۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی تجسیم، جس سماجی نظام کی عطا تھی، ہم اسے برقرار نہیں رکھ سکے۔ پاکستان ایک ریاست ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ایک سیاسی وجود کا نام ہے۔ ہم نے اسے تہذیبی اور سماجی تجسیم سمجھا‘ جو یہ نہیں تھا۔ اب ہم نے اس کی مصنوعی تہذیبی بنیادیں کھڑی کرنے کی کوشش کی۔ اس سے ان تہذیبی مظاہر سے ایک تصادم کی کیفیت پیدا ہوئی جو پہلے سے موجود تھیں۔

ہونا یہ چاہیے تھا کہ پاکستان کو ایک ملک سمجھتے ہوئے، ریاست پاکستان کو ایک نئی تہذیب کی تشکیل کا وظیفہ نہ سونپا جاتا۔ اسے ان کاموں تک ہی محدود رکھا جاتا جن کا تعلق ریاست سے ہے۔ یہ کام معلوم ہیں جیسے ریاستی اداروں کی تشکیل۔ تہذیبی اور سماجی اقدار کو ان کے فطری بہاؤ کے حوالے کر دیا جاتا جن کا تعلق سماج سے ہے، نہ کہ ریاست سے۔ یوں وہ نظامِ اقدار فروغ پاتا جو یہاں کی سماجی تاریخ اور جغرافیے سے ہم آہنگ ہوتا۔ اس میں اگر ارتقا آتا تو وہ بھی فطری طریقے سے۔

جب ہم سماج کو ریاست سے الگ کرتے ہوئے، ایک نظامِ اقدار پر کھڑا کرتے ہیں تو سماجی رویوں میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور تسلسل بھی۔ پھر کیلنڈر کی تبدیلی سماجی رویوں کے تسلسل پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ یہ درست ہے کہ انسان بھول جاتا ہے اور بعض اوقات اسے بڑے پیمانے پر یاد دہانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ رمضان بھی ہمارے لیے یاد دہانی کا ذریعہ ہے، کسی نئے رویے کی تشکیل کا نہیں۔ ہم تو رمضان کی بات رمضان تک رکھتے ہیں۔ شوال میں داخل ہوتے ہیں تو ایک نئی شناخت کے ساتھ۔ محض عبادت کو دیکھیے تو فرض نماز کا تعلق رمضان سے نہیں ہے۔ ہم نے اسے رمضان کے وظائف کا حصہ بنا دیا ہے۔
ہم اگر چاہتے ہیں کہ رمضان میں ظاہر ہونے والا خیر سال بھر ہمارے رویوں کا حصہ ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم سماج کو ریاست سے جدا ایک وجود تسلیم کریں۔ اس کے ساتھ یہ بھی سمجھیں کہ سماجی تشکیل اور ترقی کے مطالبات سیاسی تشکیل و ترقی سے مختلف ہیں۔ مذہب کو میرے نزدیک سماجی تشکیل کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ اس طرح یہ میرے سماجی اور تہذیبی رویے کی تشکیل میں ایک محرک کا کردار ادا کر ے گا۔ جب ہم نے ریاست اور سماج کو ایک سمجھا اور سماج کے وظائف ریاست کے حوالے کر دیے تو اس سے وہ سماجی پراگندگی پیدا ہوئی جس سے مذہب میرے لیے سیاسی شناخت کا مسئلہ بن گیا، میری اخلاقی تعمیر کا محرک نہیں رہا۔

آج مذہب میرے لیے خاص ایام منانے کا نام ہے۔ یہ میرے سیاسی تشخص کا مسئلہ ہے۔ یہ میرے گروہی مفادات کا پاسبان ہے۔ اگر نہیں ہے تو میری اخلاقی تعمیر میں حصہ دار نہیں ہے۔ اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ میں نے اسے ایک تہذیبی اساس کے طور پر قبول نہیں کیا۔ جب تہذیب کی تشکیل ایک سیاسی مسئلہ بنی تو مذہب اور دیگر علاقائی تہذیبی شناختوں کو میں نے سیاست کی نظر سے دیکھا۔ یہاں اسلام اور پنجابی، یا سندھی کلچر کے نام پر لوگوں نے سیاسی جماعتیں قائم کر لیں۔ مذہب کے نام پر سیاست ہونے لگی یا پھر علاقائی یا سماجی شناخت کے نام پر۔

ہمیں اگر آگے بڑھنا ہے تو ساری توانائیاں سماجی تشکیل پر صرف کرنا ہوں گی۔ اگر ہم شخصی آزادی، اخلاقی اقدار اور علمی تحقیق کی روایت کو آگے بڑھا سکیں اور ان کی بنیاد پر ایک سماج تشکیل دے سکیں تو ہمارا اخلاقی وجود کیلنڈر کا پابند نہیں رہے گا۔ مذہب کے باب میں اقبال بھی یہی کہنا چاہتے تھے

یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، لا الٰہ الّااللہ

بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*