outline

خواتین پر تشدد اور سدِباب-سید مجتبیٰ نقوی

خواتین کو عرصہ دراز سےہی اپنے حقوق کے لیے جتن کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جب بھی صنفِ نازک کی طرف سے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی گئی، ہمیشہ کوئی نہ کوئی غاصب اسکی آزادی سلب کرتا دکھائی دیا ہے۔ جیسا کہ آریائی دور میں عورت کو زہر کا پیالہ،اشوک دور میں ہوس پرستی کا مجسمہ ،عیسائیوں کے مطابق خدا کا عذاب ، یہودی انکو شیطان کا روپ اور ہندو پائوں کی جوتی سے تشبیہ دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ خواتین کے بنیادی حقوق کو بھی تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ اسلام نے عورتوں کو مردوں کے ساتھ برابری کے حقوق دیئے ہیں، پھر بھی ہر دور میں ایک طبقہ اسکی ترقی کی راہ میںحا ئل رہا، ان طبقات میں سے کچھ کا خیال یہ ہے کہ آزادی نسواں کا موجودہ سیلاب معاشرے کودرہم برہم کرنے کی افسوس ناک کوشش ہے جس قوم نے عورتوں کو ضرورت سے زیادہ آزادی دی اسے کبھی نہ کبھی اپنی غلطی پر ضرور پشیمائی ہوئی ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے ’’ ان کا عورتوں پر کوئی ایمان نہیں‘‘یعنی خواتین اپنے مخصوص فرائض مثلا امورِ خانہ داری میں بلند ذہنیت کا ثبوت نہیں دیتیںملکی امور میں کیا کرسکتی ہیں؟عورت کو دماغ کمزور ملا ہے اس کی تخلیقی قوت دماغ میں نہیں رحم میں ہے یعنی مرد دماغ سے تخلیق کرتا ہے اور عورت رحم سے ۔یہاں تک کہہ دیا گیا، جس قوم نے عورت کو ضرورت سے زیادہ آزادی دی وہ کبھی نہ کبھی اپنی غلطی پر پچھتائی ضرور ہے۔عورت کا اصل کام آئندہ نسل کی تربیت ہے اسے ٹائپسٹ یا کلرک بنا دینا قانونِ فطرت کی خلاف ورزی ہے ۔ایسے طبقات یا خیالات کے لوگوں کی بات سچ مان بھی لی جائے تب بھی خواتین کی آزادی بنیادی حقوق کی تلفی اور ان پر تشدد قابلِ مذمت ہے۔

پاکستان میں بہر حال آج کی عورت ہر میدان میں مرد کے شانہ بشانہ بلکہ کئی جگہوں پر مرد سے آگے نکل کر اپنا کردار ادا رہی ہے۔پاکستان کے تقریبا ًہر شعبہ میں انکی نمائندگی بڑھ چڑھ کر نظر آتی ہے۔

خواتین پر تشدد انکی حق تلفی ان پر معاشی اور سماجی پابندیاں لگانے کا رواج پاکستان میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے آج بھی پاکستان میں عورت کو پائوں کی نوک پر رکھا اور پرکھا جاتا ہے آج بھی پاکستان کے جنوبی علاقوں میں وونی اور کاروکاری کی رسمیں ادا کی جا رہی ہیں۔ آج جب خواتین کے حقوق کا بل پاس ہوچکا ہے پھر بھی ناک کان کاٹنے تیزاب پھینکنے جیسے انتہائی اقدامات دیکھنے کو مل رہے ہیں نام نہاد جرگوں کے فیصلوں کی بھینٹ چڑھنے اور جائیداد اپنے پاس رکھنے کی وجہ سے آج بھی عورتوں کی قرآن سے شادی کروائی جا رہی ہے۔تشدد کی انتہا ء دیکھیں، عورتوں کی عصمت درازی کی جاتی ہے پھر ان کو باندھ کر ان پر پالتو کتے چھوڑ دئیےجاتے ہیںجو ان کے جسموں کو نوچ ڈالتے ہیں ۔

پاکستان کے علاوہ دنیا بھر کی بات کی جائے، وہاں بھی خواتین پر تشدد کیا جانا عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق جاپان میں13فیصد خواتین نے گھریلو تشدد کا اعتراف کیا ہےجبکہ ایتھوپیا میں یہ تعداد 50فیصد سے زیادہ ہوگئی ہے۔ دنیا بھر میں50 فیصد خواتین ایسی ہیں جن کی جانب سے جسمانی تشدد کی اطلاع دی گئی۔کئی خواتین نے بہت زیادہ خطرناک حقائق سے آشکار کیا مثلاً ان کو حمل کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔خواتین کی انتہائی رپورٹ کے مباطق ان کو بہت زیادہ جسمانی چوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ، گھریلو تشدد جسمانی چوٹ سے زیادہ اذیت ناک ہونے کا پتہ دیتا ہے۔

ایک حیران کن سروے کے مطابق بعض معاشروں میں گھریلو تشدد قابلِ قبول فعل ہے ، اس بات کی باقاعدہ گواہی ملتی ہے کہ بعض خواتین کہتی ہیں ، ان پر انکے شوہروں کا تشددصحیح تھا۔ بھارت میںگھریلو تشدد میں حیران کن طور پر اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ان میں ملک کے اونچے طبقے کی خواتین بھی تشدد کا شکار بن رہی ہیں،ان میں بیشتر خواتین ایسی ہیں جو ا علیٰ عہدوں پر فائز ہیں،گھریلو تشدد کی زد میں آنے والی اکثر خواتین کا تعلق حیرت انگیز طور پر اُنچے طبقے کے تعلم یافتہ خاندانوں سے ہے

جنوبی ایشیا میں خواتین کو کمتر سمجھا جاتا ہے تشدد کا ذکر آتے ہی غیر تعلم یافتہ ،غریب ،اور ایسی خواتین کی تصویر ابھرتی ہے جو اپنے شوہروں پر انحصار کرتی ہیں ۔جنوبی ایشیا خصوصاً بھارت میں ہر پانچ میں سے ایک عورت تشدد کا نشانہ بنتی ہے۔اس تشدد کی وجہ؟’’بدمزہ کھانے سے لیکر بدچلنی کا شبہ‘‘

ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا بھر میں ہر آٹھ میں سے ایک عورت کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔یہاں تک کہ ہر اٹھارہ سیکنڈ میں ایک عورت پر تشدد کیا جاتا ہے۔عورت جسے وفا کی دیوی ، امن کی علامت ، حسن کا مجسمہ ، کامیابی کی علامت ،حسن کی کرشمہ سازی ،اور مرد کو خدا کی بہترین نعمت کہا جاتا ہے اس پر تشدد قابلِ مذمت ہے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے لئےقانون کو قابلِ عمل بنانے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں ان کے حقوق کی پامالی نہ کرنا ضروری ہے، ان کے حقوق کی خاطر اقومِ عالم میں آواز بلند کی جائے جسکی وجہ سے جاپان ایتھوپیا ، بنگلہ دیش ، بھارت ، پاکستان ، امریکہ روس سمیت کئی اہم ممالک میں خواتین پر تشدد میں کمی لائی جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*