تازہ ترین
outline

کیویں ساکوں یاد نہ رہسی اوندے گھر دا رستہ-خالد مسعود خان

کیکڑا ون والی ڈرلنگ سے تو تیل نہیں نکلا‘مگر اس دوران بہرحال عوام کا تیل ضرور نکل آیا ہے۔ لیکن کیکڑا ون اور عوام سے قطع نظر اگر فی الوقت کسی اور کا تیل نکل رہا ہے تو وہ کئی ادارے ہیں۔ ویسے تو ملک عزیز میں سبھی اداروں کا تیل نکل چکا ہے اور رہا سہا نکل رہا ہے مگر کچھ پر تو خصوصی نظر کرم ہے۔ احتسابی ادارے پر سبھی متاثرین یعنی ملزمان کی خاص عنایت ہے اور سبھی اس پر الفاظ کے کوڑے برسا رہے ہیں؛ تاہم سبھی متاثرین اجتماعی طور پر اس ادارے کے سربراہ کے بارے میں ابھی تک حسنِ ظن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ فی الحال نامعلوم ہے‘ لیکن دوسری طرف سوشل میڈیا کے ذریعے عوام الناس تک پہنچنے والے وڈیو کلپ کے بارے میں مکمل خاموشی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ جن کو معلوم ہے وہ بتا نہیں رہے اور جن کی روایات مشکوک ہیں وہ وجوہات بیان کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جب تک ان کلپس کا فرانزک معائنہ نہ ہو جائے یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے لیکن فرانزک معائنہ ہو گا یا نہیں؟ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔سو ابھی تک ادھر سے مکمل خاموشی ہے۔

یہ سازش تھی یا کچھ اور۔ اس بارے میں بھی وہی حال ہے کہ جنہیں علم ہے وہ خاموش ہیں اور جنہیں ٹکے کا پتا نہیں وہ ایک سے ایک دور کی کوڑی لا رہے ہیں۔ اس وڈیو کلپ بارے کچھ لکھنا اور نہ لکھنا برابر ہے کہ اب یہ فون در فون چلتا ہوا ہر اس شخص تک پہنچ چکا ہے جو سمارٹ فون کا مالک ہے اور واٹس ایپ استعمال کرتا ہے۔

ہمارے عوام بڑے مزے کے ہیں۔ ایک شوشہ مل جائے تو اس دوران باقی سارے غم بھول جاتے ہیں۔ چوہدری بھکن ایسے میں عجیب و غریب منطق بگھارنا شروع کر دیتا ہے۔ کل صبح ملا تو کہنے لگا: جیسے جیسے بعض اداروں کی پوزیشن کمزور ہو رہی ہے‘ ڈالر بھی کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ میں نے پوچھا: چودھری! دونوں کی آپس میں کیا نسبت ہے؟ تو وہ کہنے لگا کہ اب ہر بات میں نے ہی بتانی ہے تو پھر تم خود کس مرض کی دوا ہو؟ کوئی کام خود بھی کر لیا کرو۔ میرا کام ایک حقیقت کی نشاندہی کرنا تھا‘ ثبوت فراہم کرنا نہیں تھا۔ پھر کہنے لگا: ہمارا آئین بھی مزے کی چیز ہے۔ میں نے کہا: چوہدری آئین کے خلاف بات کرنا بھی ایک غیر آئینی فعل ہے۔ چوہدری ہنسا اور کہنے لگا: میں آئین کے خلاف کچھ نہیں کہہ رہا۔ میں تو کہہ رہا ہوں؛ ہمارا آئین مزے کی چیز ہے۔ اب بھلا آئین کو مزے کی چیز کہنا کیسے غیر آئینی ہو سکتا ہے؟ مزے کی چیز اس طرح ہے کہ جب بھی کسی آئینی پیچیدگی اور غیر معمولی صورتحال پیش آتی ہے‘ پتا چلتا ہے کہ ہمارا آئین اس بارے میں خاموش ہے اور اس کی تشریح کے لیے مجبوراً اعلیٰ عدالتوں کے پاس جانا پڑتا ہے۔ یہی صورتحال اس وقت درپیش ہے۔ کسی کو پتا نہیں کہ کسی ادارے کے سربراہ کو قبل از وقت رخصت کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ آئین ایسی ”گھڑمس‘‘ والی صورتحال میں حسبِ معمول خاموش ہے اور ہاتف غیبی کا منتظر بھی۔ میں نے کہا :چوہدری! خیریت ہے۔ نصیبِ دشمناں تم نے ہاتف غیبی جیسے مشکل الفاظ کہاں سے سیکھ لیے ہیں۔ چوہدری ہنس کر کہنے لگا: یہ لفظ میں نے تم جیسے کم علم اور اردو سے بے بہرہ لوگوں کو پریشان کرنے کے لیے کل ہی سیکھا ہے اور اسے گزشتہ ایک دن سے دس بارہ لوگوں کو پریشان کرنے کے لیے استعمال بھی کر چکا ہوں۔ پھر مجھ سے پوچھنے لگا تم کو اس الفاظ کے معنی معلوم ہیں؟ میں نے کہا: چوہدری! اگر میں نے داستانِ امیر حمزہ بچپن میں ہی نہ پڑھ لی ہوتی تو ممکن ہے آج تمہارے سامنے شرمندہ ہو جاتا‘ لیکن بھلا ہو‘ اس داستانِ امیر حمزہ اور عمرو عیار کی فیروز سنز والی سیریز کا۔ اس میں یہ لفظ بارہا استعمال ہوا تھا اور میں اس کا مطلب فیروزاللغات (جیبی) سے معلوم کر لیا تھا۔

خیر بات ہو رہی تھی ایسے معاملات میں آئین کے خاموش ہونے کی۔ تین چار معاملات ایسے دیکھے ہیں کہ جب ضرورت پڑتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ آئین ایسی غیر معمولی اور پہلی بار پیش آنے والی آئینی پیچیدگی کے بارے میں قطعاً خاموش ہے۔ یہی صورتحال فی الوقت آن پڑی ہے اور اس معاملے سے کیسے نمٹا جائے‘ نہ کسی کو سمجھ آ رہی ہے اور نہ ہی آئین رہنمائی فرما رہا ہے۔ کوئی اس کا حل نکالنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کا مشورہ دے رہا ہے اور کوئی سپریم جوڈیشل کونسل میں جانے کی صلاح دے رہا ہے‘ اور کوئی جوڈیشل انکوائری کا راستہ دکھا رہا ہے۔ اگر ایسا کسی مہذب ملک میں ہوتا تو ایسی کسی بھی پریشانی سے دوچار نہ ہونا پڑتا اور استعفیٰ سارے مسائل حل کر دیتا لیکن ہمارے ہاں یہ روایت ابھی ٹھیک طرح سے متعارف بھی نہیں ہو سکی‘ اس پر عمل تو خیر سے دور کی بات ہے۔

چوہدری اچانک ہی بات بدل کر کہنے لگا: بھا جی! یہ دسو کہ وہ تیل والی دریافت کے ساتھ کیا ہوا؟ میں نے کہا: ہونا کیا تھا؟ بس تیل نہیں نکلا۔ ویسے بھی ایسی دریافت بارے نہ تو قبل از وقت کوئی گارنٹی دے سکتا ہے اور نہ ہی حتمی طور پر کچھ کہا جا سکتا ہے۔ میں ایک مشاعرے کے سلسلے میں سعودی عرب گیا۔ مجھے سعودی آرامکو نے دہران اپنی کمپنی کی کلچرل سوسائٹی کے زیر اہتمام مشاعرے میں مدعو کیا تھا۔ مجھے دہران میں آرامکو کی رہائشی کالونی میں جہاں ٹھہرایا گیا وہ Steineke Hall کے نام سے موسوم تھا۔ وہاں مجھے پہلی بار Max Steineke کے نام کا پتا چلا۔ یہ سعودی عرب میں تیل کی دریافت کرنے والی ”کیلیفورنیا عریبین سٹینڈرڈ آئل کمپنی‘‘ (CASOC) کا چیف جیالوجسٹ تھا‘ اور دمام میں پہلی بار کمرشل مقدار میں تیل دریافت کا سارا سہرا اسی کی محنت‘ لگن‘ مستقل مزاجی اور یقین کے سر جاتا ہے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ اس جگہ تیل موجود ہے۔ تیل کی تلاش کی یہ مہم 1936ء میں شروع ہوئی اور پہلے چھ کنویں ناکامی سے دوچار ہوئے۔ کمپنی والے اپنا سامان پیک کر کے واپس جانے پر تلے ہوئے تھے کہ اب وہ مزید اپنے پیسے اس بیکار اور لا حاصل کام میں نہیں ڈبونا چاہتے تھے‘ مگر ”سٹینیکی‘‘ بضد تھا کہ یہاں تیل موجود ہے۔ ساتواں اور آخری کنواں جو بعد ازاں ”دمام نمبر 7‘‘ کے نام سے مشہور ہوا‘ اس کی آخری درخواست کو مد نظر رکھ کر شروع کیا گیا اور بالآخر اس کی یہ مستقل مزاجی رنگ لائی اور 3 مارچ 1938ء کو اس کنویں سے تیل نکل آیا۔ تیل کی تلاش وہ سب کچھ مانگتی ہے جس سے سٹینیکی مالا مال تھا یعنی لگن‘ مستقل مزاجی‘ یقین اور عزم و حوصلہ۔ ہم صرف ایک کنواں کھود کر اور ناکامی پر مایوس ہو گئے ہیں۔

کیکڑا ون کی ناکامی کی دو میں سے کوئی وجہ بھی ہو سکتی ہے۔ پہلی‘ وہاں تیل واقعی نہیں تھا۔ دوسری‘ یا پھر ہمیں یہی بتایا گیا ہے۔ پہلی وجہ بہرحال ناکامی کے سلسلے میں حرف آخر نہیں۔ ہمیں ”دمام نمبر 7‘‘ سے سبق لینا چاہئے۔ نیب اور کیکڑا ون پر لکھنے والوں کی تعداد بھی بہت ہے اور مواد بھی بہت لیکن مجھے یاد آیا کہ سرائیکی شاعری پر لکھے گئے گزشتہ کالم میں سرائیکی کے نہایت عمدہ شاعر رفعت عباس کا نام لکھنے سے رہ گیا تھا‘ حالانکہ کسی کالم میں نام نہ آنے سے کسی شاعر کی شاعرانہ عظمت اور حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا مگر اپنی کوتاہی کا مداوا کرنا میرا اخلاقی فرض ہے۔ اس تلافی مافات کے عوض رفعت عباس کا ایک شعر:

کیویں ساکوں یاد نہ رہسی اوندے گھر دا رستہ
ڈو تاں سارے جنگل آسن، ترائے تے سارے دریا

ترجمہ: ہمیں بھلا اس کے گھر کا راستہ کیسے یاد نہیں رہے گا؟ راہ میں صرف دو تو جنگل آتے ہیں اور محض تین دریا پڑتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*