تازہ ترین
outline
kyn nikala

پاکستانی سیاست میں مشہور ہونیوالے دلچسپ جملے

اسلام آباد(آؤٹ لائن ڈیسک)’پہلی بات ہی آخری تھی اس سے آگے بڑھی نہیں۔ ‘ منیر نیازی مرحوم کا یہ شعر شاید نا اہل قرار دیے جانے والے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف پر بھی صادق آتا ہے۔ اگرچہ نا اہلی سے پہلے اور نا اہلی کے بعد ان کے کئی جملے مشہور ہوئے ہیں لیکن ‘مجھے کیوں نکالا’ کی گونج پاکستانی سیاست میں ہمیشہ رہے گی۔ اس سے پہلے ان کا جملہ ‘میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا’ بہت مقبول ہوا اور شاید ان کو مہنگا بھی پڑ گیا تھا۔

جب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے مرحوم حبیب جالب کی نظم ‘اس دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا’ کو اپنی ایک تقریر میں استعمال کیا تو بہت سے سننے والے مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔
محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد ان کے شوہر سابق صدر آصف علی زرداری کا نعرہ ‘پاکستان کھپے’ نے عوام میں بہت پذیرائی حاصل کی۔ اس کے علاوہ ان کا جملہ ‘شریفوں کو نہیں بھولنا چاہیے کہ میں نے مشرف کو دروازہ دکھا کہ انھیں شیر بنایا ہے’ بھی بہت مقبول ہوا۔

آصف زرداری کا اینٹ سے اینٹ بجا دینا والا فقرہ بھی مشہور ہوا اور اس کے بعد وہ کافی عرصے تک ملک سے باہر بھی رہے۔

سابق آرمی چیف، سابق صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ پرویز مشرف کو جملوں کا ‘آرمی چیف’ کہا جا سکتا ہے۔ شاید کسی آرمی چیف کے جملوں کو اتنا زیادہ نہ دہرایا گیا ہو جتنا کہ پرویز مشرف کے۔ دوست تو اکثر یہ کہہ کر ایک دوسرے کو چھیڑتے ہیں کہ ‘میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ہوں’۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا نعرہ ‘تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آ گئی ہے’۔ اس کے علاوہ ‘ایمپائر کی انگلی’ اور ‘سونامی آ گئی ہے’ بھی کافی مقبول ہوئے۔

صحافی پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ شجاعت حسین کا ‘مٹی پاؤ’ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔چوہدری نثار کا جملہ بچے صرف بچے ہوتے ہیں، وہ رہنماؤں کے طور پر قبول نہیں کیے جا سکتے۔’اسی طرح سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کا فقرہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہے یونیورسٹی کی ہو یا تھرما میٹر کی۔’

اپنا تبصرہ بھیجیں

آپکا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا

*