تازہ ترین
outline
Featured Video Play Icon

جنرل یحیٰ خان کی داشتائوں اور جنسی بے اعتدالیوں کے قصے

پاکستان کے پانچویں سپہ سالار جنرل آغامحمد یحیٰ خان نے 18ستمبر1966ء کو افواج پاکستان کے کمانڈر انچیف کا عہدہ سنبھالا اور پھرسقوط ڈھاکہ کے بعد 20دسمبر1971ء کو مستعفی ہوگئے۔

مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی کے دوران ایک روز ایوان صدر میں ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ہاٹ لائن پر مخاطب خاتون نے نہایت بے تکلفانہ انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا”ڈارلنگ!میں نے کراچی ریڈیو اسٹیشن میں تین گانے ریکارڈ کروائے ہیں،8بجے سننا نہ بھولنا۔“ایوان صدر کی ہاٹ لائن پر مخاطب یہ خاتون ملکہ ترنم نورجہاں تھیں اور ان کے ڈارلنگ کا نام جنرل آغا محمدیحیٰ خان ہے جو افواجِ پاکستان کے پانچویں سپہ سالار اور دوسرے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ہیں۔

۔ سپہ سالار سیریز کی اس قسط میں ہم آغایحیٰ خان کی کاہائے نمایاں پر بات کریں گے لیکن اس دلچسپ واقعہ کی تفصیل بیان کرنے کے بعد۔

جمیل زبیری اپنی کتاب ”یادِخزانہ:ریڈیو پاکستان میں 25سال“ میں بیان کرتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے چند روز قبل میڈم نورجہاں ریڈیو پاکستان پہنچیں اور گانے ریکارڈ کروانے کے بعداسٹیشن ڈائریکٹر طاہر شاہ کے کمرے میں آدھمکیں۔میڈم نے کہا،آغاجی سے بات کراؤ،اسٹیشن منیجر ہچکچایا تو نورجہاں نے کہا،گھبراؤ نہیں تم صرف نمبر ڈائل کرکے مجھے ٹیلیفون مجھے پکڑادو۔حیرانی اور پریشانی کی بات یہ تھی کہ ملکہ ترنم نے ”ڈارلنگ“سے بات کرتے وقت ازخود ہی یہ فیصلہ کرلیا کہ گانے 8بجے نشر ہونگے۔ان دنوں ریڈیو پاکستان پر دن بھر کی اہم ترین خبروں پر مبنی بلیٹن 8بجے نشر ہوتا تھا اور ہنگامی حالات کے پیش نظر اسے ملتوی نہیں کیا جا سکتا تھا۔اسٹیشن منیجر نے ڈی جی سے بات کی اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا،ڈی جی نے ایوان صدر رابطہ کرکے خاصی منت سماجت کے بعد یہ اجازت حاصل کی کہ نیوز بلیٹن نشر ہونے کے فوری بعد گانے نشر کر دیئے جائیں۔ گزشتہ قسط کے دوران ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ آپریشن گرینڈ سلام کے دوران جب افواجِ پاکستان کی اکھنور کی جانب پیشقدمی کا سلسلہ جاری تھا تو اچانک ساتویں ڈویژن کی کمان میجر جنرل اختر حسین ملک سے واپس لیکر میجر جنرل یحیٰ خان کو سونپ دی گئی اور یوں بھارت کو سنبھلنے کا موقع مل گیا۔دوران جنگ گھوڑا تبدیل کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟

جنرل موسیٰ کا موقف یہ ہے کہہ جب وہ محاذ جنگ پر پہنچے تو اختر حسین ملک آپریشن کنٹرول روم میں نہیں تھے اور ان سے رابطہ نہیں ہو پارہا تھا اس لیئے ان سے قیادت واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ جنرل موسیٰ کی یہ بات بہت مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے کیونکہ جب فوجیں پیشقدمی کر رہی ہوں تو کمانڈر ان کیساتھ اگلے مورچوں میں ہوتا ہے اور میجر جنرل اختر حسین ملک یہی کر رہے تھے۔قدرت اللہ شہاب کا خیال ہے کہ اکھنور پر متوقع قبضے کے پیش نظر جنرل موسیٰ سمیت فوجی قیادت کو یہ تشویش لاحق ہوگئی کہ اگر یہ مہم جوئی کامیاب رہی تو جنرل اختر حسین ملک ایک فاتح اور ہیرو کے طور پر اُبھریں گے اور انہیں افواج پاکستان کا سپہ سالار بننے سے نہیں روکا جاسکے۔چونکہ ایوب خان اپنے تئیں یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ جنرل یحیٰ خان کو ہی کمانڈر انچیف بنانا ہے اس لیئے ساتویں ڈویژن کی کمان میجر جنرل اختر حسین ملک سے لیکر میجر جنرل یحٰی خان کو دیدی گئی۔

جنرل موسیٰ نے اپنے جانشین کے طور پر جو تین نام تجویز کیئے ان میں جنرل یحیٰ خان کا نام شامل نہیں تھا۔جنرل موسیٰ کے مطابق انہوں نے مشورہ دیا کہ ذاتی خامیوں کے پیش نظر یحیٰ خان اس منصب کے لیئے موزوں نہیں مگر ایوب خان فیصلہ کر چکے تھے اس لیئے انہوں نے میجر جنرل الطاف قادر اور میجر جنرل بختیاررانا کو سپرسیڈ کرتے ہوئے جنرل یحیٰ خان کو افواج پاکستان کا پانچواں کمانڈر انچیف مقرر کر دیا

لیفٹیننٹ جنرل جہاندا د خان کی کتاب ”پاکستان لیڈر شپ چینلجز“ کی ایک روایت کے مطابق جب یحیٰ خان کو آرمی چیف بنانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں تو نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان نے کہا،اگر ایوب نے بے لگام عیاشی کے دلدادہ یحیٰ خان کو کمانڈر انچیف بنایا تو یہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی حماقت ہوگی۔یحیٰ خان کی تعیناتی سے چند ماہ قبل برطانوی ہائی کمیشن کے ایک خفیہ مراسلے میں بتایا گیا کہ یحیٰ باصلاحیت مگر رنگین مزاج فوجی افسر ہیں۔اسی طرح امریکی محکمہ خارجہ کو بھیجے گئے ایک خفیہ نوٹ میں یحیٰ خان کی شخصیت کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وہ بلا کے مے نوش اور جنسی بے اعتدالی کے حوالے سے مشہور ہیں۔

ایوب خان نے اپنی کتاب ”فرینڈزناٹ ماسٹرز“میں تو اس حوالے سے کچھ نہیں لکھا تاہم ”ایوب خان کی ڈائری“کے عنوان سے جو کتاب شائع ہوئی اس میں یحیٰ خان کی رنگین مزاجی کے کئی قصے بیان کئے گئے ہیں

مثال کے طور پر 13ستمبر1969ء کو ایوب خان لکھتے ہیں ”یحیٰ خان دوپہر ایک بجے ہی دفتری کام چھوڑ چھاڑ کے شراب و شباب میں کھو جاتاہے“12نومبر1969کو لکھی گئی ڈائری میں اپنے اور یحیٰ خان کے مشترکہ معالج کرنل محی الدین کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ”یحیٰ خان کا شراب کے بغیر گذارہ نہیں۔زیادہ وقت محفل آرائی،جام و سبو،محفل ہاہواور جنسی دھماکہ چوکڑی میں گزرتا ہے۔جنرل حمید اور جنرل پیرزادہ شریک محفل ہوتے ہیں اور 2فروری 1971ء کوایرانی وزیر خارجہ کو دی گئی ضیافت کے دوران تو یحیٰ خان المعروف آغامدہوش نے اس قدر پی رکھی تھی کہ بھری محفل میں پینٹ گیلی ہونے کا احساس تک نہ ہوا۔

یحیٰ خان کی آوارگی اور جنسی بے راہ روی کا دائرہ بتدریج پھیلتا چلا گیا اوفوجی افسروں کی بیگمات تک محفوظ نہ رہیں۔نشے میں دھت یحیٰ خان کی ہنگامہ آرائی کا ایک واقعہ میجر جنرل ابوبکر عثمان مٹھا نے بیان کیا ہے جو یحیٰ خان کے ساتھ کوارٹرماسٹر جنرل کے طور پر جی ایچ کیو میں کام کرتے رہے

میجر جنرل ابوبکر عثمان مٹھا کی کتاب ”بمبئی سے جی ایچ کیو تک“میں بیان کیئے گئے واقعہ کے مطابق جنرل یحیٰ خان مشرقی پاکستان کومیلا کینٹ کے علاقے میں انسپکشن کے لیئے پہنچے تو آفیسرز میس میں ان کے لیئے ضیافت کا اہتمام کیا گیا جس میں خواتین بھی مدعو تھیں۔یحیٰ نے کچھ زیادہ ہی پی رکھی تھی۔وہ واہی تباہی بکتے رہے جسے افسروں اور خواتین نے ناپسند کیا۔یحیٰ اُٹھنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور جام پہ جام لنڈھائے جا رہے تھے۔میجر جنرل عثمان ابوبکر مٹھا کی بیوی اندو نے کہا کہ فوجی بینڈ کو میس میں بلایا جائے۔جب بینڈ نے ایک گیت کی دھن بجانا شروع کی تو یحیٰ اُٹھ کھڑے ہوئے اور مٹھا کی بیوی اندو کا ہاتھ پکڑ کر رقص کرنے لگے۔اندو انہیں ڈرائنگ روم میں لی گئیں۔صبح جب شراب کا نشہ اُترا تو اپنے دوست مٹھا اور اس کی بیوی اندو سے معافی مانگی

یحیٰ خان کی راولپنڈی میں رہائشگاہ جو 61ہارلے اسٹریٹ کے نام سے مشہور ہوئی اوران کے کمانڈر انچیف بننے سے پہلے رنگ ونور کی محفلیں سجائے جانے کے لیئے مختص رہی،اس کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ایک بنک نے سیاسی رشوت کے طور پر قرض دیکر نہ صرف یہ بنگلہ بناکر دیا بلکہ تعمیر کے بعدکاغذوں میں اسے کرائے پر حاصل کرلیا البتہ یہ بنگلہ عیاشی کے اڈے کے طور پر یحیٰ خان کے تصرف میں ہی رہا۔

جنرل امراؤ خان اپنی کتاب ”ایک جرنیل کی سرگزشت“میں فوجی فاؤنڈیشن کے چیئرمین بریگیڈئر ایف آر خان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک صبح دفتر جاتے وقت بریگیڈئر فضل الرحمان خان نے یحیٰ خان کو 61ہارلے اسٹریٹ میں شب بسری کے بعد حالت غیر میں باہر نکلتے دیکھا تو انہوں نے یہ کہہ کر نوکری چھوڑ دی کہ میں ایسے لوگوں کی ملازمت نہیں کر سکتا۔

؁ٰسقوط ڈھاکہ کے دوران جنرل یحیٰ خان کی دفاعی و انتظامی اور حکومتی امور کی ادائیگی میں مجرمانہ غفلت اور عیاشانہ طرز زندگی کا معاملہ غیر مصدقہ باتوں تک ہی محدود رہتا اگر حمود الرحمان کمیشن رپورٹ لیک نہ ہوتی۔حکومت پاکستان نے باضابطہ طور پر تو یہ رپورٹ جاری نہیں کی مگر منظر عامہ پر آنے والی جزوی رپورٹ میں بہت شرمناک انکشافات موجود ہیں

جنرل یحیٰ خان کے اے ڈی سی، ملٹری سیکرٹری اور دیگر حکام نے حمود الرحمان کمیشن کو جو شہادتیں ریکارڈ کروائیں اس کے مطابق جنرل یحیٰ خان کی داشتاؤں اور محبوباؤں کی فہرست بہت طویل ہے۔ایوان صدر کے گیٹ پر اینٹری ریکارڈ سے جو معلومات دستیاب ہوئیں اس کے مطابق ان کے پاس 500خواتین کا باقاعدگی سے آناجانا تھا۔اقلیم اختر یحیٰ کے حلقہ ارادت میں آئیں تو جنرل رانی کہلائیں،اداکارہ ترانہ شب بسری کے بعد قومی ترانہ بن پائیں،نغمہ کوقومی نغمہ کا اعزاز حاصل ہوا۔حمود الرحما ن کمیشن کے مطابق مشرقی پاکستان کے آئی جی پولیس کی بیگم شمیم کے این حسین،میڈم نور جہاں،بیگم جونا گڑھ سمیت کئی بڑے گھرانوں کی خواتین شام کو آتیں اور صبح تک شمع محفل بن کر چراغاں کیئے جاتیں۔سر خضر حیات ٹوانہ کی سابقہ بیوی زینب،ریٹائرڈ میجر جنرل لطیف خان کی بیوی زینب،ڈھاکہ کی صنعتکار انورہ بیگم،ڈھاکہ کی دوشیزائیں للی خان اور لیلیٰ مزمل،کراچی کے بزنس مین منصور ہیراجی کی اہلیہ،جونیئر پولیس افسر کی بیوی نازلی بیگم اور جانے کتنی بے نام مُٹیاریں ان کا مزاج درست رکھنے کی خدمت پر مامور تھیں (V/O)
جنرل یحیٰ خان کے حلقہ ارادت میں شامل یہ خواتین کس قدر بااثر تھیں اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان انڈسٹریل کریڈٹ اینڈ انویسٹمنٹ کارپوریشن کے سبربراہ نے نازلی بیگم نے ناز اٹھانے سے انکار کر دیا تو اسے نہ صرف نوکری سے نکال دیا گیا بلکہ ملک سے اہر جانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔بیگم شمیم کے این حسین جو مشرقی پاکستان کے سابق چیف جسٹس کی بیٹی تھیں ان کی نامعلوم خدمات کے عوض انہیں آسٹریا میں سفیر بنا کر بھیج دیا گیا،ان کے شوہر کو سوئٹرزلینڈ میں سفیر بنا کر بھیج دیا گیا جبکہ ان کے 70سالہ ضعیف والد کو نیشنل شپنگ کارپوریشن کا سربراہ لگا دیا گیا

یحیٰ خان کی رنگین مزاجی کا یہ عالم تھا کہ میڈم نورجہاں کا گانا ”میری چیچی دا چھلا ماہی لالیا“سنا تو فریفتہ ہوگئے۔ایک شب اقلیم اختر عرف جنرل رانی سے پوچھنے لگے،تم نے یہ گانا سنا ہے۔اقلیم مسکرائی اور کہا میرے پاس یہ گانے سننے کا وقت نہیں یحیٰ نے اسی وقت اپنے ملٹری سیکریٹری کو بلایا اور کہا کہ اس گانے کی کیسٹ خرید کر لاؤ۔رات کے دو بج رہے تھے ملٹری سیکرٹری ایک دوکان کھلوا کر نورجہاں کی کیسٹ خرید کر لائے اور اقلیم اختر رانی کی خدمت میں پیش کی گئی۔اقلیم نے کہا،آغا جانی اگر آپ کو یہ اتنی ہی پسند ہے تو وعدہ رہا آپ کی برتھ ڈے پر نور جہاں بذات خود بطور تحفہ پیش کروں گی۔

جنرل یحیٰ خان کی رنگین مزاجی کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔مشرقی پاکستان میں بھارتی مداخلت کے پیش نظرجارحانہ طرزعمل اختیار کرتے ہوئے بھارت پر فضائی حملہ کرنے کا فیصلہ ہوامگر کمانڈر انچیف کے پاس ان غیر ضروری کاموں کے لیئے وقت کی شدید قلت تھی۔23نومبرکو چیف آف جنرل اسٹاف اور پاک فضائیہ کے سربراہ سپہ سالار یحیٰ خان کو گھسیٹ کر جی ایچ کیو کے آپریشن روم میں لے گئے مگر وہ بریفنگ لیکر واپس آگئے اور فضائی حملے کے وقت کا تعین نہ کیا جا سکا

کمانڈر انچیف کی منظوری لینے کے لیئے فیصلہ موخر ہوتا رہا مگر 3دسمبر کی شام پشاور ایئر فیلڈ سے پاک فضائیہ کے 12جنگی طیاروں نے اڑان بھری،ایک منٹ بعد سرگودھاایئر بیس سے 10جنگی جہاز بھارت پر
حملہ کرنے کے لیئے روانہ ہوئے۔ان جنگی جہازوں نے بھارت میں 500پونڈ کے 140بم گرائے۔جنرل آصف نواز کے بھائی شجاع نواز کی کتاب ”کراس سوارڈز“کے مطابق جنگ کا آغاز پاکستان نے کیا مگر امریکہ سمیت مغربی ممالک کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیئے ریڈیو پاکستان پر یہ خبر نشر کی گئی کہ بھارت نے مغربی پاکستان پر حملہ کر دیا ہے۔

سقوط ڈھاکہ کے بعد بھی اگر فوجی بغاوت نہ ہوتی تو یحیٰ خان اقتدار سے چمٹے رہتے مگر گوجرانوالہ میں تعینات سکس آرمرڈ ڈویژن کی طرف سے 19

دسمبر کو پیغام دیا گیا کہ اگر یحیٰ خان اور اس کا ٹولہ اقتدار سے الگ نہ ہوا تو راولپنڈی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی

کوارٹر ماسٹر جنرل میجر جنرل ابو بکر عثمان مٹھا جنہوں نے امریکہ کی مدد سے ایس ایس جی کمانڈوز کی پہلی یونٹ تیار کی تھی،انہوں نے یہ منصوبہ بھی بنایا کہ ایس ایس جی کی ایک کمپنی بھیج کر راولپنڈی پر چڑھائی کرنے کے لیئے آنے والوں کو جہلم کے قریب تراکی موڑ پر روک لیا جائے مگر ایس ایس جی کے گروپ کمانڈر بریگیڈئر غلام محمد نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اور یوں یحیٰ خان بہت بے آبرو ہو کر ایوان اقتدار سے نکلنے پر مجبور ہوئے

میجر جنرل ابوبکر عثمان مٹھا کا خیال ہے کہ اس فوجی بغاوت کے پیچھے میجر جنرل گل حسن کا ہاتھ تھا جو خود کمانڈر انچیف بننا چاہتے تھے،حقیقت کیا ہے،اس پر اگلی قسط میں بات کریں گے۔سبسکرائب کیجئے اور دیکھتے رہئے ہماریو ٹیوب ا چینل ”ترازو“۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*